باب: وسوسہ (برے خیالات )

ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یقینًا اللہ تعالٰی نے میری امت سے ان کے دلی خطرات میں درگزر فرمادی ۱؎جب تک کہ اس پر کام یا کلام نہ کرلیں ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِيْ مَا وَسْوَسَتْ بِهٖ صُدُوْرُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهٖ أَوْ تَتَكَلَّم»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 63 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے انہیں سےفرماتے ہیں کہ حضور کے صحابہ میں سے کچھ حضرات حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھنے لگے کہ ہم اپنے دلوں میں ایسے خیالات محسوس کرتے ہیں کہ انہیں بیان کرنا بہت بڑا گناہ معلوم ہوتا ہے ۱؎فرمایاکہ کیا تم نے یہ بات پائی ہے ۲؎عرض کیا ہاں فرمایا یہ کھلا ہوا ایمان ہے ۳؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ فَسَأَلُوهُ: إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهٖ. قَالَ: «أَوَ قَدْ وَجَدْتُمُوْهٗ» قَالُوْا: نَعَمْ. قَالَ: «ذٰلِكَ صَرِيْحُ الْإِيْمَانِ» . رَوَاهُ المُسْلِمُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 64 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتاہے ۱؎تو اس سے کہتا ہے کہ فلاں چیز کس نے پیدا کی فلاں کس نے؟یہاں تک کہ کہتا ہے تمہارے رب کوکس نے پیدا کیا۲؎جب اس حد کو پہنچے تواعوذ بااللّٰہپڑھ لو اور اس سے باز رہو۳؎(بخاری،مسلم)

وَعَنْهٗ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ كَذٰا مَنْ خَلَقَ كَذٰا حَتّٰى يَقُولَ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ فَإِذَا بَلَغَهٗ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللّٰهِ وَالْيَنْتَهِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 65 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے رہیں گےیہاں تک کہ کہا جاوے گا کہ یہ مخلوق تو اللہ نے پیداکی تو اللہ کوکس نے پیدا کیا ۱؎تو جو ان میں سے کچھ پائے وہ کہے میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۲؎(بخار ی،مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُوْنَ حَتَّى يُقَالَ هٰذَا خَلَقَ اللّٰهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ الله فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذٰلِكَ شَيْئًا فَلْيَقُلْ: اٰمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 66 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ فرمایانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں ایسا کوئی نہیں جس پر ایک ساتھی جن اور ایک ساتھی فرشتہ مقرر نہ ہو ۱؎لوگوں نےپوچھا یارسول اللہ آپ پر بھی فرمایا مجھ پربھی ۲؎لیکن رب نے مجھے اس پر مدد دی جس سے وہ مسلمان ہوگیا اب وہ مجھے بھلائی ہی کا مشورہ دیتا ہے۳؎

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهٖ قَرِيْنُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ. قَالُوا: وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: وَإِيَّايَ وَلَكِنَّ اللهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِيْ إِلَّا بِخَيْرٍ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 67 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان انسان کے خون کے ٹھکانوں میں گردش کرتا ہے ۱؎(بخاری،مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِيْ مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 68 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی آدمی زادہ ایسا نہیں ۱؎جسے پیدائش کے وقت شیطان چھوتا نہ ہو وہ بچہ شیطان کے چھونے سے ہی چیختا ہے ۲؎سواء مریم اور ان کے فرزند کے۳؎(بخاری و مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلَّا يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ حِيْنَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ غَيْرَ مَرْيَمَ وَابْنِهَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 69 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے انہیں سے فرماتےہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر گرتے وقت بچہ کی چیخ شیطان کی چوکھ سےہے ۱؎

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «صِيَاحُ الْمَوْلُودِ حِينَ يَقَعُ نَزْغَةٌ من الشَّيْطَانِ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 70 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے حضرت جابرسےفرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے ۱؎پھر اپنے مختلف لشکر کو لوگوں میں فتنہ میں ڈالنے کے لیئے بھیجتا ہے ۲؎ان میں قریب تر درجہ والا وہ ہوتا ہے جو بڑا فتنہ گرہو۳؎ان میں سے آکر ایک کہتا ہے کہ میں نے فلاں فلاں فتنہ پھیلایاابلیس کہتا ہے کچھ نہیں پھر اور دوسرا آکر کہتاہے کہ میں نے فلاں کو اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ اس میں اور اس کی بیوی میں جدائی نہ ڈال دی۴؎فرمایا ابلیس اسے پاس بٹھاتا ہے اور کہتا ہے تو بہت ہی اچھا ہے اعمش فرماتے ہیں مجھے خیال ہے کہ فرمایا اسے چمٹا لیتا ہے ۵؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ يَبْعَث سَرَايَاهٗ یَفْتِنُوْنَ النَّاسَ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلَتُ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَكْتُهُ حَتّٰى فَرَّقَتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهٖ قَالَ فَيُدْنِيْهِ مِنْهُ وَيَقُولُ نِعْمَ أَنْتَ قَالَ الْأَعْمَشُ أَرَاهُ قَالَ «فَيَلْتَزِمْهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 71 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان اس سے تو مایوس ہوچکا کہ عرب کے نمازی اسے پوجیں ۱؎لیکن انہیں آپس میں بھڑکانے میں مشغول ہے ۲؎(مسلم)

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ مِنْ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِيْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَلَكِنَّ فِي التَّحْرِيْشِ بَيْنَهُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 72 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے ابن عباس سے کہ حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور بولا کہ میں اپنے دل میں ایسے خیالات محسوس کرتا ہوں کہ وہ بولنے سے جل کر کوئلہ ہوجانا زیادہ پسند ہے ۱؎فرمایا خدا کا شکر ہے جس نے ان خیالات کو وسوسہ بنادیا ۲؎(ابوداؤد)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهٗ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِيْ بِالشَّيْءِ لَأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهٖ. قَالَ: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهٗ إِلَى الْوَسْوَسَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 73 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہےحضرت ابن مسعودسے فرماتےہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان میں شیطان کا بھی اثر ہے ۱؎اور فرشتہ کا بھی شیطان کا اثر تو مصیبت سے ڈرانا اور حق کا جھٹلاناہے ۲؎لیکن فرشتہ کا اثر خیر کا وعدہ کرنا اورحق کی تصدیق کرناہے۳؎جو یہ آخری بات محسوس کرے وہ جان لے کہ یہ رب کی طرف سےہے خدا کا شکرکرے۴؎اورجووہ دوسری چیز محسوس کرے وہ مردودشیطان سے الله کی پناہ مانگے۵؎پھر یہ تلاوت کی کہ شیطان تمہیں فقیری سے ڈراتا اور بے حیائی کا مشورہ دیتا ہے۔ ترمذی نے روایت کی اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لِلشَّيْطَانِ لَمَّةٌ بِاِبْنِ آدَمَ وَلِلْمَلَكِ لَمَّةً فَأَمَّا لَمَّةُ الشَّيْطَانِ فَإِيعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيبٌ بِالْحَقِّ وَأَمَّا لَمَّةُ الْمَلَكِ فَإِيعَادٌ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالْحَقِّ فَمَنْ وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَعْلَمْ أَنَّهُ مِنَ اللهِ فَلْيَحْمَدِ اللهَ وَمَنْ وَجَدَ الْأُخْرٰى فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ثُمَّ قَرَأَ (الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمُ بِالْفَحْشَاءِ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 74 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں فرمایا لوگ پوچھ گچھ کرتے رہیں گے حتی کہ یہ کہا جاوے گا کہ مخلوق کو خدا نے پیدا کیا تو خدا کو کس نے پیدا کیا ۱؎جب یہ کہیں تو تم کہہ دینا الله ایک ہے،بے نیاز ہے،نہ جنا،نہ جنا گیا،اور نہ کوئی اس کے برابر کا ۲؎پھر اپنے بائیں طرف تین بار تھتکار دے۔اور مردود شیطان سے الله کی پناہ مانگے ۳؎یہ ابوداؤدنے روایت کی ہم عمرو ابن احوص کی حدیثان شاءاللّٰہ تعالٰیبقرعید کے خطبہ کے باب میں ذکرکریں گے۔

وعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتّٰى يُقَالَ: هَذَا خَلَقَ اللّٰهُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللهَ فَإِذَا قَالُوْا ذٰلِكَ فَقُوْلُوْا اَللهُ أَحَدٌ اَللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهٗ كُفُوًا أَحَدٌ ثُمَّ لِيَتْفَلْ عَنْ يَسَارِهٖ ثَلٰثًاوَلْيَسْتَعِذْبِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِیْمِ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ سَنَذْکُرُ حَدِیْثَ عَمْرِو ابْنِ الْأَحْوَصِ فِيْ بَابِ خُطْبَةِ يَوْمِ النَّحْرِ إِنْ شَاءَاللهُ تَعَالىٰ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 75 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگ پوچھتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہہ بیٹھیں گے کہ الله نے ہرچیز پیدا کی تو الله کو کس نے پیدا کیا یہ بخاری کی روایت ہے اورمسلم کی روایت میں ہے کہ فرماتے ہیں الله عزوجل نے فرمایا کہ یقینًاتمہاری امت ۱؎کہتی رہے گی یہ کیسا یہ کیسا ۲؎یہاں تک کہ یہ کہہ دیں گے کہ الله نے مخلوق پیدا کی الله کو کس نے پیدا کیا؟

عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَنْ يَبْرَحَ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتّٰى يَقُولُوْا هَذَا اللهُ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَمَنْ خَلَقَ اللهَ عَزَّوَجَلَّ » .رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَ لِمُسْلِمٍ: قَالَ: قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يَزَالُوْنَ يَقُولُونَ: مَا كَذَامَا كَذَاحَتّٰى يَقُولُوْا: هَذَا اللّٰهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 76 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے حضرت عثمان ابن ابی العاص ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله شیطان مجھ میں اور میری نماز اور تلاوت میں حائل ہوگیا نماز مشتبہ کردی ۲؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو خنزب کہا جاتا ہے ۳؎جب کبھی تم اسے محسوس کرو تو اس سے الله کی پناہ مانگو اور بائیں طرف تین بار دھتکار دو۴؎میں نے یہ ہی کیا تو الله نے اسے دفع فرمادیا ۵؎(مسلم)

عَنْ عُثْمَانَ ابْنِ أَبِيْ الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ: «يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ حَالَ بَيْنِيْ وَبَيْنَ صَلَاتِيْ وَ بَيْنَ قِرَاءَتِيْ يُلَبِّسُهَا عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذٰلِكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خِنْزَبٌ فَإِذَا أَحْسَسْتَهٗ فَتَعَوَّذْ بِاللّٰهِ مِنْهُ وَاتْفُلْ عَلٰى يَسَارِكَ ثَلٰثًا قَالَ فَفَعَلْتُ ذٰلِكَ فَأَذْهَبَهُ اللّٰهُ عَنِّيْ» .رَوَاه ُمَسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 77 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )

روایت ہے حضرت قاسم ابن محمد سے ۱؎کہ ان سے کسی شخص نے پوچھا(عرض کیا)میں اپنی نماز میں وہم کیا کرتا ہوں اور یہ واردات مجھ پر بہت ہوتی رہتی ہے فرمایا اپنی نماز پڑھ گزرو کیونکہ یہ وہم تو جائے گا نہیں حتی کہ تم یہ کہتے ہوئے نماز ختم کرو گے کہ میری نماز مکمل نہ ہوئی ۲؎(مالک)

وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: «إِنِّي أَهَمُ فِيْ صَلَاتِيْ فَيَكْثُرُ ذٰلِكَ عَلَيَّ فَقَالَ لَہٗ اِمْضِ فِيْ صَلَاتِكَ فَإِنَّهٗ لَنْ يَذْهَبَ ذٰلِکَ عَنْكَ حَتّٰى تَنْصَرِفَ وَأَنْتَ تَقُوْلُ مَا أَتْمَمْتُ صَلَاتِيْ» .رَوَاه ُمَالِكٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 78 ، باب: وسوسہ (برے خیالات )