DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Yunus Ayat 11 Translation Tafseer

رکوعاتہا 11
سورۃ ﷶ
اٰیاتہا 109

Tarteeb e Nuzool:(51) Tarteeb e Tilawat:(10) Mushtamil e Para:(11) Total Aayaat:(109)
Total Ruku:(11) Total Words:(2023) Total Letters:(7497)
11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْؕ-فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(۱۱)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اگر اللہ لوگوں پرعذاب اسی طرح جلدی بھیج دیتا جس طرح وہ بھلائی جلدی طلب کرتے ہیں تو ان کی مدت ان کی طرف پوری کردی جاتی تو جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے ہم انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتے ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ:تو ان کی مدت ان کی طرف پوری کردی جاتی ۔} یعنی اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کی بددعائیں جیسے کہ وہ غصے کے وقت اپنے لئے اور اپنے اہل واولاد و مال کے لئے کرتے ہیں ، اور کہتے ہیں ہم ہلاک ہوجائیں ، خدا ہمیں غارت کرے ، برباد کرے اور ایسے کلمے ہی اپنی اولاد اور رشتہ داروں کے لئے کہہ گزرتے ہیں جسے اردو میں کوسنا کہتے ہیں اگر وہ دعا ایسی جلدی قبول کرلی جاتی جیسی جلدی وہ دعائے خیر کے قبول ہونے میں چاہتے ہیں تو ان لوگوں کا خاتمہ ہوچکا ہوتا اور وہ کب کے ہلاک ہوگئے ہوتے لیکن اللہتعالیٰ اپنے کرم سے دعا ئے خیر قبول فرمانے میں جلدی کرتا ہے اور دعائے بد کے قبول میں نہیں ، یہ اس کی رحمت ہے۔ شانِ نزول: نضر بن حارث نے کہا تھا: یارب !یہ دینِ اسلام اگر تیرے نزدیک حق ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کافروں کے لئے عذاب میں جلدی فرماتا جیسا کہ اُن کیلئے مال و اولاد وغیرہ دنیا کی بھلائی دینے میں جلدی فرمائی تو وہ سب ہلاک ہوچکے ہوتے۔(خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۱۱، ۲ / ۳۰۳، ملخصاً)

خود کو اوراپنے بچوں وغیرہ کو کوسنے سے بچیں :

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہماری تمام دعائیں قبول نہ ہونا بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہے کہ ہم کبھی برائی کو بھلائی سمجھ لیتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ غصہ میں اپنے کو یاا پنے بال بچوں کو کوسنا نہیں چاہیے ہر وقت رب تعالیٰ سے خیر ہی مانگنی چاہئے نہ معلوم کو ن سی گھڑی قبولیت کی ہو اور بعض اوقات ایسے ہو بھی جاتا ہے کہ اولاد کیلئے بددعا کی اور وہ قبولیت کی گھڑی تھی جس کے نتیجے میں اولاد پر واقعی وہ مصیبت و آفت آجاتی ہے جس کی بددعا کی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس طرح کی چیزوں سے اِحتراز ہی کرنا چاہیے۔ حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے ساتھ بواط کی جنگ میں گئے ، آپ مَجدِی بن عمرو جُہَنی کو تلاش کر رہے تھے ، ایک اونٹ پر ہم پانچ، چھ اورسات آدمی باری باری سوار ہوتے تھے، ایک انصاری اونٹ پر بیٹھنے لگا تو اس نے اونٹ کو بٹھایا، پھر اس پر سوار ہو کر اسے چلانے لگا۔ اونٹ نے اس کے ساتھ کچھ سرکشی کی تو اس نے اونٹ کو کہا: شَاْ، اللہ تم پر لعنت کرے۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے دریافت فرمایا کہ اونٹ پر لعنت کرنے والا شخص کون ہے؟ اس نے کہا:یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،یہ میں ہوں۔ ارشاد فرمایا ’’اس اونٹ سے اتر جاؤ اور ہمارے ساتھ ملعون جانور کو نہ رکھو، تم اپنے آپ کو بد دعا دو، نہ اپنی اولاد کو بد دعا دو اور نہ اپنے اَموال کو بد دعا دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ وہ گھڑی ہو جس میں اللہ تعالیٰ سے کسی عطا کاسوال کیا جائے تو وہ دعا قبول ہوتی ہو۔ (مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب حدیث جابر الطویل وقصۃ ابی الیسر، ص۱۶۰۴، الحدیث: ۳۰۰۹)

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links