Share this link via
Personality Websites!
تک بھی جانا پڑتا تو تشریف لے جاتے اور اپنے صحابہ کی عیادت فرماتے۔ ([1]) * مشہور مفسرِ قرآن ، مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اخلاقِ کریمہ میں سے ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر امیر وغریب کے گھر بیمار پرسی کے لئے تشریف لے جاتے۔ ([2]) *حضور صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمکی عادتِ کریمہ یہ تھی کہ جب کسی مریض کی عِیادت کو تشریف لے جاتے تو یہ فرماتے : لَا بَاْسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَاۤءَ اللہ( یعنی : کوئی حرج کی بات نہیں اللہ پاک نے چاہا تو یہ مرض (گناہوں) سے پاک کرنے والا ہے) ایک اعرابی کی عِیادت کو تشریف لے گئے تو یہی فرمایا : لَا بَاْسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَاۤءَ اللہ۔ ([3])
عیادت کے متعلق مزید معلومات کے لئے امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ “ بیمار عابد “ پڑھ لیجئے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami