حضرت سیدنا شعیب علیہ السّلام (قسط:03)

انبیائےکرام کے واقعات

حضرت سیّدُناشعیب علیہ السّلام (قسط:03)

*مولانا ابوعبید عطاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ مارچ2024ء

قوم کے طنزیہ جملے: (قوم نے) کہا: اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق عمل نہ کریں۔ واہ بھئی! تم تو بڑے عقلمند، نیک چلن ہو۔([1])یعنی حیران ہو کر کہا کہ آپ تو بڑے عقلمند اور نیک چلن ہیں، پھر آپ ہمیں کیسے یہ حکم دے رہے ہیں کہ ہم نسل در نسل چلتے ہوئے اپنے معبود کی پوجا کے طریقے کو چھوڑ دیں۔ آپ علیہ السّلام نے اپنی قوم کو ان باتوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:اے میری قوم! مجھے بتاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل یعنی علم، ہدایت، دین اور نبوت سے سرفراز کیا گیا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے پاس سے بہت زیادہ حلال مال عطا فرمایا ہوا ہو تو پھر کیا میرے لئے یہ جائز ہے کہ میں اس کی وحی میں خیانت کروں اور اس کا پیغام تم لوگوں تک نہ پہنچاؤں۔ یہ میرے لئے کس طرح رَوا ہوسکتا ہے کہ اللہ مجھے اتنی کثیر نعمتیں عطا فرمائے اور میں اس کے حکم کی خلاف ورزی کروں۔ ([2])

قومِ مَدین پر عذاب آگیا:معجزہ دکھانے اور قوم کو بار بار سمجھانے کے بعد بھی قوم کی سرکشی اور نافرمانی بڑھتی رہی جب آپ مایوس ہوگئے کہ ان کی اصلاح نہیں ہوگی اور نہ ہی یہ ہدایت کی طرف آئیں گے تو آپ نے ان کے خلاف اللہ سے دُعا کی،([3]) اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں حق کے ساتھ فیصلہ فرمادے اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔([4]) آخر کار اس نافرمان قوم پر عذاب آگیا اور وہ قوم ہلاکت و بربادی کا نشان یوں بن گئی کہ انہیں شدید زلز لے نے اپنی گرفت میں لے لیا تو صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔([5])

مُردہ قوم سے خطاب:قوم کی ہلاکت کے بعد جب آپ علیہ السَّلام ان کی بے جان لاشوں پر گزرے تو ان سے فرمایا: اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دئیے اور میں نے تمہاری خیرخواہی کی لیکن تم کسی طرح ایمان نہ لائے۔([6])

قومِ اَیْکَہ: دوسری قوم جس کی جانب حضرت شعیب علیہ السَّلام کو مبعوث فرمایا گیا وہ اہلِ اَیْکَہ تھے۔ اَیْکَہ جھاڑی کو کہتے ہیں، ان لوگوں کا شہر چونکہ سرسبز جنگلوں اور ہرے بھرے درختوں کے درمیان تھا اس لئے انہیں جھاڑی والا فرمایا گیا۔([7])

جھوٹے معبود: اَیکہ کے بادشاہ کا نام ”اَبو جَاد“ تھا اس نے اپنی قوم کے لئے 30 باطل معبود بنائے، اپنے خاندان کے لئے سونے اور جواہرات کے10جھوٹے معبود جبکہ عوام کیلئے چاندی، تانبہ، پتھر، لوہے اور لکڑی کے20جھوٹے معبود بنائے۔([8])

نیکی کی دعوت: آپ علیہ السَّلام نے اپنی قوم اَیکہ کو اللہ پاک پر ایمان لانے کی دعوت دی اور یوں سمجھایا: کیا تم ڈرتے نہیں؟ بیشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور میں اس (تبلیغ) پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ (اے لوگو!) ناپ پورا کرو اور ناپ تول کو گھٹانے والوں میں سے نہ ہوجاؤ۔ اور بالکل درست ترازو سے تولو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔ اور اس سے ڈرو جس نے تمہیں اور پہلی مخلوق کوپیدا کیا۔ ([9])

 بادشاہ نے انکار کردیا: اس دعوت کو سُن کر بادشاہ کہنے لگا: آپ نے اپنا پیغام پہنچادیا اور ہم نے سُن لیا اب ہمارے پاس دوبارہ لوٹ کر نہ آئیے گا، آپ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں، میں بار بار آتا رہوں گا اور دعوتِ دین دیتا رہوں گا یہاں تک کہ تم اللہ کی اطاعت کرلو۔ بادشاہ آپ کی بات سُن کر بہت غصہ ہوا یہ دیکھ کر آپ واپس لوٹ آئے اور تبلیغِ دین جاری رکھی اور کفار کو ایک اللہ کی طرف بلاتے رہے اور نصیحتیں کرتے رہے لیکن وہ قوم باز نہ آئی البتہ اس بادشاہ کا ایک وزیر ایمان لے آیا تھا لیکن اس نے آپ علیہ السَّلام سےاپنا ایمان چھپائے رکھنے کی گزارش کی تو آپ نے اس کے ایمان کو مخفی رہنے دیا۔([10])

پیارے اسلامی بھائیو! حضرت شعیب علیہ السَّلام کے اس فرمان میں کہ”میں بار بار آتا رہوں گا اور دعوتِ دین دیتا رہوں گا یہاں تک کہ تم اللہ کی اطاعت کرلو“ ہمارے لئے بڑا پیارا درس ہے کہ اگر سامنے والا ہماری نیکی کی دعوت قبول نہیں کرتا تو ہم دل برداشتہ ہوکر نیکی کی دعوت دینا نہ چھوڑیں اور کسی کو ایک آدھ مرتبہ نیکی کی دعوت دے کر یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے اپنی ذمّہ داری پوری کردی اور اب اسے دوبارہ نیکی کی دعوت نہیں دینی، اے اللہ! اپنے پیارے نبی حضرت شعیب علیہ السّلام کے صدقے ہمیں نیکی کی دعوت دینے کا عظیم جذبہ عطا فرما، اٰمین۔

قوم کی بدتمیزی: آخر کار ان لوگوں نے حضرت شعیب علیہ السَّلام کی نصیحت سُن کر کہا:اے شعیب! تم تو ان لوگوں میں سے ہو جن پر جادو ہوا ہے اورتم کوئی فرشتے نہیں بلکہ ہمارے جیسے ایک آدمی ہی ہواور تم نے جونبوت کا دعویٰ کیا بے شک ہم تمہیں اس میں جھوٹا سمجھتے ہیں۔اگر تم نبوت کے دعوے میں سچے ہو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ عذاب کی صورت میں ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے۔([11]) (اے اللہ ! ہمیں ایسی بات کہنے سے محفوظ فرمااور ہمیں اپنے انبیا و اولیا کا ادب نصیب فرما، اٰمین)

قومِ اَیکہ پر عذاب: حضرت شعیب علیہ السَّلام نے ان لوگوں کا جواب سُن کر ان سے فرمایا: میرا رب تمہارے اعمال کو اور جس عذاب کے تم مستحق ہو اسے خوب جانتا ہے، وہ اگر چاہے گا تو آسمان کا کوئی ٹکڑ اتم پر گِرا دے گایاتم پر کوئی اور عذاب نازِل کرنا اس کی مَشِیَّت میں ہو گا تو میرا رب وہ عذاب تم پر نازل فرمادے گا۔([12])پھر ایک دن انہیں شامیانے کے دن کے عذاب نے پکڑلیا، بیشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا جو کہ اس طرح ہوا کہ انہیں شدید گرمی پہنچی، ہوا بند ہوئی اور سات دن گرمی کے عذاب میں گرفتار رہے۔ تہ خانوں میں جاتے وہاں اور زیادہ گرمی پاتے۔ اس کے بعد ایک بادل آیا سب اس کے نیچے آکے جمع ہوگئے تو اس سے آگ برسی اور سب جل گئے۔([13])

مؤمن محفوظ رہے: اس قوم میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لائے تھے، حضرت شعیب علیہ السَّلام اور دیگر مؤمنین کفار پر عذاب نازل ہوتا دیکھتے رہے لیکن اللہ کی رحمت سے مؤمنوں پر کچھ بھی آنچ نہ آئی، پھر آپ نے کفار کے مال کو اپنی مسلمان قوم پر تقسیم فرما دیا اس کے بعد ایک مؤمنہ عورت سے نکاح کرلیا اور مسلسل سرزمینِ مَدین میں آباد رہے۔([14])                                                                                                                             بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغُ التحصیل جامعۃُ المدینہ، شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])پ12،ھود: 87

([2])صراط الجنان،4/483، 484

([3])شرح الشفالعلی القاری،1/335

([4])پ9، الاعراف:89

([5])پ9،الاعراف:91

([6])صراط الجنان، 3/382

([7])صراط الجنان، 5/257

([8])نہایۃ الارب، 13/145

([9])پ19، الشعراء: 177تا 184

([10])نہایۃ الارب، 13/147

([11])صراط الجنان، 7/153

([12])صراط الجنان،7/154

([13])صراط الجنان،7/154

([14])نہایۃ الارب، 13/149۔


Share