Book Name:Ummat-e-Mustafa Ki Khasusiyaat

رَبِّ ھَبْ لِی اُمَّتِی ‘‘ کہتے   ہوئے   پیدا   ہوئے     حق  نے  فرمایا  کہ بخشا  ’’الصَّلٰوۃُ والسَّلام

 (قَبالَۂ بخشش ،ص۹۴)

اِسی طرح رَحمتِ عالَم،نورِ مُجسّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سفرِمِعراج پر روانگی کے وقت اُمَّت کے عاصِیوں  کو یاد فرما کر آبدیدہ ہوگئے،دیدارِ جمالِ خداوندی اور خصُوصی نواز شات کے وقت بھی گُنہگارانِ اُمَّت کو یاد فرمایا۔(بخاری، کتاب التوحید،باب قولہ تعالٰی(وکلم اللہ موسٰی تکلیمًا۴/ ۵۸۱، حدیث:۷۵۱۷مفہوماً)

عُمر بھر(وقتافوقتا) گُنہگارانِ اُمَّت کے لیے غمگین رہے۔(مسلم، باب دعاء النبی لامتہ، الخ، ص۱۰۹،حدیث:۲۰۲ مفہومًا)

 جب قَبر شریف میں  اُتاراگیا، لبِ جاں  بخش کو جُنْبِش تھی ،بعض صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوان نے کان لگا کرسُنا، آہستہ آہستہ اُمَّتِی(میری اُمَّت)فرماتے تھے۔ قِیامت میں  بھی اِنہی   کے دامن میں  پناہ ملے گی، تمام اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے”نَفْسِی نَفْسِی اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِی(یعنی آج مجھے اپنی فکر ہے کسی اور کے پا س چلے جاؤ )سُنو گے اوراس غَمْخوارِ اُمَّت کے لب پر ’’یَارَبِّ اُمَّتِی اُمَّتِیْ‘‘(اے رَبّ !میری اُمَّت کو بخش دے )کا شورہوگا۔(مسلم،باب ادنی اہل الجنّۃ منزلۃ فیہا، ص۱۰۵،۱۰۶ ، حدیث:۱۹۴مفہوماً)

کسی کے پاؤں کی بیڑی یہ کاٹتے ہوں گے                 کوئی اسیرِ غم ان کو پُکارتا ہو گا

کوئی کہے گا دُہائی ہے یا رسولَ اللہ           تو کوئی تھام کے دامن مچل گیا ہوگا

عزیز بچّہ کو ماں جس طرح تلاش کرے   خدا گواہ یہی حال آپ کا ہو گا

کہیں گے اور نبی اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِی                          مِرے حُضور کے لَب پر اَنَا لَھَا ہوگا

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                           صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سنا آپ نے!رحمتِ کونین،نانائے حسنین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ گناہگار اُمّت سے کتنی مَحَبَّت و اُلفت فرماتے ہیں اور آپ کو اپنی اُمّت کا کتنا خیال ہے۔جبکہ دوسری جانب  اگر ہم اس اُمّت کے حالِ زار کا جائزہ لیں تو یہ دل خراش حقیقت(Reality) سامنے آئے گی کہ اُمّتِ مسلمہ کی اکثریت اب اپنے اس محسن و مہربان آقا