Book Name:Faizan e Imam e Azam

  بھیجتے ہوئے فرمایا:اے حَفْص! فُلاں کپڑے میں کچھ عیب ہے۔ جب تم اُسے فروخت کروتو عَیْب بیان کر دینا۔حضرت سیِّدُناحَفْصرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے مالِ تِجارت فروخت کردیا اور بیچتے ہوئے عَیْب بتانا بُھول گئے اوریہ بھی یاد نہ رہاکہ کس کو بیچاہے ۔ جب امامِ اعظم  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کو عِلْم ہوا تو آپ نے تمام کپڑوں کی قیمت صَدَقہ کر دی ۔(تاریخ بغداد،باب مناقب ابی حنیفة ، ۱۳/۳۵۶)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے امامِ اَعْظم ابُوحنیفہرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے شریکِ تِجارت نے بُھولے سے عَیْب دار چیز بیچ دی، تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس  کی قیمت  اپنے اِستعمال میں نہیں لائے بلکہ صَدَقہ فرمادی۔مگراَفْسوس!صَدْ اَفْسوس!ہمارے مُعاشَرے میں بُھولے  سے نہیں بلکہ جان بُوجھ کر ، جُھوٹی قسمیں کھا کر ،عَیْب چُھپاکر چیزیں فروخت کی جاتی ہیں ۔ ہماری اَخْلاقی حالت تو اس قدر  گِر چکی ہے کہ اگر ہمارا بچہ جُھوٹ بول کر یادھوکہ دے کر کسی کو لُوٹنے میں کامیاب ہوجائے، توہم اُسے ایک شاندار کارنامہ سمجھتے ہیں،اس پر بچے کو شاباش دیتے ہیں،اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں اور دادِ تحسین دیتے ہوئے اس قسم کے جُملے کہتے ہیں کہ بیٹا اب تم بھی سیکھ گئے ہو،تمہیں کاروبار کرنا آگیا ہے ،تم سمجھدار ہوگئے ہو وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ ایسے موقعے پر تو ہمیں اپنے بچے کی مدنی تربیت کرنی چاہئے کہ بیٹا جُھوٹ بول کر اور دھوکہ دے کر کاروبار نہیں کرنا چاہئے، وَرنہ اس کے وَبال سے ہمارے کاروبار ومال میں زَوال آجائے گا اور ہم تباہ و بَرباد ہوجائیں گے اور آخرت میں بھی  ذلیل ورسوا ہوکرکہیں عذابِ الہٰی کے حقدار نہ ہو جائیں۔دھوکہ دینے والے کو اس حدیثِ پاک پر بھی غور کرنا چاہیے کہ مُحسنِ کائنات،فَخْرِمَوْجُوْدات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےفرمایا: لا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِاَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهٖ یعنی تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا، جب تک اپنے بھائی کے لئے وہ چیز