- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
باب: ہنسنے کا باب
اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا ہنستے نہ دیکھا حتی کہ میں آپ کے انتہائی تالو دیکھ لیتی ۱∞؎آپ مسکرایا کرتے تھے ۲؎(بخاری)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتّٰى أَرٰى مِنْهُ لَهَوَاتِهٖ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4745 ، باب: ہنسنے کا باب
روایت ہے حضرت جریر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ جب سے مسلمان ہوا مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ نہ کیا ۲؎اور مجھے نہ دیکھا مگر تبسم فرمایا ۳؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ جرير قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4746 ، باب: ہنسنے کا باب
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ اٹھتے تھے اپنے اس مصلے سے جس میں فجر کی نماز پڑھتے حتی کہ سورج طلوع ہوجاتا پھر جب سورج طلوع ہوجاتا تو اٹھتے اور لوگ باتیں کرتے تھے تو جاہلیت کے زمانہ کے کاموں کے ذکر میں مشغول ہوجاتے تو ہنستے تھے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے تھے ۱∞؎(مسلم)اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ وہ حضرات اشعار پڑھتے تھے۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَكُوْنَ وَيَتَبَسَّمُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيْ: يَتَنَاشَدُوْنَ الشِّعْرَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4747 ، باب: ہنسنے کا باب
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن حارث ابن جزء سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو نہ دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تبسم والا ہو ۲؎(ترمذی)
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4748 ، باب: ہنسنے کا باب
روایت ہے حضرت قتادہ سے کہ حضرت ابن عمر سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ہنستے تھے ۱∞؎فرمایا ہاں حالانکہ ایمان ان کے دلوں میں پہاڑ سے بڑا تھا ۲؎اور بلال ابن سعد نے کہا ۳؎کہ میں نے صحابہ کو پایا کہ وہ نشانوں کے درمیان دوڑ لگاتے تھے اور ان کے بعض بعض سے ہنسی کرتے تھے جب رات ہوتی تو راہب(تارک الدنیا)بن جاتے تھے ۴؎(شرح سنہ)
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ: هَلْ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ وَالْإِيمَانُ فِي قُلُوبِهِمْ أَعْظَمُ مِنَ الْجَبَلِ. وَقَالَ بِلَالُ بْنُ سَعْدٍ: أَدْرَكْتُهُمْ يَشْتَدُّونَ بَيْنَ الْأَغْرَاضِ وَيَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلٰى بَعْضٍ فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ كَانُوا رُهْبَانًا. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4749 ، باب: ہنسنے کا باب