Book Name:Azadi Kisay Kehtay Hain

یہ دیکھ کر وہ شخص حیران رِہ گیا اور بولا : عالی جاہ! آپ نے یہ مقام کیسے حاصِل کیا ہے۔ فرمایا : سیدِ عالَم ، نُورِ مجسم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی اِطَاعت و فرمانبرداری کے ذریعے۔ ([1])  

کی مُحَمَّد سے وفا تُو نے تَو ہم تیرے ہیں           یہ جہاں چیز ہے کیا؟ لوح و قلم تیرے ہیں

سُبْحٰنَ اللہ!  یہ ہے آزادی۔ کیا دُنیا میں کہیں ایسی آزادی ہے کہ بھیڑئیے بکریوں کی رکھوالی کرتے ہوں؟ ہاں! یہ بات دُرست ہے کہ یہ حضرت حبیبِ راعِی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی کرامت تھی اور کرامت اللہ پاک کی عطاء ہے ، کوئی بھی اپنی محنت سے وَلِی نہیں بَن سکتا مگر یہاں جو سمجھنے کا نکتہ ہے وہ حضرت حبیب راعِی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کا یہ فرمان ہے : میں نے یہ مرتبہ اِطَاعتِ مصطفےٰ کے ذریعے حاصِل کیا ہے۔ معلوم ہوا؛ اَصْل میں آزادی غُلامئ رسول ہی سے ملتی ہے۔ کلیاتِ اِقْبَال میں ہے :

صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے ، پا بہ گِل بھی ہے    انہی پابندیوں میں حاصِل آزادی کو تُو کر لے([2])

 “ صَنَوبَر “ ایک درخت ہے ، عموماً کشمیر کے علاقے میں پایا جاتا ہے ،  یہ بہت لمبا ہوتا ہے ، اقبال نے اس کی مثال دی ہے کہ صنوبر آسمان کی طرف جانےیعنی لمبا ہونے میں آزاد ہے ، جتنا چاہے اُونچا ہو جائے مگر “ پَابَہ گِل بھی ہے “ یعنی اس کی جڑیں زمین میں قید ہیں ، اگر صنوبر کی جڑوں کو زمین کی قید سے آزاد کر دیا جائے تو اس کے اُونچا ہونے کی آزادی ختم ہو جائے گی ، یہ گِر جائے گا۔ تُم بھی انہی پابندیوں سے آزادی حاصِل کر لو ، چاند پر جانا ہے ، جاؤ ، ترقی کرنی ہے ، کرو ، مگر قرآنِ کریم کی ، اِطَاعتِ رسول کی زنجیر گلے میں ڈال لو ، پھر جتنا مرضِی اُڑتے رہنا ، گِرنے کا خطرہ نہیں رہے گا۔

 اے عاشقانِ رسول ! یہ ہے وہ آزادی جسے خُود مُصَوِّرِ پاکستان ڈاکٹر اقبال نے بیان کیا


 

 



[1]...کَشْفُ الْمَحْجُوْب ، طبقہ : تبع تابعین ، حبیب بن اسلم راعی ، صفحہ : 140 ، ماخوذاً۔

[2]...کلیاتِ اقبال ، بانگِ درا ، پھول ، صفحہ : 278۔