DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Fatir Ayat 9 Translation Tafseer

رکوعاتہا 5
سورۃ ﳤ
اٰیاتہا 45

Tarteeb e Nuzool:(43) Tarteeb e Tilawat:(35) Mushtamil e Para:(22) Total Aayaat:(45)
Total Ruku:(5) Total Words:(871) Total Letters:(3191)
9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاؕ-كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ(۹)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اللہ ہی ہے جس نے ہوائیں بھیجیں تووہ ہوائیں بادل کو ابھارتی ہیں پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں کرتے ہیں تو اس کے سبب ہم زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ فرماتے ہیں ۔ یونہی حشر میں اٹھنا ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ: اور اللہ ہی ہے جس نے ہوائیں  بھیجیں ۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے بنجر زمین کو سرسبز و شاداب کرنے سے مُردوں  کو اٹھائے جانے پر اِستدلال فرمایا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے ہوائیں  بھیجیں  تووہ ہوائیں بادل کو ابھارتی ہیں ، پھر ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف رواں  کرتے ہیں  جس میں  سبزہ اور کھیتی نہیں  اور خشک سالی سے وہاں  کی زمین بے جان ہوگئی ہے تو ا س بادل سے نازل ہونے والی بارش کے سبب ہم زمین کو اس کے مرنے (یعنی خشک ہونے) کے بعد زندہ فرماتے ہیں  اور اس کو سرسبزو شاداب کردیتے ہیں  ،اس سے ہماری قدرت ظاہر ہے اورجس طرح ہم خشک زمین کو سرسبز و شاداب کرتے ہیں  اسی طرح حشر میں  مُردوں  کو اٹھائیں  گے۔( روح البیان، الملائکۃ، تحت الآیۃ: ۹، ۷ / ۳۲۲، ملخصاً)

            حضور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کیا کہ’’ اللہ تعالیٰ مُردے کس طرح زندہ فرمائے گا؟ مخلوق میں  اس کی کوئی نشانی ہو تو ارشاد فرمایئے۔نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کیا تیرا کسی ایسے جنگل میں  سے گزرہوا ہے جو خشک سالی سے بے جان ہوگیا ہو اور وہاں  سبزہ کا نام و نشان نہ رہا ہو ، پھر کبھی اسی جنگل میں  گزر ہوا ہو اور اس کو ہرا بھرا لہلہاتا پایا ہو؟ ان صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: بیشک ایسا دیکھاہے ۔حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’ ایسے ہی اللہ تعالیٰ مُردوں  کو زندہ کرے گا اور مخلوق میں  یہ اس کی نشانی ہے۔( مستدرک، کتاب الاہوال، انّ اللّٰہ حرّم علی الارض ان تأکل اجساد الانبیائ، ۵ / ۷۷۶، الحدیث: ۸۷۲۵)

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ قیاس برحق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِس عالَم کے حالات پر اُس عالَم کے حالات کو قیاس کرنے کا حکم فرمایا ۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links