Book Name:Gussay Par Kabo Karna
وضاحت : جب غصہ آئے اور اس کو ظاہر کرنے مثلاً : سامنے والے سے بدلہ لینے ،ڈانٹنے وغیرہ پر قدرت بھی ہو اس کے باوجود جوابی کارروائی نہ کرنا غصہ پینا ہے ۔
اللہ پاک فرماتا ہے :
الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴)(پارہ:4،آلِ عمران:134)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: وہ جو خوشحالی اور تنگدستی میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ نیک لوگوں سے محبت فرماتا ہے۔
آیتِ کریمہ میں متقی لوگوں کے 4 اوصاف بیان کیے گئے ہیں:(1):خوشحالی اور تنگدستی دونوں حال میں اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنا (2):غصہ پی جانا (3): لوگوں کو معاف کردینا (4):احسان کرنا۔ پیارے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا: جن میں یہ صفات پائی جائیں اللہ پاک ان سے محبت فرماتا ہے ۔ ([1])
فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
مَنْ كَفَّ غَضَبَهُ كَفَّ اللهُ عَنْه ٗعَذَابَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ :جو اپنے غصے کو روکے ، اللہ پاک قیامت کے دن اُس سے اپنا عذاب روک دے گا۔([2])
(1): غُصے میں ظُلْم و زیادتی، اللہ پاک کی نافرمانی گُنَاہ اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے (2): یاد رکھئے! غصّہ خُود بُرا نہیں بلکہ حَدْ میں ہو تو اسے شُجاعت (یعنی بہادری) کہتے ہیں۔ ہاں! غصے میں حَدْ سے بڑھنا یا