Book Name:Usman-e-Ghani Aur Muhabbat-e-Ilahi

کعبہ شریف کے قریب تھا ، میں نے عشاء کی نماز پڑھی ، پھر مقامِ ابراہیم کے پاس کھڑا ہو گیا ، اتنے میں اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ تشریف لائے ، آپ نے سورۂ فاتحہ سے قرآنِ کریم کی تلاوت شروع کی اور تلاوت کرتے گئے ، کرتے گئے ، یہاں تک کہ پُورا قرآنِ کریم مکمل ختم کر لیا۔ ([1])

اے عاشقانِ صحابہ و اَہْلِ بیت! اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اللہ پاک سے بےپناہ محبت کرنے والے ہیں ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے ذوقِ عِبَادت ، ذوقِ تِلاوت اور ذوقِ نماز سے معلوم ہوا *جو اللہ پاک سے محبت کرنے والا ہوتا ہے وہ کَثْرَت سے عِبَادت کرتا ہے*جو اللہ پاک سے محبت کرنے والا ہوتا ہے وہ فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نوافِل کی بھی کَثْرت کرتا ہے *جو اللہ پاک سے محبت کرنے والا ہوتا ہے وہ روزے بھی کَثْرت سے رکھتا ہے اور *جو اللہ پاک سے محبت کرنے والا ہوتا ہے وہ تِلاوتِ قرآن کا تو بہت ہی شوقین ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم اللہ پاک کا کلام ہے اور وہ عاشِق ہی کیا ہے جسے محبوب کے کلام سے اُلْفت نہ ہو...! صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ فرماتے ہیں : جو یہ جاننا چاہے کہ اس کے دِل میں اللہ پاک کی اور اس کے رسول ، رسولِ  مقبول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی محبت ہے یا نہیں ہے ، وہ دیکھے کہ قرآنِ مجید سے محبت کرتا ہے یا نہیں ، اگر تو اس کے دِل میں قرآنِ مجید کی محبت ہے تو سمجھ لے کہ وہ اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے محبت کرتا ہے۔   ([2])

   اللہ پاک ہمیں بھی محبتِ اِلٰہی نصیب فرمائے اور کاش! اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرت عثمانِ


 

 



[1]...زُہد لابن المبارک ، باب : فضل ذکر اللہ ، صفحہ : 452 ، حدیث : 1276خلاصۃً۔

[2]...کِتَابُ الشِّفَا ، جزء : 2 ، صفحہ : 24۔