- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نہ قائم ہوگی قیامت حتی کہ زمین میں اللہ اللہ نہ کہا جاوے گا ۱∞؎اور ایک روایت میں ہے کہ اس شخص پر قیامت نہ قائم ہوگی جو اللہ اللہ کہتا ہو ۲؎(مسلم)
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الأَرْضِ: اللَّهُ اللَّهُ". وَفِي رِوَايَةٍ: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى أَحَدٍ يَقُولُ: اللَّهُ اللَّهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5516 ، باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی مگر بدترین مخلوق پر ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ الْخَلْقِ". رَوَاهُ مُسلم.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5517 ، باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ دوس کی عورتوں کے چوتڑ ذی الخلصہ کے اردگرد تھل تھل ہوں گے ۱∞؎اور ذوالخلصہ دوس کا وہ بت ہے جس کی وہ زمانہ جاہلیت میں پوجا کرتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ". وَذُو الْخَلَصَةِ: طَاغِيَةُ دَوْسٍ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5518 ، باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ رات و دن ختم نہ ہوں گے حتی کہ لات و عزیٰ کی پرستش کی جانے لگے ۱∞؎میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں گمان کرتا تھا کہ جب یہ آیت کریمہ اتری کہ وہ اللہ وہ ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور حق دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرکین ناپسند کریں کہ یہ لازوال ہے۲؎فرمایا کہ جس قدر اللہ چاہے گا تب تک رہے گا۳؎پھر اللہ تعالٰی ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا تو ہر وہ شخص وفات دے دیا جاوے گا۴؎جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہے تو وہ باقی رہ جائیں گے،جن میں بھلائی نہیں وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے ۵؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزَّى". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأَظُنُّ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ: {هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ} أَنَّ ذَلِكَ تَامًّا. قَالَ: "إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتُوُفِّيَ كُلُّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَيَبْقَى مَنْ لَا خَيْرَ فِيهِ فَيَرْجِعُونَ إِلَى دِين آبَائِهِم". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5519 ، باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دجال نکلے گا تو چالیس تک پھرے گا میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا مہینے یا سال ۱∞؎پھر اللہ تعالٰی عیسیٰ ابن مریم کو بھیجے گا گویا وہ عروہ ابن مسعود ہیں۲؎آپ اسے تلاش کریں گے ہلاک کردیں گے پھر آپ لوگوں میں سات سال ٹھہریں گے۳؎کہ دو شخصوں کے درمیان دشمنی نہ ہوگی۴؎پھر اللہ ایک ٹھنڈی ہوا شام کی طرف سے بھیجے گا ۵؎تو روئے زمین پر کوئی نہ رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی یا ایمان ہو مگر وہ ہوا اسے وفات دیدے گی حتی کہ اگر تم میں سے کوئی وسط پہاڑ میں داخل ہوجائے تو وہ اس تک داخل ہوگی کہ اسے وفات دیدے گی ۶؎فرمایا پھر بدترین لوگ ہی رہ جائیں گے چڑیوں کی طرح ہلکے درندوں کی سی والے ۷؎نہ کسی اچھی بات کو جانیں گے نہ کسی برائی کو برا جانیں گے۸؎ان کے پاس شیطان انسانی شکل اختیار کے آوے گا کہے گا تم شرم کیوں نہیں کرتے ۹؎وہ کہیں گے تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے وہ انہیں بت پرستی کا حکم دے گا۱۰؎وہ اس حال میں ہوں گے ان کا رزق بہتا ہوگا ان کا عیش خوب ہوگا ۱۱∞؎پھر صور پھونکا جاوے گا تو اسے کوئی نہیں سنے گا مگر گردن کبھی جھکائے گا اور کبھی اٹھائے گا ۱۲؎فرمایا پہلا جو شخص سنے گا وہ شخص ہوگا جو اپنے اونٹ کا حوض پیتا ہوگا ۱۳؎پھر لوگ بے ہوش ہوجائیں گے۱۴؎پھر اللہ شبنم کی طرح بارش بھیجے گا تو اس سے لوگوں کے جسم اُوگیں گے ۱۵؎پھر صور میں دوبارہ پھونکا جاوے گا تو اچانک سب لوگ کھڑے دیکھتے ہوں گے۱۶؎پھر کہا جاوے گا اے لوگو اپنے رب کی طرف چلو انہیں ٹھہراؤ ان سے پوچھ گچھ کی جاوے گی ۱۷؎پھر کہا جاوے گا آگ کی رسد نکالو تو کہا جاوےگا کتنی سے کتنی تو فرمایا جاوے گا ہر ہزار سے نو سو ننانونے ۱۸؎فرمایا کہ وہ وقت ہوگا جو بچوں کو بڈھا کر دے گا اور یہ وہ دن ہوگا جب پنڈلی کھولی جاوے گی ۱۹؎(مسلم)اور جناب معاویہ کی حدیثلاتنقطع الھجرۃتوبہ کے باب میں ذکر کردی گئی ۲۰؎
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ" لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ عَامًا "فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ، ثُمَّ يَمْكُثُ فِي النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَهُ" قَالَ: "فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ، لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ: أَلَا تَسْتَحْيُونَ؟ فَيَقُولُونَ: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الأَوْثَانِ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا"قَالَ: "وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ، فَيَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلى رَبِّكُمْ قِفُوهُمْ إِنَّهم مَسْؤُولُونَ فَيُقَالُ: أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ. فَيُقَالُ: مِنْ كَمْ كَمْ؟فَيُقَالُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِئَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ" قَالَ: "فَذَلِكَ يَوْمٌ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا، وَذَلِكَ يَوْمٌ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.وَذُكِرَ حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ: "لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ" فِي "بَاب التَّوْبَة".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5520 ، باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر