We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

کرتے تھے ۔ کتابت حدیث کی ممانعت کی جو احادیث مروی ہیں ان میں احادیث لکھنے کی جو ممانعت کی گئی ہے اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ لوگ تحریر پر بھروسہ کرکے احادیث کو یاد کرنے میں سستی نہ کرنے لگیں ۔

       احادیث کی حفاظت کیلئے عہد نبوی میں مسلسل کوششیں ہوتی رہیں لیکن جس طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عہد صدیقی میں قرآن حکیم  سے متعلق یہ محسوس کیاتھا کہ گو قرآن حکیم مسلمانوں کے سینوں میں بھی محفوظ ہے اور مختلف اشیاء پر کتابت شدہ شکل میں بھی کاشانۂ نبوت اور کئی صحابہ کرام کے پاس بھی موجود ہے لیکن اسکے باوجود وقت کا تقاضاہے کہ قرآن حکیم کو باقاعدہ ایک صحیفے کی شکل میںجمع کردیا جائے ،بعینہ اسی طرح خلیفۂ برحق ، امام عادل ،ثانی فاروق حضرت عمر بن عبداللہ العزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں یہ بات شدت سے محسوس کی کہ حفاظت احادیث کیلئے  جو کوششیں پہلے ہوتی رہی ہیں ،گو ماضی میں تو وہ احادیث کی حفاظت کے مقصد کیلئے کافی تھیں لیکن حالات کے بدلتے ہوئے تقاضے احادیث کی باقاعدہ تدوین کا مطالبہ کرتے ہیں ۔اسی احساس کی وجہ سے انہوں نے سو ہجری میں حضرت ابوبکر بن

حزم والئی مدینہ کو مندرجہ ذیل حکم بھیجا :۔

       انظر ماکان من حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فاکتبہ فانی خفت دروس العلم وذہاب العلماء ولاتقبل الاحدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ولیفشوا العلم ولیجلسوا حتی یعلم من لایعلم  فان العلم لایہلک حتی یکون سراً وکذلک کتب الی عمالہ فی امہات المدن الاسلامیۃ بجمع الحدیثْ

       ’’ حضور کریم علیہ  الصلوۃ والتسلیم کی احادیث کو نہایت احتیاط سے لکھ دو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں علم آثار مٹ نہ جائیں اورعلماء اس دارفانی سے رخصت نہ ہوجائیں ۔اور رسول کریم  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم کے قول کے بغیر کسی کا قول قبول نہ کرنا چاہیئے ۔ علماء علم کو

 پھیلا یئں اور جو ناواقف ہیں ، ان کو سکھانے کیلئے بیٹھ جائیں کیوں کہ علم اگر راز ہوجائے (یعنی چیدہ چیدہ لوگ اس سے واقف ہوں )تو اسکی فنا یقینی ہے ۔ اسی طرح آپ نے مملکت اسلامیہ

کیمشہور شہروں کے والیوں کی طرف بھی حدیث جمع کرنے کے احکام صادرفرمائے ۔‘‘

       حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے والئی مدینہ حضرت ابوبکر بن حزم کے نام جو فرمان لکھا اس میں خصوصی طورپر یہ تاکید بھی تھی کہ وہ ان احادیث کو لکھ  کر انکی طرف روانہ کریں جو حضرت عمر ہ بنت