Share this link via
Personality Websites!
فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲)
ترجمۂ کنز العرفان : تو تم خود اپنی جانوں کی پاکیزگی بیان نہ کرو ، وہ خوب جانتا ہے اسے جو پرہیزگار ہوا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! یاد رکھئے ! رِیا کاری گناہِ کبیرہ ، حرام اورجہنّم میں لےجانےوالاکام ہے ، اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناراضی کا باعث ہے اور اس کے سبب اعمال بھی بربادہوجاتے ہیں ، ریاکاروں کو بروزِ قِیامت حسرت ہوگی ، ریاکاری والاعمل اللہ پاک کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا ، اسے رُسوائی کا عذاب دِیا جائے گا ، اس پر جنّت حرام ہے ، وہ جنّت کی خوشبو سےمحروم رہے گا ، اس پر لعنت کی گئی ہے اور اس کاآخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔اللہ پاک ہمیں رِیاکاری کی آفت سے محفوظ فرمائے۔
پیارے اسلامی بھائیو ! نیکیاں ظاہرکرنے کےجو نقصانات بیان کیے گئے ہیں ، اِنہیں پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنی نیکیوں کو چھپاناہے ، البتہ اگرکسی اور کواپنی نیکیاں ظاہرکرتاہواپائیں تواُس سے بدگمانی ہرگزنہ کی جائے کہ یہ رِیاکاری یا حُبِ جاہ کے لیے اپنی عبادات اور نیک اعمال کا اِظہارکررہاہے ، بلکہ اُس کے بارے میں اچھا گمان رکھا جائے مثلاً ہوسکتاہے کہ اُ س کے پیشِ نظر کسی نعمت کے اِظہار یا کسی نیک عمل کی ترغیب کا اِرادہ ہو۔لہٰذا وہ شخص اپنی نیکیوں کے اِظہارمیں اچھی نیّت کی وجہ سے گناہ گارنہ ہو گا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami