- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
حضرت سیدنا عبداﷲبن مغفلرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریم ،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”مغرب سے پہلے نماز پڑھو،(یہ تین مرتبہ فرمایا)اورتیسری مرتبہ یہ بھی فرمایاکہ جو چاہے یہ نماز پڑھے ۔“
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّیَ اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلُّوْا قَبْلَ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ،قَالَ فِی الثَّالِثَةِ : لِمَنْ شَاءَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1122 ، باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
حضرت سیدنا اَنسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :”میں نے نبی کریم ،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کِبار (بڑے)صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو دیکھا کہ وہ مغرب کے وقت (نوافل کی ادائیگی کے لئے)تیزی سے ستونوں کے پیچھے جاتے ۔“
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:لَقَدْ رَاَ يْتُ كِبَارَاَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّیَ اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ عِندَ المَغْرِبِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1123 ، باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
حضرت سیدنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ ہم حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک زمانے میں غروبِ آفتاب کے بعد نمازِ مغرب سے قبل دو رکعت پڑھتے تھے۔عرض کی گئی:” کیا نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی یہ دو رکعتیں پڑھتے تھے ؟“ فرمایا:”حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں یہ نماز پڑھتےدیکھاکرتے تھے مگرنہ ہمیں اس کاحکم دیا نہ منع فرمایا۔“
عَنْ اَنَسٍ قَالَ:كُنَّانُصَلِّي عَلٰی عَهْدِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّیَ اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ فَقِيلَ: اَ كَانَ رَسُوْلُ الله صَلَّیَ اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلاَّهُمَا؟ قَالَ: كَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا فَلَمْ يَأمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1124 ، باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
حضرت سیدنا اَنسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ” ہم مدینہ منورہزَادَھَا اﷲ شَرَفًا وَّ تَعْظِیمًامیں تھے جب مؤذّن مغرب کی اذان دیتا تو لوگ تیزی سے ستونوں کی طرف جاتے اور د و رکعت ادا کرتے ، اگر کوئی مسافر اس وقت مسجد میں آجاتا تو نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے یہ گمان کرتا کہ نماز ہوچکی ہے۔ “
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِيْنَةِ فَاِذَا اَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ ابْتَدَرُواالسَّوَارِيَ، فَرَكَعُوا رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى اِنَّ الرَّجُلَ الْغَر يْبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيَحْسَبُ اَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَ ةِ مَنْ يُّصَلِّيْهِمَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1125 ، باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان