Share this link via
Personality Websites!
اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی جان حضرت اُمِّ حکیم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کے نواسے ہیں یا یُوں کہہ لیجئے کہ ذرا دُور کے رشتے سے مالِکِ جنّت ، قاسِمِ نعمت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بھانجے لگتے ہیں *سابقینِ اَوَّلِیْن میں سے ہیں یعنی ابتداء ہی میں اسلام قبول کر کے دائرۂ اسلام میں داخِل ہو گئے تھے ، اسلام قبول کرنے میں آپ کا چوتھا یا پانچواں نمبر ہے ، *عشرہ مبشرہ (یعنی زبانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جنّت کی بشارت پانے والے 10 صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) میں سے ہیں *سرکار اعظم ، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے اتنی محبت فرماتے تھے کہ آپ نے ایک ، ایک کر کے اپنی 2 شہزادیاں حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے نِکاح میں دیں۔ ([1]) اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
نُور کی سرکار سے پایا دوشالہ نُور کا ہو مُبَارک تُم کو ذُو النُّوْرَیْن جوڑا نُور کا([2])
*حدیثِ پاک میں ہے : اللہ پاک نے مجھے وَحْی فرمائی کہ میں اپنی دو بیٹیوں کا نِکاح عثمان سے کروں۔ ([3])*ایک حدیثِ پاک میں فرمایا : اگر میری 100 بیٹیاں ہوتیں ، ان میں سے ایک کی وفات ہوتی تو میں دوسری عثمان کے نِکاح میں دیتا ، اس کا انتقال ہوتا تو میں تیسری عثمان کے نِکاح میں دیتا ، یہاں تک کہ میں اپنی 100 کی 100 شہزادیاں ایک ایک کر کے عثمان کے نِکاح میں دے دیتا۔ ([4]) *مولائے کائنات ، مولیٰ علیرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ سے حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے متعلق سُوال ہوا تو فرمایا : عثمان وہ ہیں کہ انہیں فرشتے “ ذُوالنُّوْرَیْن “ کہتے ہیں ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے داماد ہیں ، پیارے آقا ، مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami