باب:قسم لینے کا باب

قصاص کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حصرت رافع ابن خدیج ۱؎اور سہل ابن حثمہ سے ۲؎انہوں نے خبر دی کہ حضرت عبداابن سہل ۳؎اور محیصہ ابن مسعود دونوں خیبر پہنچے تو وہ دونوں باغات میں متفرق ہو گئے ۴؎عبداابن سہل قتل کردیئے گئے تو عبدالرحمن بن سہل اور خویصہ اورمحیصہ یعنی مسعود کے بیٹے ۵؎نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنے ساتھی کے معاملہ میں انہوں نے گفتگو کی۶؎تو عبدالرحمن نے ابتداء کی اور تھے یہ ساری قوم میں چھوٹے تو ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا بڑے کا بڑا پن رکھو ۷؎یحیی ابن سعید فرماتے ہیں مقصد یہ تھا کہ بڑا گفتگو کرے ۸؎چنانچہ انہوں نے بات چیت کی ۹؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے آپس کی پچاس قسموں سے اپنے مقتول کے یا فرمایا اپنے ساتھی کے مستحق ہوسکتے ہو۱۰؎انہوں نے عرض کیا یارسول اصلی اللہ علیہ و سلم یہ ایسا واقعہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ۱۱؎تو فرمایا پھر یہود اپنی پچاس پچاس قسموں کے ذریعہ تم سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے ۱۲؎عرض کیا یارسول اصلی اللہ علیہ و سلم وہ کافر قوم ہے ۱۳؎تو ان کو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی طرف سے فدیہ دیا ۱۴؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ تم لوگ پچاس قسمیں کھا لو اپنے قاتل کے حق دار ہوجاؤ یا ساتھی کے ۱۵؎پھر اس کا فدیہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پاس سے سو اونٹنیاں دیں ۱۶؎(مسلم،بخاری)
اور یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُمَا حَدَّثَا أَنَّ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ أَتَيَا خَيْبَرَ،فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ سَهْلٍ، فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَحُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ، فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَبِّرِ الْكُبْرَ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعَدٍ: يَعْنِي لِيَلِيَ الْكَلَامَ الأَكْبَرُ، فَتَكَلَّمُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اسْتَحِقُّوا قَتِيلَكُمْ -أَوْ قَالَ: صَاحِبَكُمْ- بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَمْرٌ لَمْ نَرَهُ قَالَ: "فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ فِي أَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَوْمٌ كفَّارٌ،فَفَدَاهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ وَفِي رِوَايَةٍ: "تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ -أَوْ صَاحِبَكُمْ-" فَوَدَاهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ بِمِئَةِ ناقَةٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عِنَ الْفَصْلِ الثَّانِي.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3531 ، باب:قسم لینے کا باب

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص خیبر میں مقتول ہوگئے ۱؎تو ان کے اولیاء نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں گئے ۲؎پھر یہ واقعہ حضور سے عرض کیا تو فرمایا کہ کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے قتل پر گواہی دیں وہ بولے یارسول اصلی اللہ علیہ وسلم وہاں کوئی مسلمان نہ تھا ۳؎اور وہ لوگ یہود ہیں جو اس سے بڑے جرم پربھی جرأت کرلیتے ہیں تو فرمایا کہ تم ان میں سے پچاس شخص چن لو پھر ان سے قسم لو ۴؎ان حضرات نے انکار کیا تو رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت دے دی ۵؎(ابوداؤد)

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: "أَلَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَاتِلِ صَاحِبِكُمْ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أحدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وإِنَّما هُمْ يَهُودُ وَقَدْ يَجْتَرِؤُونَ عَلَى أَعْظَمَ مِنْ هَذَا قَالَ: "فَاخْتَارُوا مِنْهُمْ خَمْسِينَ فَاسْتَحْلِفُوهُمْ" فَأَبَوْا، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3532 ، باب:قسم لینے کا باب