Imam Ahmad Raza Khan aur Tahafuz e Aqaid Islam

October 12,2018 - Published 134 days ago

Imam Ahmad Raza Khan aur Tahafuz e Aqaid Islam

امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اورتحفظِ عقائد اسلام

اللہکریم نے سرزمین ہند کو دیگر بے شمار انعامات کے ساتھ علم وفن کی دولت سے بھی نوازا ہے، یہاں سےہزاروں جَلیلُ الْقَدْر اولیا وصوفیا اور علما نے دین اسلام کا پرچم بلند کیا، ان ہی دین کے خدمت گاروں میں ایک نام امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا بھی ہے، آپ نے اپنی زبان وقلم کے ذریعے نہ صرف دین ِاسلام کی تبلیغ واشاعت کی بلکہ دینِ اسلام پر ہونے والے اعتراضات اور اسلام کے تَشَخُّص کو داغدار کرنے والے باطل نظریات کا مُدَلَّل رَدّ بھی فرمایا، ہر دور کی طرح آپ کے دور میں بھی دشمنانِ اسلام کے زرخرید مولویوں نے مسلمانوں کے دلوں سے خوفِ خدا، عشقِ مصطفٰے، ادبِ ِصحابہ اور مقامِ اہلبیت کو گھٹانے کے لیے کئی ہتھکنڈے آزمائے، کبھی قرآن پاک کے غلط ترجمے کرکے، کبھی مسلمانوں کے عقیدوں کو شرک وبدعت کہہ کر تو کبھی اولیا کی فیض گاہوں سے دور کر کے مگر قربان جائیے امام اہلسنت پر جنہوں نےبَفضلِ خداوندی قرآن وحدیث اور آثارِ اسلاف کے جامع دلائل سے ان باطل نظریات کا رَدّ فرما کر امت ِمُسلمہ کو ان کے چنگل میں پھنسنے اور گمراہ ہونے سے بچایا۔عقائدِ اسلام کے تحفظ کے لیے امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ کی خدمات میں سے چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔ چنانچہ:

جب قرآن مجید کی آیات متشابہات کو لے کر آریہ سماج ہندوؤں نے اعتراضات کیے تو سیدی اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ان کے رد میں تحقیقی رسالہ ’’قَوَارِعُ الْقَہَّارِعَلَی الْمُجَسَّمَۃِ الْفُجَّارِ‘‘ لکھا اور تمام اعتراضات کا مُسکِت جواب دیا۔آپ ’’فتاوٰی رضویہ‘‘ کی جلد انتیس 29سے اس رسالہ کا مطالعہ فرما سکتے ہیں۔

جس وقت ایسے تراجمِ قرآن کی کثرت ہونے لگی جس میں تقدیسِ الہٰی کا پا س تھا نہ عظمت رسول کا رنگ ،کوئی اللہ پاک کی طرف دھوکے اور فریب کی نسبت کر رہا ہے تو کوئی رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو گمراہ اور گناہ گار بتا رہا ہے، ایسے گمراہ کن تراجم کی روک تھام کے لیے ایک ایسے ترجمَۂ قرآن کی ضرورت تھی جو عظمت ِخداوندی کا آئینہ اور حرمتِ رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سرچشمہ ہو ۔ اللہ پاک نے یہ عظیم کام سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے لیا۔ آپ نے جس قدر خوفِ خدا اور عشق مصطفٰے میں ڈوب کر قرآن پاک کا ترجمہ کیا اس کا اندازہ آپ کا ترجمہ قران بنام ’’کنز الایمان‘‘ پڑھنے کے بعد ہی اندازہ ہو سکتا ہے، جسے صرف ترجمہ نہیں بلکہ تفسیری ترجمہ کہنا مناسب ہو گا۔

جب جھوٹ جیسے فعل قبیح کوقدرت باری تعالیٰ کے تحت مان کر ذات خدا کی طرف عیب کی نسبت کی جانے لگی تو سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ’’سُبْحٰن السُّبُّوْحِ عَنْ کِذْب مّقْبُوْح‘‘ لکھ کر اس بات کو ثابت کیا کہ اللہ پاک کی ذات اس عیب سے پاک ہے۔ اس تحقیقی رسالہ کو فتاوی رضویہ شریف کی جلد 15سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

مسلمانوں کے عقیدۂ ختم نبوت پر جب مرزا غلام احمد قادیانی نے ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی اور کچھ لوگوں نے لفظ خاتم النبیین کی غلط تصویر کشی کی تو سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے ان کا سخت تعاقب کیا اور ان کے رد میں کتب و رسائل بنام ’’اَلسّو ء وَالْعِقَاب عَلَی الَمَسِیْحِ الْکَذَّابِ‘‘، ’’قَھْرُ الدِّیَانِ عَلٰی مُرْتَدٍّ بِقَادِیَانِ‘‘، ’’اَلْجُرَازُ الدِّیَانِیْ عَلَی الْمُرْتَدِّ الْقَادِیَانِیْ‘‘، ’’ جَزَاءُ اﷲِ عَدُوِّہ بِاٰبَائِہٖ ختم النبُوَّۃِ‘‘ لکھے جس سے آپ کی علمیت اور رد مزائیت کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیےفتاوٰی رضویہ جلد15 کا مطالعہ فرمائیں۔

جب بزرگان دین کے عقیدے وعمل ندائے یا رسول اللہ کو شرک بتا کر مسلمانوں کے دل سے محبت نبی کو نکالنے کی کوشش کی گئی توامام اہل سنت نے’’ اَنْوَارُ الْاِنْتِبَاہِ فِیْ حَلِّ نِدَاءِ یَارَسْوْلَ اللہِ ‘‘ نامی رسالہ لکھا اور یہ ثابت کیا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو لفظ یا کے ساتھ پکارنا نہ صرف جائز بلکہ اسلاف سے ثابت بھی ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد29)

جب حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمْکو بے اختیار کہہ کر مسلمانوں کے دل چھلنی کیے جانے لگے توسیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے قلم اٹھایا اور شان واختیارات مصطفے پر رسالہ ’’اَلْاَمْنُ وَالْعُلٰی لِنَا عَتِی الْمُصْطَفٰی بِدَافِعِ الْبَلَاءِ‘‘لکھا اور اس بات کو ثابت کیا کہ رسول اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ پاک کی عطا بااختیار ہیں۔ یہ رسالہ فتاوٰی رضویہ کی تیسویں 30 میں دیکھا جا سکتا ہے۔

جب مسلمانوں کو رسولُ اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے متعلق عطائی علم غیب رکھنے کے عقیدہ پر مشرک کہاجانے لگا تو سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اس طرح کی باتیں کرنے والے تمام لوگوں کا علمی تعاقب کیااور رسالہ ’’اِنْبَآءُ الْمُصْطَفٰی بِحَالِ سِرِّواَخْفٰی‘‘ لکھا اور ثابت کیا کہ اللہ پاک نے آپصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو صبح قیامت تک کے جمیع امور کا علم عطا فرمایا ہے۔ یہ رسالہ فتاوٰی رضویہ کی جلد انتیس 29سے مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

جب غَیر اﷲ سے استغاثہ اور مدد کے متعلق مسلمانوں پر یہ الزام لگایا جانے لگا کہ وہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمْاور اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو معبود مان کر ان سے مدد مانگتے ہیں اور اس بات کی آ ڑ میں مَعَاذَ اللہ مسلمانوں کو مشرک اور بدعتی تک کہا جانے لگا تو سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہنے اپنے رسالہ ’’بَرَکَاتُ الْاِمْدَادِ لِاَھْلِ الْاِسْتِمْدَادِ‘‘میں ثابت کیا کہ یہ مسلمانوں پر یہ کھلا بہتان ہے اور اس مسئلہ کی تمام صورتوں کو واضح کردیا۔اس رسالہ کو فتاوٰی رضویہ کی جلد اکیس 21میں پڑھا جاسکتا ہے۔

یہ چند مثالیں تھیں، اس کے علاوہ امام اہلسنت کے سینکڑوں فتاوی اور بیسیوں کتب ورسائل اسلام کی نظریاتی حدود کی حفاظت کرتے نظر آتے ہیں۔ اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ سیِّدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے مزار پر انوار پر اپنی رحمت و رضوان کی بارش نازل فرمائے اور ہمارے ایمان و عقیدہ کی حفاظت فرمائے۔آمین!

Comments (1)

Security Code

kashif Madani

بارک اللہ