Book Name:Imam Pak Aur Yazeed Paleed

(امام حسن اور امام حسین رَضِی اللہُ عَنْہُمَا) سے محبت کی ، اس نے مجھ سے محبت کی  وَ مَنْ اَبْغَضَہُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِی اور جس نے ان دونوں سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی([1])* رسولِ اَکْرم ، نُورِ مجسم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرمایا کرتے : ہُمَا رَیْحَانَتَایَ مِنَ الدُّنْیا (یعنی )حَسَن اورحُسَیْن دُنیا میں میرے دو پھول ہیں ([2])* پیارے آقا ، سَیِّدُ الاْنبیا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  امام حَسَن اور امام حُسَیْن رَضِی اللہُ عَنْہُمَا کو سُونگھا کرتے اور سینے سے لپٹاتے تھے۔ ([3])

کیا بات رضا اُس چمنستانِ کرم کی                  زَہراء ہیں کلی جس میں حُسَیْن اور حَسَن پھول([4])

وضاحت : اے رَضا! اُس عِزَّت والے ، کَرْم والے باغ (یعنی خاندانِ مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم) کی کیا بات ہے کہ جس میں حضرت فاطمہ زَہْرا رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کلی ہیں اور حَسَنَیْنِ کَرِیْمَیْن رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا پھول ہیں۔

سیدی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ ایک اَور مقام پر بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں :

اُن دو کا صدقہ جن کو کہا میرے پھول ہیں       کیجئے رضا کو حشر میں خنداں مثالِ گُل([5])

 وضاحت : یارسُول اللہ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم! حَسنین کَرِیْمَیْن جن کو آپ نے اپنا پھول فرمایا ہے ، ان کا واسطہ حشر میں رضا پر ایسا کرم فرمائیے کہ رضا پھول کی طرح کھِل اُٹھے۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب!                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

پیارے اسلامی بھائیو! امام حُسَین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی وِلادت کے ساتھ ہی آپ کی شہادت کی خبر بھی مشہور ہو گئی تھی ، حضرت جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہو کر خبر دی کہ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ کے نواسے کو آپ کی اُمَّت شہید کر دے گی ، حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے آپ کے مقامِ شہادت یعنی کربلا کی مٹی بھی بارگاہِ رسالت میں پیش کی۔ ([6])


 

 



[1]...معجم کبیر، جلد:2، صفحہ:182، حدیث:2581۔

[2]...ترمذی، ابواب:المناقب، باب:مناقب ابی محمد حسن بن علی، صفحہ:856، حدیث:3777۔

[3]...ترمذی، ابواب:المناقب، باب:مناقب ابی محمد حسن بن علی، صفحہ:856، حدیث:3779۔

[4]...حدائق بخشش، صفحہ:79۔

[5]...حدائق بخشش، صفحہ:77۔

[6]...سوانح کربلا، صفحہ:106۔