Book Name:Zaban Ki Hifazat
وضاحت : گفتگو 4 قسم کی ہے :(1): مکمل فائدے مند جس میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں مثلاً : *نیکی کا حکم دینا * بُرائی سے منع کرنا * مکّے، مدینے کی باتیں کرنا وغیرہ (2): مکمل نقصان دہ جس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ نہ ہو۔مثلاً * جھوٹ * غیبت * چغلی * الزام ترشی * گالی گلوچ وغیرہ (3): ایسی بات جو نقصان دہ بھی ہو اور فائدہ مند بھی (4): ایسی بات جس کا نہ فائدہ ہو نہ نقصان ۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یادرکھئے! ان میں سے صرف پہلی قسم کی گفتگو جو کہ مکمل فائدہ مند ہے ، اس کے علاوہ ہر قسم کی گفتگو سے بچنا چاہئے ۔
اللہ پاک فرماتا ہے :
مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(۱۸) (پارہ :26،قٓ:18)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: ووہ زبان سے کوئی بات نہیں نکالتامگر یہ کہ ایک محافظ فرشتہ اس کے پاس تیار بیٹھاہوتا ہے۔
* اس آیت میں بیان کیا گیا کہ بندہ جو بھی گفتگو کرتاہے کِرامًا کاتِبِیْن اسے نامۂ اعمال میں لکھ لیتے ہیں اور روزِ قیامت نامۂِ اعمال پڑھ کر سنانا پڑےگا *ذرا غور کیجئے ! قیامت کے دن زمین تانبے کی ہوگی اور سورج آگ برسا رہا ہوگا ،شِدَّتِ پیاس سے زبان باہر نکل پڑے گی، ایسے عالَم میں فُضُول اور گناہوں بھری گفتگو سے بھر پور اعمال نامہ پڑھ کر سنانا کس قَدَر مشکل ہوگا، اللہ پاک ہمیں فضول اور گناہوں بھری گفتگو سے محفوظ فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
* بندہ اپنی زبان سے بری بات نکالتا ہے اور اس کی حقیقت نہیں جانتا (یعنی اسے معمولی خیال کرتا ہے)حالانکہ اللہ پاک اس (بری بات )کے سبب قیامت تک اس بندے کے لئے اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔ ([2])