Imam Ahmad Raza Ka Bachpan

October 06,2018 - Published 166 days ago

Imam Ahmad Raza Ka Bachpan

مولانا احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بچپن

والدین کی ذمہ داریوں میں سے بہت اہم ذمہ داری بچپن ہی سے اولاد کی تربیت بھی ہے،کیونکہ بچپن ساری زندگی کی بنیاد اور سانچا ہے، بنیاد اور سانچا جتنا عمدہ اور پختہ ہو عمارت اور اس کا ڈھانچہ اتنا ہی مضبوط اور خوبصورت ہوتا ہے، بچپن کا سیکھا ہوا ساری زندگی یاد رہتا ہے،بچے کی یاداشت ایک خالی تختی کی مانند ہوتی ہے اس پر جو لکھا جائے گا ساری عمر کے لئے محفوظ ہوجائے گا، بچے کاذہن کچی مٹی کی مانند ہے جس میں آپ اپنی مرضی کا بیج بو سکتے ہیں، اپنی مرضی کا درخت اُگا سکتے ہیں، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ قرآن وسنت کے مطابق بچے کی تربیت کر کے اس کی زندگی کو آپ ایک سایہ دار اور پھلدار درخت کی مانند بناتے ہیں یا پھر دینی تربیت سے محروم کرکے آپ اسے ایک کانٹے دار درخت یا بنجر زمین بناتے ہیں جو بڑاہوکر لوگوں کیلئے باعث تکلیف بن جاتا ہے۔آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ ایک دینی ماحول وتربیت میں پرورش پانے والا بچہ بچپن سے ہی کن کن خوبیوں اور صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے۔

ہماری مراد حافظ، علامہ، مترجم قرآن، مفسر قرآن، مفتی ذی شان، مفکر اسلام، فقیہ بے مثال، محدث اعظم، مجددِ دین وملت اور سچے عاشق رسول امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بچپن کی کچھ جھلکیاں ہیں۔

بچپن میں تبلیغ:

استاد صاحب مدرسے میں حسب معمول بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے، ان میں علمی گھرانے سے تعلق رکھنے والا ایک بچہ بھی شامل تھا۔ اس کی ہر ہر ادا میں وقار اور سلیقہ تھا۔ اس کا نورانی چہرہ قلبی نورانیت کا پتہ دے رہا تھا۔ چمکتی ہوئی آنکھیں ذہانت و فطانت کی خبر دے رہی تھیں۔ وہ بڑی توجہ سے سبق پڑھ رہا تھا۔ اتنے میں ایک بچے نے آ کر سلام کیا۔ استاد صاحب کے منہ سے نکل گیا: جیتے رہو۔ یہ سن کر ہونہار بچہ چونکا اور عرض کی پیارے استاد صاحب! سلام کے جواب میں تو وَعَلَیْکُمُ السَّلَامکہنا چاہيے!استادصاحب اس کمسن مبلغ کی زبان سے اصلاحی جملہ سن کر ناراض نہ ہوئے بلکہ خیر خواہی کرنے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اپنے ہونہار شاگرد کو ڈھیروں دعائیں دیں۔ وہ بچہ امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تھے۔

فاضل بریلوی کا نام:

اعلی حضرت فاضلِ بریلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا نام محمد ہے اور آپ کے دادا رضا علی خان نے احمد رضاکہہ کر پکارا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔ جبکہ آپ کی والدہ آپ کو اَمّن میاں کے نام سے پکارا کرتی تھیں۔

اعلی حضرت کی ولادت:

امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ہندوستان کے شہر بریلی کے محلہ جسولی میں 10 شوال المکرم 1272 ہجری بروز ہفتہ ظہر کے وقت بمطابق 14 جون 1856 عیسوی کو پیدا ہوئے۔

بچپن میں ذہانت:

امام بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شوقِ مطالعہ اور ذہانت کا بچپن ہی میں یہ عالم تھا کہ استادسے کبھی چوتھائی کتاب (4/1) سے زیادہ نہیں پڑھی بلکہ چوتھائی کتاب استاد سے پڑھنے کے بعد باقی تمام کتاب کا خود مطالعہ کرتے اور یاد کر کے سنا دیا کرتے تھے۔

امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا،کم سنی میں ہی قوت حافظہ کا یہ عالم تھا کہ کم وبیش چار سال کی ننھی سی عمرمیں ناظرہ قرآن مجیدمکمل کیا،چھ سال کی عمر میں ماہ مبارک ربیع الاول شریف کی تقریب میں منبر پر رونق افروز ہوکر بہت بڑے مجمع کی موجودگی میں میلاد شریف کے موضوع مدلل تقریر فرمائی۔اردو فارسی کی کتابیں پڑھنے کے بعد میزان منشعب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی، پھر آپ نے اپنے والد مولانا نقی علی خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے مندرجہ ذیل اکیس علوم پڑھے: علم قرآن، علم تفسیر، علم حدیث، اصول حدیث، کتب فقہ حنفی، کتب فقہ شافعی و مالکی و حنبلی، اصول فقہ، جدل مہذب، علم العقائد و الکلام، علم نجوم، علم صرف، علم معانی، علم بیان، علم بدیع، علم منطق، علم مناظرہ، علم فلسفہ مدلسہ، ابتدائی علم تکحیہ، ابتدائی علم ہیئت، علم حساب تا جمع، تفریق، ضرب، تقسیم، ابتدائی علم ہندسہ۔ تقریباً تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمر شریف میں 14شعبان 1286 ھ مطابق 19 نومبر 1869ء کو آپ فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے نوازے گئے۔

بچپن میں ادب:

امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کوچھ سال کی عمر میں جب بغداد شریف کی سمت معلوم ہوئی تو اس وقت سے لے کر جب تک زندہ رہےغوث اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شہر مبارک بغداد کی طرف ادب کی وجہ سے کبھی پاؤں نہ پھیلائے۔

ہمشیرہ کے تاثرات:

امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بہن کا بیان ہے کہ مولانا بریلوی نے بچپن میں کبھی پڑھائی میں ضد نہیں کی، بغیر کسی کے کہے خودہی پڑھنے تشریف لے جایا کرتے۔ جمعہ کے دن بھی چاہا کہ پڑھنے جائیں مگروالدصاحب کے منع فرمانے سے رک گئے۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت)

روزوں سے محبت:

امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بچپن ہی سے نہ صرف نماز کے پابند تھے بلکہ سات سال کی عمر سے ہی رمضان المبارک کے روزے رکھنا بھی شروع کر دیئے تھے۔

بچپن کی ایک عجیب حِکایت:

جناب سید ایوب علی شاہ صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: بچپن میں امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو گھر پر ایک مولوی صاحب قرآن مجید پڑھانے آیا کرتے تھے۔ ایک روز کا ذکر ہے کہ مولوی صاحب کسی آیت کریمہ میں بار بار ایک لفظ آپ کو پڑھاتےمگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زبان سے نہیں نکلتا تھا وہ زبر بتاتے تھے آپ زیر پڑھتے تھے، جب یہ کیفیت آپ کے دادا حضرت مولانا رضا علی خان صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے دیکھی تو آپ کو اپنے پاس بلایا اور قرآن پاک منگوا کر دیکھا تو اس میں لکھنے والے نے غلطی سے زیر کی جگہ زبر لکھ دیا تھا، یعنی جومولانا احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زبان سے نکلتا تھا وہ صحیح تھا۔ آپ کے دادا نے پوچھا کہ بیٹے جس طرح مولوی صاحب پڑھاتے تھے تم اس طرح کیوں نہیں پڑھتے تھے؟ عرض کی: میں ارادہ کرتا تھا مگر زبان پر قابو نہ پاتا تھا۔

مولانا احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خود فرماتے تھے کہ میرے استاد جن سے میں ابتدائی کتاب پڑھتا تھا، جب مجھے سبق پڑھا دیا کرتے، میں ایک دو مرتبہ دیکھ کر کتاب بند کر دیتا، جب سبق سنتے تو حرف بحرف لفظ بہ لفظ سنا دیتا۔ روزانہ یہ حالت دیکھ کر سخت تعجب کرتے۔ ایک دن کہنے لگے: احمد میاں سچ سچ بتاؤ تم آدمی ہو یا جن؟ کیونکہ مجھے پڑھانے میں دیر لگتی ہے تمھیں یاد کرنے میں دیر نہیں لگتی۔ میں نے عرض کی: اللہ پاک کا شکر ہے میں انسان ہی ہوں ہاں اللہ پاک کا فضل و کرم شاملِ حال ہے۔ (حیاتِ اعلٰی حضرت)

پہلا فتوی:

امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے صِرف تیرہ سال دس ماہ چار دن کی عمر میں تمام رائج علوم کی تکمیل اپنے والدماجد مولانا نقی علی خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کرکے سند فراغت حاصل کی۔ اسی دن آپ نے ایک سوال کے جواب میں پہلا فتویٰ تحریر فرمایا ۔ فتوی صحیح پا کر آپ کے والد ماجد نے مسند افتاء آپ کے سپرد کردی اور آپ زندگی کی شام ہونے تک فتاوی تحریر فرماتے رہے۔33 ضخیم جلدوں پر مشتملفتاویٰ رضویہ “ آپ کی فتوی نویسی کا کچھ حصہ ہے۔

اللہ کریم کی ان پر رحمت ہواور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ (اٰمین یا رب العالمین)

نوٹ:آپ کی شخصیت کو جاننے کے لیے ’’حیاتِ اعلی حضرت‘‘ نامی کتاب کا مطالعہ فرمائیں۔

 

Comments (4)

Security Code

Asif shah

ماشاء اللہ عزّوجل ala hazrat k bachpan k bary men parh kr iman taza hogaya mola hamen amal ki tofeeq de

گلزار احمد

بلا شبہ اعلی حضرت کی حیات طیبہ اھلسنت وچماعت کیلۓ اس پر فتن دور میں مثل روح ہے

kashif

اللھم زد فزد

SHAHID IMRAN CH.

Marhaba kia baat hy Ala Hazrat ki