Imam Ahmad Raza Khan aur Tahafuz e Aqaid Islam

October 12,2018 - Published 60 days ago

Imam Ahmad Raza Khan aur Tahafuz e Aqaid Islam

اللہکریم نے سرزمین ہند کو دیگر بے شمار انعامات کے ساتھ علم وفن کی دولت سے بھی نوازا ہے، یہاں سےہزاروں جَلیل ُالْقَدْر اولیا وصوفیا اور علما نے دین اسلام کا پرچم بلند کیا، ان ہی دین کے خدمت گاروں میں ایک نام امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بھی ہے، آپ نے اپنی زبان وقلم کے ذریعے نہ صرف دین ِاسلام کی تبلیغ واشاعت کی بلکہ دینِ اسلام پر ہونے والے اعتراضات اور اسلام کے تَشَخُّص کو داغدار کرنے والے باطل نظریات کا مُدَلَّل رَدّ بھی فرمایا، ہر دور کی طرح آپ کے دور میں بھی دشمانانِ اسلام کے زرخرید مولویوں نے مسلمانوں کے دلوں سے خوفِ خدا، عشقِ مصطفٰے، ادبِ ِصحابہ اور مقامِ اہلبیت کو گھٹانے کے لیے کئی ہتھکنڈے آزمائے، کبھی قرآن پاک کے غلط ترجمے کرکے، کبھی مسلمانوں کے عقیدوں کو شرک وبدعت کہہ کر تو کبھی اولیا کی فیض گاہوں سے دور کر کے مگر قربان جائیے امام اہلسنت پر جنہوں نےبَفضلِ خداوندی قرآن وحدیث اور آثارِ اسلاف کے جامع دلائل سے ان باطل نظریات کا رَدّ فرما کر امت ِمُسلمہ کو ان کے چنگل میں پھنسنے اور گمراہ ہونے سے بچایا۔عقائدِ اسلام کے تحفظ کے لیے امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمات میں سے چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔ چنانچہ

جب قرآن مجید کی آیات متشابہات کو لیکر آریہ سماج ہندوؤں نے اعتراضات کیے تو سیدی اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کے رد میں تحقیقی رسالہ ’’قَوَارِعُ الْقَہَّارِعَلَی الْمُجَسَّمَۃِ الْفُجَّارِ‘‘ لکھا اور تمام اعتراضات کا مُسکِت جواب دیا۔اس رسالہ کا مطالعہ کرنے کے لیے فتاوٰی رضویہ کی جلد انتیس29 کو دیکھیے۔

جس وقت ایسے تراجم قرآن کی کثرت ہونے لگی جس میں تقدیس الہی کا پا س تھا نہ عظمت رسول کا رنگ ،کوئی اللہ پاک کو دھوکا دینے والا لکھ رہا ہے تو کوئی رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو گمراہ، ایسے ماحول میں ایک ایسے ترجمۂ قرآن کی سخت ضرورت تھی جو عظمت ِخداوندی کا آئینہ اور حرمتِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سرچشمہ ہو ۔ اللہ پاک نے یہ عظیم کام سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےلیا ۔آپ نے قرآن پاک کا ترجمہ کیا جو کہ کنز الایمان کے نام سےآج بہت مشہور ہے ۔آپ کے ترجمہء قرآن کو پڑھنے سے دل میں اللہ پاک کی محبت اور عشق رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں اضافہ ہوتا ہے ۔

جب اس بات پر کتابیں لکھیں جانے لگیں کہ جھوٹ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت میں داخل ہے اور وہ جھوٹ بولنے پر قادر ہے تو سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ’’سُبْحٰن السُّبُّوْحِ عَنْ کِذْب مّقْبُوْح‘‘ لکھ کر اس بات کو ثابت کیا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات اس عیب سے پاک ہے،’’‘‘ مزید تفصیلات کے لیےفتاوٰی رضویہ کی پندرہویں 15جلد دیکھیں۔

ختم نبوت کے انکاری نظریہ پر سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کا سخت تعاقب کیا اور اس کے رد میں کتب و رسائل بنام ’’اَلسّو ء وَالْعِقَاب عَلَی الَمَسِیْحِ الْکَذَّابِ‘‘ ، ’’قَھْرُ الدِّیَانِ عَلٰی مُرْتَدٍّ بِقَادِیَانِ‘‘ ، ’’اَلْجُرَازُ الدِّیَانِیْ عَلَی الْمُرْتَدِّ الْقَادِیَانِیْ‘‘، ’’ جَزَاءُ اﷲِ عَدُوِّہ بِاٰبَائِہٖ ختم النبُوَّۃِ‘‘ لکھے جس سے آپ کی علمیت اور رد مزائیت کا واضح ثبوت ملتا ہے مزید تفصیلات کے لیےفتاوٰی رضویہ کی پندرہویں 15جلد دیکھیں۔

جب اس نظریہ کو عام کیا جانے لگاکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کولفظِ یا کے ساتھ نداء کرنا شرک ہے تو سیدی اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے’’ اَنْوَارُ الْاِنْتِبَاہِ فِیْ حَلِّ نِدَاءِ یَارَسْوْلَ اللہِ ‘‘ نامی رسالہ لکھا اور یہ ثابت کیا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو لفظِ یاکے ساتھ پکارنا نہ صرف جائز بلکہ اسلاف سے ثابت بھی ہے، مزید تفصیلات کے لیےفتاوٰی رضویہ کی انتیسویں29 جلد دیکھیں۔

جب اہل اسلام میں یہ بات پھیلائ جانے لگی کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دافع البلاء(مصیبتوں کودور کرنے والا) سمجھنا شرک ہے سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے قلم اٹھایا اور رسالہ ’’اَلْاَمْنُ وَالْعُلٰی لِنَا عَتِیِ الْمُصْطَفٰی بِدَافِعِ الْبَلَاءِ‘‘لکھا اور اس بات کو ثابت کیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ پاک کی عطا سےدافعُ البلاء ہیں یہ رسالہ فتاوٰی رضویہ کی تیسویں 30جلد میں برکتیں لُٹا رہا ہے۔

جب مسلمانوں کو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متعلق عطائی علم غیب رکھنے کے عقیدہ پر مشرک کہاجانے لگا تو سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس طرح کی باتیں کرنے والے تمام لوگوں کا علمی تعاقب کیااور رسالہ ’’اِنْبَآءُ الْمُصْطَفٰی بِحَالِ سِرِّواَخْفٰی‘‘ لکھا اور ثابت کیا کہ اللہ پاک نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو صبح قیامت تک کے جمیع امور کا علم عطا فرمایا اور یہ رسالہ فتاوٰی رضویہ کی انتیسویں 29جلد میں پڑھنے والوں کے عشق میں اضافہ کا سبب بن رہاہے ہے۔

جب غیر اﷲ سے استغاثہ اور مدد کے متعلق مسلمانوں پر یہ الزام لگایا جانے لگا کہ وہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو معبود مان کر ان سے مدد مانگتے ہیں اور اس بات کی آ ڑ میں مَعَاذَ اللہ مسلمانوں کو مشرک اور بدعتی تک کہا جانے لگا تو سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے رسالہ ’’بَرَکَاتُ الْاِمْدَادِ لِاَھْلِ الْاِسْتِمْدَادِ‘‘ تالیف کیا اور ثابت کیا کہ مسلمانوں پر یہ کھلا بہتان ہے اور اس مسئلہ کی تمام صورتوں کو واضح کردیا۔اس رسالہ کو فتاوٰی رضویہ کی جلد اکیس 21 میں پڑھا جاسکتا ہے۔

یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسلام کی نظریاتی حدود کی حفاظت کی ہے۔ اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے مزار پر انوار پر اپنی رحمت و رضوان کی بارش نازل فرمائے ۔اور ہمارے ایمان و عقیدہ کی حفاظت فرمائے۔

آمین

Comments (1)

Security Code

kashif Madani

بارک اللہ