Quran Kareem Samajh Kar Parhna

Book Name:Quran Kareem Samajh Kar Parhna

آیت مبارکہ

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹) (پارہ:23،سورۂ صٓ:29)

ترجمۂ کنز العرفان : (یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور وفکر کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں ۔

* معلوم ہوا! سارے کا سارا قرآن کریم بہت زیادہ برکتوں والا ہے اور اس کو نازل کرنے کا مقصد  یہ ہے کہ جو کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے اس کو سمجھ کر پڑھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔([1])

فرمانِ مصطفےٰ     صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم   

* قرآن کریم سے ایک آیت سیکھنا 100 رکعتیں   پڑھنے سے بہتر  ہے ([2]) * ایک حدیث پاک میں ہے : روزانہ قرآن کریم کی 2آیتیں سیکھنا 2 اونٹنیوں سے بہتر ،3 آیتیں سیکھنا 3 اونٹنیوں سے بہتر ،4 آیتیں سیکھنا 4 نٹنیوں سےبہتر  اوراسی قدر اونٹوں سے بہتر ۔([3])

قرآن کریم سمجھنے کے متعلق احکام

(1): قرآن کریم پر اجمالی ایمان لانا  فَرْضِ عین ہے،([4]) جبکہ اس پر تفصیلی ایمان رکھنا فَرْضِ کِفایہ ہے۔([5]) اجمالی ایمان  کسے کہتے ہیں:قرآن کریم کو کلامِ اِلٰہی ماننا اور جوکچھ اس میں موجود ہے اس  کو حق و سچ مان کر کسی ایک حرف یا حرکت (زبر ،زیر پیش ) کا بھی  انکار نہ کرنا اِجمالی اِیمان ہے۔([6])تفصیلی ایمان کسے کہتے ہیں: قرآن کریم میں جو کچھ ہے اسے تفصیل سے جاننا  تفصیلی اِیمان کہلاتاہے یعنی اس میں موجود احکامات


 

 



[1]...تفسیر نسفی ،پارہ:23،سورۃ صٓ،تحت الآیۃ:29،جلد:3،صفحہ:153،بتغیر قلیل۔

[2]...سنن ابن ماجہ ،كتاب السنہ ،باب فضل تعلم القرآن ،صفحہ:48،حدیث :219،بتغیر قلیل ۔

[3]...مسلم ،كتاب صلاة المسافرین ،باب فضل قراءۃ القرآن فی  الصلاۃ وتعلمہ ،صفحہ:290،حدیث :803،ملخصاً ۔

[4]...فتاوی شارح بخاری ،جلد:1،صفحہ:632۔

[5]...تفسیر نعیمی ،پارہ:1،سورۃ ا؛لبقرہ ،تحت الآیۃ:4،جلد:1،صفحہ:143،ملخصًا۔

[6]...فتاویٰ اہلسنت ،فتوی نمبر : WAT-4321۔