Book Name:Walion K Sardar

ہمارے پیارے آقا دوعالم کے داتا  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نماز کا عالم یہ تھا کہ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا فرماتی ہیں : رحمتِ عالم ، محبوب ربِ اعظم  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم سے اور ہم آپ سے گفتگو کررہے ہوتے لیکن جب نماز کا وقت ہوتا تو ہم ایسے ہوجاتے گویاآپ ہمیں نہیں پہچانتے اور ہم آپ کو نہیں پہچانتے ۔ [1] حضرت سیِّدُنا ابراہیم خَلِیْلُ اللّٰہ عَلَیْہِ السَّلَام  جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے توآپ کے دل کی دھڑکن 2مِیل کی مسافت سے سنائی دیتی۔ [2]بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی نماز میں حَالَت  ایسی ہوتی کہ  وہ رُکوع میں اتنے پُرسکون ہوتے کہ ان پر چڑیاں بیٹھ جاتیں گویا وہ بے جان چیزوں  میں سے ہیں ۔ [3] جبکہ بعض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان فرماتے ہیں : بروز ِقیامت لوگ نماز والی کَیْفِیَّت پر اُٹھائے جائیں گے یعنی نماز میں جس کو جتنا اطمینان وسُکون حاصل ہوتا ہے اسی کے مطابق ان کا حشر (یعنی اٹھایا جانا)ہوگا۔ [4]

دورانِ نمازبچّھو نے 40ڈنک مارے

حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مبارَک رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  فرماتے ہیں : مجھے اپنے بچپن میں دیکھی ہوئی ایک عبادت گزار خاتون اچھی طرح یاد ہے کہ نماز کی حالت میں بِچُّھو نے انہیں چالیس(40) ڈنک مارے مگراس اللہ کی بندی کی حالت میں ذرا بھی فرق نہ


 

 



[1]    احیاء العلوم  ج۱ص ۲۰۵

[2]    الجامع لاحکام القرآن ، پ۱۱ ، سورۃ براء ۃ ، تحت الآیۃ : ۱۱۴ ، ج۸ ، ص۱۵۹۔

[3]    احیاء العلوم ج۱ص۲۲۸ ، ۲۲۹

[4]    احیاء العلوم ج۱ص ، ۲۲۲