پیران پیر کی ادائیں

اسلامی طریقے

پیرانِ پیرکی ادائیں

محمد آصف خان عطاری مدنی

ماہنامہ ربیع الآخر 1439

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے پیرِ لاثانی ، شہبازِ لامکانی ، غوثِ صَمَدانی ، قطبِ ربّانی ، شیخ عبدالقادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کو حُسنِ اخلاق سے نوازا تھا*آپ  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ذکر و فکر میں مشغول رہتے *مخلوقِ خدا کی خیر خواہی کرتے ، مہربان ، شفیق اور مہمان نواز تھے *بَہجَۃُ الْاَسْرَار میں ہے : آپ  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بڑے سخی تھے*سوالی کو خالی ہاتھ نہ لَوٹاتے تھے *مساکین اور غُرَباء پر بےحد شفقت فرماتے* ضعیفوں کے ساتھ بیٹھا کرتے *بیماروں کی عِیادت فرماتے تھے *آپ  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے اَصحاب میں سے کوئی حاضرِ خدمت نہ ہوتا تو اس کی خبرگِیری فرماتے *آپ  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ہم نشین کی عزت کرتے اور اس کے ساتھ خَندہ پیشانی سے پیش آتے ، جب اُسے مَغْمُوم دیکھتے تو اس کے غم دُور فرما دیتے *آپ کا ہر ہم نشین یہی سمجھتا کہ وہی آپ کے نزدیک مکُرَّم ہے*آپ  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ہر رات دسترخوان بچھانے کا حکم دیتے اور مہمانوں کے ساتھ کھانا تناوُل فرماتے *جب آپ کے پاس کوئی تحفہ آتا تو حاضرین میں تقسیم کردیتے *ہدیہ قبول فرماتے اور اس کا عِوَض (یعنی بدلہ) عطا فرماتے *اپنے نفس کے لئے غصہ نہ کرتے تھے۔ (بہجۃ الاسرار ، ص 199 تا 201 ، ملتقطاً) پ  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خاموشی آپ کے کلام سے زیادہ ہوتی تھی۔ (قلائد الجواہر ، ص6) *سلام میں پہل فرمایا کرتے۔ *آپ  رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کبھی اُمَرَاء و رُؤَسَا کی تعظیم کے لئے کھڑے نہیں ہوئے اور نہ ہی وُزَرَاء و سَلاطِین کے دروازے پر گئے۔ (قلائد الجواہر ، ص19 ، ملتقطاً)

Share