Book Name:Imam Pak Aur Yazeed Paleed

بیعت لینے کا کہا ، وَلِیْد نے رات ہی کو امام حُسَیْن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے پاس پیغام پہنچایا ، امام حُسَیْن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَلِیْد کے پاس تشریف لائے ، وَلِیْد نے یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا ، اس پر امام حُسَیْن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ  نے یزید کی بیعت نہ کی بلکہ اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ رَجب سے لے کر ذو الحج تک یعنی تقریباً 5 مہینے امام حُسَیْن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مکہ مکرمہ میں رہےاور اس دوران خاموشی اختیار فرمائی۔ ان 5 مہینوں میں کُوفہ والوں کی طرف سے مسلسل خط آئے ، کُوفہ والے درخواست کرتے تھے : عالی جاہ! یزید سخت فاسِق اور ظالِم ہے ، ہم اس کی بیعت نہیں کرنا چاہتے ، اس وقت رُوئے زمین پر صِرْف آپ ہی خِلافت کے حق دار ہیں ، آپ ہی یزید کو ظُلْم و ستم سے رَوک سکتے ہیں ، آپ تشریف لائیے ، ہم آپ کی بیعت کریں گے ، آپ کے لئے تَن ، مَنْ ، دَھن کی بازی لگا دیں گے۔

اب شرعی مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف نااَہْل ہو ، دوسری طرف خِلافت اور عہدے کا اَہْل ہو ، مسلمان اُس اَہْل کو عرض کریں کہ آپ یہ منصب قبول کیجئے تاکہ اُمَّت نااَہْل کے ظلم و ستم سے بچ جائے ، اس صُورت میں جو خِلافت اور منصب کا اَہْل ہے اس پر ضروری ہے کہ وہ منصب کو قبول کرے تاکہ مَظْلُوموں کی مدد ہو۔ جب کُوفہ والوں نے امام حُسَیْن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی خِدْمت میں خط بھیج کر بار بار مطالبہ کیا تو اب امام حُسَیْن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے لئے شَرْعاً لازِم تھا کہ آپ یزید کے خِلاف عملی اقدام کرتے ، ورنہ کُوفہ والے روزِ قیامت یہ عُذْر کرتے کہ یا اللہ پاک! ہم نے امام حُسَیْن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کی خِدْمت میں بار بار عرض کی تھی ، جب امام حُسَیْن تشریف نہ لائے تو ہم مجبور ہو گئے اور یزید چاہے ظالِم تھا ، فاسِق تھا ، ہمیں اس کی بیعت کرنی پڑی۔

اس لئے جب شَرْعًا لازِم ہو گیا تو امام حُسَیْن رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے اس وقت حکمتِ عملی اختیار فرمائی اور کُوفہ کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے اپنے چچا زاد بھائی امام مُسْلِم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کو کُوفے بھیجا۔