باب: متفرق احادیث

نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5

روایت ہے حضرت عروہ سے ۱؎وہ جناب عائشہ سے راوی کہ رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حضرت بریرہ کے متعلق فرمایا کہ انہیں خرید لو۲؎پھر آزاد کردو اور ان کا خاوند غلام تھا ۳؎اسی لیے رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا انہوں نے اپنے کو اختیار کر لیا اور اگر وہ آزاد ہوتے تو بریرہ کو اختیار نہ دیتے ۴؎(مسلم،بخاری)

عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا فِي بَرِيرَةَ: "خُذِيهَا فَأَعْتِقِيهَا" وَكَانَ زَوْجُهَا عَبْدًا فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا،وَلَوْ كَانَ حُرًّا لَمْ يُخَيِّرْهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3198 ، باب: متفرق احادیث

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ بریرہ کا خاوند حبشی غلام تھا جسے مغیث کہا جاتا تھا گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ بریرہ کے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں روتا پھرتا ہے ۱؎اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہیں ۲؎نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب عباس سے فرمایا اے عباس کیا تم تعجب نہیں کرتے مغیث کی محبت سے جو بریرہ سے ہے اور بریرہ کی نفرت سے مغیث سے ۳؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہتر تھا تم اس کی طرف سے رجوع کرجاتیں۴؎وہ بولیں یارسول اصلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ مجھے یہ حکم دیتے ہیں فرمایا میں سفارش کرتا ہوں بولیں مجھے اس کی حاجت نہیں ۵؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ، يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ للْعَبَّاسِ: "يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ؟ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا؟ " فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَوْ رَاجَعْتِيهِ" فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: "إِنَّمَا أَشْفَعُ" قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3199 ، باب: متفرق احادیث

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ انہوں نے اپنے دو زوجین مملوکوں کو آزاد کرنا چاہا ۱؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا حضور نے انہیں حکم دیا کہ عورت سے پہلے مرد سے ابتداء کریں ۲؎(ابوداؤد،نسائی)

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ مَمْلُوكيْنِ لَهَا زَوْجٌ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَبْدَأَ بالرَّجُلِ قَبْلَ المَرْأَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3200 ، باب: متفرق احادیث

روایت ہے ان ہی سے کہ بریرہ آزاد ہوئیں حالانکہ وہ مغیث کے پاس تھیں تو انہیں رسول اصلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا اور فرمایا کہ اگر وہ تمہارے قریب آگیا تو تمہیں اختیار نہیں ۱؎(ابوداؤد)

وَعَنْهَا: أَنَّ بَرِيرَةَ عَتَقَتْ وَهِيَ عِنْدَ مُغِيثٍ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهَا: "إِنْ قَرِبَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3201 ، باب: متفرق احادیث