باب ۱؎ اور یہ باب پہلی فصل سے خالی ہے ۲؎

کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت فجیع عامری سے ۱؎وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا کہ ہمارے لیے مردار سے کیا حلال ہے ۲؎فرمایا تمہارا کھانا پینا کیا ہے ۳؎ہم نے عرض کیا صبح و شام ایک ایک پیالہ پی لیتے ہیں ۴؎ابو نعیم کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ نے مجھ سے اس کی تفسیر کی ایک پیالہ صبح اورایک پیالہ شام فرمایا میرے والد کی قسم یہ تو بالکل بھوک ہے ۵؎پھر ہمارے لیے اس حالت میں مردار حلال فرمایا ۶؎(ابوداؤد)

عَنِ الْفُجَيْعِ العَامِرِيِّ أَنَّهٗ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمِيتَةِ؟ قَالَ: «مَا طَعَامُكُمْ ؟» قُلنا: نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَسَّرَهٗ لِي عُقْبَةُ: قَدَحٌ غُدْوَةً وَقَدَحٌ عَشِيَّةً قَالَ: «ذَاكَ وَأَبِي الْجُوْعُ» فَأَحَلَّ لَهُمُ الْمَيْتَةَ عَلٰى هٰذِهِ الحالِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4261 ، باب ۱؎ اور یہ باب پہلی فصل سے خالی ہے ۲؎

روایت ہے ابو واقد لیثی سے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ہم کسی زمین میں ہوتے ہیں تو ہم کو بھوک پہنچ جاتی ہے ۱؎تو ہمارے لیے مردار کب حلال ہے فرمایا جب کہ تم صبح کو یا شام کو پیالہ نہ پاؤ یا زمین کا ساگ پات بھی نہ پاؤ ۲؎تو تم اس مردار کو اختیارکرلو،اس کے معنی یہ ہیں کہ تم صبح یا شام کو پیالہ نہ پاؤ اور نہ ساگ و پات پاؤ جسے تم کھاؤ تو تمہارے لیے مردار حلال ہے ۳؎(دارمی)

وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ أَنْ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّا نَكُونُ بِأَرْضٍ فَتُصِيبُنَا بِهَا الْمَخْمَصَةُ فَمَتٰى يَحِلُّ لَنَا الْمَيْتَةُ؟ قَالَ: "مَا لَمْ تَصْطَبِحُوا أَوْ تَغتَبِقُوا أَوْ تَحْتَفِئُوا بِهَا بَقْلًا فَشَأْنَكُمْ بِهَا».مَعْنَاهُ: إِذَا لَمْ تَجِدُوا صَبُوحًا أَوْ غَبُوقًا وَلَمْ تَجِدُوا بَقْلَةً تَأْكُلُونَهَا حَلَّتْ لَكُمُ الْمَيْتَةُ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4262 ، باب ۱؎ اور یہ باب پہلی فصل سے خالی ہے ۲؎