Tayammum Karne Ka Tarika

March 13,2019 - Published 1 year ago

Tayammum Karne Ka Tarika

تیمم کا طریقہ

غزوۂ بنی مُصْطَلَق میں جب لشکرِ اسلام رات کے وقت ایک بیابان میں ٹھہرا جہاں پانی نہ تھا اور صبح وہاں سے کوچ کرنے کا ارادہ تھا، وہاں اُمّ المومنین حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا ہار گم ہوگیا، اس کی تلاش کے لئےرسولُاللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہاں قیام فرمایا، صبح ہوئی تو پانی نہ تھا۔اس پر اللہ ربُّ العلمین نے تیمم کی آیت نازل فرمائی۔ یہ دیکھ کر حضرت اُسَیْد بن حضیر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے کہا کہ’’ اے آلِ ابوبکر! یہ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں ہے یعنی تمہاری برکت سے مسلمانوں کو بہت آسانیاں ہوئیں اور بہت فوائد پہنچے۔ پھر جب اونٹ اٹھایا گیا تو اس کے نیچے ہار مل گیا۔(تفسیرصراط الجنان، صفحہ: 213، المدینہ لائیبریری)

تیمم کے ذریعہ فضیلت دی گئی:

حضرت ِ حُذیفہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ مروی ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں مِنْ جُملہ ان باتوں کے جن سے ہم کو لوگوں پر فضیلت دی گئی یہ تین باتیں ہیں۔

(۱) ہماری صفیں ملائکہ کی صفوں کے مثل کی گئیں۔

(۲) ہمارے لیے تمام زمین مسجد کر دی گئی۔

(۳) جب ہم پانی نہ پائیں زمین کی خاک ہمارے لیے پاک کرنے والی بنائی گئی۔ (صحیح مسلم، حدیث: 522)

تیمم کن چیزوں سےکیا جا سکتا ہے؟

جو چیز آگ سے جل کر نہ راکھ ہوتی ہے نہ پگھلتی ہے نہ نرم ہوتی ہے وہ زمین کی جنس سے ہے اس سے تیمم جائز ہے۔ ریتا، چونا، سرمہ، ہرتال، گندھک، مردہ سنگ، گیرو، پتھر، زبرجد، فیروزہ، عقیق، زمرد وغیرہ جواہر سے تیمم جائز ہے اگرچہ ان پر غبار نہ ہو۔(بہارِ شریعت، حصّہ دوم، صفحہ: 357، المدینہ لائیبریری)

تیمم کب کریں؟

جس کا وضو نہ ہو یا نہانے کی حاجت ہو اور پانی پر قدرت نہ ہو تو وہ وضو اور غسل کی جگہ تیمم کرے۔ پانی پر قدرت نہ ہونے کی چند صورتیں ہیں:

(۱)ایسی بیماری ہو کہ وُضو یا غُسل سے اس کے زِیادہ ہونے یا دیر میں اچھا ہونے کا صحیح اندیشہ ہو خواہ یوں کہ اس نے خود آزمایا ہو کہ جب وُضو یا غُسل کرتا ہے تو بیماری بڑھتی ہے یا یوں کہ کسی مسلمان اچھے لائق حکیم نے جو ظاہراً فاسق نہ ہو کہہ دیا ہو کہ پانی نقصان کریگا۔(۲)جہاں چاروں طرف ایک ایک میل تک پانی کا پتا نہیں۔(۳) اتنی سردی ہو کہ نہانے سے مر جانے یا بیمار ہونے کا قوی اندیشہ ہو اور لحاف وغیرہ کوئی ایسی چیز اس کے پاس نہیں جسے نہانے کے بعد اوڑھے اور سردی کے ضرر(نقصان) سے بچے نہ آگ ہے جسے تاپ سکے تو تیمم جائز ہے۔ (۴)دشمن کا خوف کہ اگر اس نے دیکھ لیا تو مار ڈالے گا یا مال چھین لے گا یا اس غریب نادار کا قرض خواہ ہے کہ اسے قیدکر ادے گا یا اس طرف سانپ ہے وہ کاٹ کھائے گا یا شیر ہے کہ پھاڑ کھائے گا یا کوئی بدکار شخص ہے اور یہ عورت یاا مرد ہے جس کو اپنی بے آبروئی کا گمان صحیح ہے تو تیمم جائز ہے۔(۵)جنگل میں ڈول رسی نہیں کہ پانی بھرے تو تیمم جائز ہے۔(۶)پیاس کا خوف یعنی اس کے پاس پانی ہے مگر وضو یا غسل کے صرف میں لائے تو خود یا دوسرا مسلمان یا اپنا یااس کا جانور اگرچہ وہ کتّا جس کا پالنا جائز ہے پیاسا رہ جائے گا اور اپنی یا ان میں کسی کی پیاس خواہ فی الحال موجود ہو یا آئندہ اس کا صحیح اندیشہ ہو کہ وہ راہ ایسی ہے کہ دور تک پانی کا پتا نہیں تو تیمم جائز ہے۔ (۷)پانی گراں ہونا یعنی وہاں کے حساب سے جو قیمت ہونی چاہیے اس سے دو چند مانگتا ہے تو تیمم جائز ہے اور اگر قیمت میں اتنا فرق نہیں تو تیمم جائز نہیں۔(۸)یہ گمان کہ پانی تلاش کرنے میں قافلہ نظروں سے غائب ہو جائے گا یا ریل چھوٹ جائے گی۔(۹)یہ گمان کہ وُضو یا غُسل کرنے میں عیدین کی نماز جاتی رہے گی خواہ یوں کہ امام پڑھ کر فارغ ہو جائے گا یا زوال کا وقت آجائے گا دونوں صورتوں میں تیمم جائز ہے۔(۱۰)غیر ولی کو نماز جنازہ فوت ہو جانے کا خوف ہو تو تیمم جائز ہے ولی کو نہیں کہ اس کا لوگ انتظار کریں گے اور لوگ بے اس کی اجازت کے پڑھ بھی لیں تو یہ دوبارہ پڑھ سکتا ہے۔(۱۱)جب مسجد میں ہواور غسل فرض ہوجائے تو جہاں ہیں وہیں تیمم کریں اور پھر جا کر غسل کریں۔(۱۲)…بے وُضو کے اکثر اعضائے وُضو میں یا جنب کے اکثر بدن میں زخم ہو یا چیچک نکلی ہو تو تیمم کرے، ورنہ جو حصہ عُضْوْ یا بدن کا اچھا ہو اس کو دھوئے اور زخم کی جگہ اور بوقت ضرر اس کے آس پاس بھی مسح کرے اور مسح بھی ضرر کرے تو اس عُضْوْ پر کپڑا ڈال کر اس پر مسح کرے۔(بہار شریعت)

تیمم کا طریقہ:

’’تیمُّم‘‘کی نِیَّت کیجئے(نِیَّت دل کے اِرادے کا نام ہے، زَبان سے بھی کہہ لیں تو بہتر ہے ۔مثلاً یوں کہئے :بے وُضوئی یا بے غُسْلی یا دونوں سے پاکی حاصل کرنے اور نماز جائز ہونے کے لئے تیمُّم کرتا ہوں )دونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں کشادہ کر کے کسی ایسی پاک چیزپرجوزمین کی قِسْم(مثلاً پتھر، چُونا، اینٹ، دیوار،مٹّی وغیرہ)سے ہومارکرلوٹ لیجئے(یعنی آگے بڑھائیے اور پیچھے لائیے)۔ اوراگرزِیادہ گرد لگ جائے تو جھاڑ لیجئے اور اُس سے سارے مُنہ کااِس طرح مَسح کیجئے کہ کوئی حصّہ رہ نہ جائے اگربا ل برابربھی کوئی جگہ رہ گئی تو ’’تیمُّم‘‘نہ ہوگا۔

پھردوسری باراسی طرح ہاتھ زمین پرمار کر دونوں ہاتھوں کا ناخنوں سے لے کرکُہنیوں سمیت مَسح کیجئے، اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اُلٹے ہاتھ کے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کا پیٹ سیدھے ہاتھ کی پُشت پر رکھئے اور انگلیوں کے سروں سے کُہنیوں تک لے جائیے اورپھر وہاں سے اُلٹے ہی ہاتھ کی ہتھیلی سے سیدھے ہاتھ کے پیٹ کومَس(Touch) کرتے ہوئے گٹّے تک لائیے اور اُلٹے انگوٹھے کے پیٹ سے سیدھے انگوٹھے کی پشت کا مَسح کیجئے۔اسی طرح سیدھے ہاتھ سے اُلٹے ہاتھ کا مسح کیجئے۔

اور اگرایک دم پوری ہتھیلی اور اُنگلیوں سے مسح کرلیا تب بھی ’’تیمُّم‘‘ ہوگیا چاہے کہنی سے اُنگلیوں کی طرف لائے یا اُنگلیوں سے کُہنی کی طرف لے گئے مگر سُنَّت کے خِلاف ہوا۔ ’’تیمُّم‘‘ میں سر اور پاؤں کامسح نہیں ہے۔ (عامۂ کُتُبِ فقہ) اللہ پاک آلِ ابو بکررَضِیَ اللہُ عَنْہ کے صدقہ ہمیں تیمم کے درست طریقہ پر عمل کی سعادت عطافرمائے آمین۔

تیمم کے حوالے سے مزید معلومات کے لئے کتاب نماز کے احکام کا مطالعہ فرمائیں۔

Comments (0)

Security Code