مقدمہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ،نَحْمَدُهٗ وَنَسْتَعِيْنُهٗ وَنَسْتَغْفِرُهٗ، وَنَعُوذُ بِاللّٰهِ، مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ اَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهٗ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِیَ لَهٗ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ شَهَادَةً تَكُوْنُ لِلنَّجَاةِ وَسِيْلَةً، وَلِرَفْعِ الدَّرَجَاتِ كَفِيْلَةً، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهٗ ، الَّذِيْ بَعَثَهٗ وَطُرُقُ الْإِيمَانِ قَدْ عَفَتْ اٰثَارُهَا، وَخَبَتْ أَنْوَارُهَا، وَوَهَنَتْ أَرْكَانُهَا، وَجُهِلَ مَكَانُهَا، فَشَيَّدَ صَلَوَاتُ اللّٰهِ، عَلَيْهِ وَسَلَامُهٗ مِنْ مَعَالِمِهَا مَا عَفَا، وَشَفٰى مِنَ الْعَلِيْلِ فِي تَأْيِيْدِ كَلِمَةِ التَّوْحِيْدِ مَنْ كَانَ عَلٰى شَفًا، وَأَوْضَحَ سَبِيلَ الْهِدَايَةِ، لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْلُكَهَا، وَأَظْهَرَ كُنُوزَ السَّعَادَةِ لِمَنْ قَصَدَ أَنْ يَمْلِكَهَا. أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ التَّمَسُّكَ بِهَدْيِهٖ لَا يَسْتَتِبُّ إِلَّا بِالِاقْتِفَاءِ لِمَا صَدَرَ مِنْ مِشْكَاتِهٖ، وَالِاعْتِصَامُ بِحَبْلِ اللّٰهِ لَا يَتِمُّ إِلَّا بِبَيَانِ كَشْفِهٖ، وَكَانَ ( كِتَابُ الْمَصَابِيْحِ ) الَّذِيْ صَنَّفَهٗ الْإِمَامُ مُحْيِي الْسُّنَّةِ، قَامِعُ الْبِدْعَةِ، أَبُو مُحَمَّدٍ الْحُسَيْنُ ابْنُ مَسْعُودٍ الْفَرَّاءِ الْبَغَوِيُّ، رَفَعَ اللّٰهُ دَرَجَتَهٗ أَجْمَعَ كِتَابٍ صُنِّفَ فِي بَابِهٖ، وَأَضْبَطَ لِشَوَارِدِ الْأَحَادِيْثِ، وَأَوَابِدِهَا، وَلَمَّا سَلَكَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ طَرِيْقَ الِاخْتِصَارِ، وَحَذَفَ الْأَسَانِيْدَ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ النُّقَّادِ، وَإِنْ كَانَ نَقْلُهٗ وَإِنَّهٗ مِنَ الثِّقَاتِ كَالْإِسْنَادِ، لٰكِنْ لَيْسَ مَا فِيْهِ أَعْلَامٌ كَالْأَغْفَالِ، فَاسْتَخَرْتُ اللّٰهَ تَعَالٰى، وَاسْتَوْفَقْتُ مِنْهُ فَأَعْلَمْتُ مَا أَغْفَلَهٗ ، فَأَوْدَعْتُ كُلَّ حَدِيْثٍ مِنْهُ فِْي مَقَرِّهٖ ، كَمَا رَوَاهُ الْأَئِمَّةُ الْمُتْقِنُوْنَ، وَالثِّقَاتُ الرَّاسِخُوْنَ مِثْلُ أَبِي عَبْدِ اللّٰهِ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيْلَ الْبُخَارِيِِِِّ، وَأَبِي الْحُسَيْنِ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْقُشَيْرِيِّ، وَأَبِي عَبْدِ اللّٰهِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ الْأَصْبَحِيِّ. وَأَبِي عَبْدِ اللّٰهِ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، وَأَبِي عَبْدِ اللّٰهِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ الشَّيْبَانِيِّ، وَأَبِي عِيسٰي مُحَمَّدِ بْنِ عِيْسٰی اَلْتِّرْمِذِيِِِّ، وَأَبِي دَاوُدَ سُلَيْمَانَ ابْنِ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيِّ، وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَحْمَدَ بْنِ شُعَيْبٍ النَّسَائِيِّ، وَأَبِي عَبْدِ اللّٰهِ، مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيْدَ ابْنِ مَاجَهْ الْقَزْوِينِيِّ، وَأَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الدَّارَمِيِّ، وَأَبِي الْحَسَنِ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيِّ، وَأَبِي بَكْرٍ أَحْمَدَ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيِّ، وَأَبِْي الْحَسَنِ رَزِيْنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْعَبْدَرِيِِِّ، وَغَيْرِهِمْ، وَقَلِيلٌ مَا هُوَ. وَإِنِّي إِذَا نَسَبْتُ الْحَدِيْثَ إِلَيْهِمْ كَأَنِّي أَسْنَدْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُمْ قَدْ فَرَغُوا مِنْهُ، وَأَغْنَوْنَا عَنْهُ. وَسَرَدْتُ الْكُتُبَ، وَالْأَبْوَابَ كَمَا سَرَدَهَا، وَاقْتَفَيْتُ أَثَرَهٗ فِيْهَا، وَقَسَّمْتُ كُلَّ بَابٍ غَالِبًا عَلٰى فُصُوْلٍ ثَلَاثَةٍ: أَوَّلُهَا: مَا أَخْرَجَهُ الشَّيْخَانِ، أَوْ أَحَدُهُمَا، وَاكْتَفَيْتُ بِهِمَا، وَإِنِ اشْتَرَكَ فِيهِ الْغَيْرُ لِعُلُوِّ دَرَجَتِهِمَا فِي الرِّوَايَةِ. وَثَانِيْهَا: مَا أَوْرَدَهُ غَيْرُهُمَا مِنَ الْأَئِمَّةِ الْمَذْكُورِينَ. وَثَالِثُهَا: مَا اشْتَمَلَ عَلٰى مَعْنَى الْبَابِ مِنْ مُلْحَقَاتٍ مُنَاسِبَةٍ مَعَ مُحَافَظَةٍ عَلَى الشَّرِيْطَةِ، وَإِنْ كَانَ مَأْثُورًا عَنِ السَّلَفِ وَالْخَلَفِ. ثُمَّ إِنَّكَ إِنْ فَقَدْتَ حَدِيثًا فِي بَابٍ، فَذٰلِكَ عَنْ تَكْرِيرٍ أُسْقِطُهٗ. وَإِنْ وَجَدْتَ آخَرَ بَعْضَهٗ مَتْرُوْكًا عَلٰى اخْتِصَارِهٖ، أَوْ مَضْمُومًا إِلَيْهِ تَمَامُهٗ فَعَنْ دَاعِيْ اهْتِمَامٍ أَتْرُكُهٗ، وَأُلْحِقُهٗ. وَإِنْ عَثَرْتَ عَلٰى اخْتِلَافٍ فِي الْفَصْلَيْنِ مِنْ ذِكْرِ غَيْرِ الشَّيْخَيْنِ فِي الْأَوَّلِ، وَذِكْرِهِمَا فِي الثَّانِيْ فَاعْلَمْ أَنِّي بَعْدَ تَتَبُّعِيْ كِتَابَيْ: (الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّحِيْحَيْنِ) لِلْحُمَيْدِيِّ، وَ (جَامِعَ الْأُصُوْلِ) اعْتَمَدْتُ عَلٰى صَحِيحَيِ الشَّيْخَيْنِ، وَمَتْنَيْهِمَا. وَإِنْ رَأَيْتَ اخْتِلَافًا فِي نَفْسِ الْحَدِيْثِ فَذٰلِكَ مِنْ تَشَعُّبِ طُرُقِ الْأَحَادِيْثِ، وَلَعَلِّي مَا اطَّلَعْتُ عَلٰى تِلْكَ الرِّوَايَةِ الَّتِي سَلَكَهَا الشَّيْخُ - رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ - وَقَلِيلًا مَا تَجِدُ أَقُوْلُ: مَا وَجَدْتُ هٰذِهِ الرِّوَايَةَ فِي كُتُبِ الْأُصُوْلِ، أَوْ وَجَدْتُ خِلَافَهَا فِيْهَا. فَإِذَا، وَقَفْتَ عَلَيْهِ فَانْسِبِ الْقُصُوْرَ إِلَيَّ لِقِلَّةِ الدِّرَايَةِ، لَا إِلٰى جَنَابِ الشَّيْخِ رَفَعَ اللّٰهُ قَدْرَهٗ فِي الدَّارَيْنِ، حَاشَا لِلّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ! رَحِمَ اللّٰهُ مَنْ إِذَا وَقَفَ عَلٰى ذٰلِكَ نَبَّهَنَا عَلَيْهِ، وَأَرْشَدَنَا طَرِيْقَ الصَّوَابِ. وَلَمْ آلُ جُهْدًا فِي التَّنْقِيْرِ، وَالتَّفْتِيْشِ بِقَدْرِ الْوُسْعِ وَالطَّاقَةِ، وَنَقَلْتُ ذٰلِكَ الِاخْتِلَافَ كَمَا وَجَدْتُ. وَمَا أَشَارَ إِلَيْهِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ مِنْ غَرِيْبٍ أَوْ ضَعِيْفٍ، أَوْ غَيْرِهِمَا بَيَّنْتُ وَجْهَهٗ غَالِبًا. وَمَا لَمْ يُشِرْ إِلَيْهِ مِمَّا فِي الْأُصُوْلِ فَقَدْ قَفَّيْتُهٗ فِي تَرْكِهٖ، إِلَّا فِي مَوَاضِعَ لِغَرْضٍ، وَرُبَّمَا تَجِدُ مَوَاضِعَ مُهْمَلَةً، وَذٰلِكَ حَيْثُ لَمْ أَطَّلِعْ عَلٰى رِاوِيهِ فَتَرَكْتُ الْبَيَاضَ. فَإِنْ عَثَرْتَ عَلَيْهِ فَأَلْحِقْهُ بِهٖ، أَحْسَنَ اللّٰهُ جَزَاءَكَ. وَسَمَّيْتُ الْكِتَابَ بِـ (مِشْكَاةِ الْمَصَابِيحِ) ، وَأَسْأَلُ اللّٰهَ التَّوْفِيقَ، وَالْإِعَانَةَ، وَالْهِدَايَةَ، وَالصِّيَانَةَ، وَتَيْسِيْرَ مَا أَقْصِدُهٗ، وَأَنْ يَنْفَعَنِيْ فِي الْحَيَاةِ، وَبَعْدَ الْمَمَاتِ، وَجَمِيعَ الْمُسْلِمِينَ، وَالْمُسْلِمَاتِ. حَسْبِيَ اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ. وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، الْعَزِيزِ الْحَكِيْمِ.

تمام تعریفیں اللہ کی ہیں ١؎ہم اسی کی حمد کرتے ہیں،اُسی سے مدد مانگتے ہیں،اُسی سے معافی چاہتے ہیں ٢؎اور اپنے نفسوں کی شرارت اور اپنے اعمال کی برائیوں سے رب کی پناہ مانگتے ہیں ٣؎جسےاللہ ہدایت دے اُسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں،جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ٤؎مَیں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ٥؎ایسی گواہی جو نجات کا وسیلہ اور بلندی درجات کی ضامن ہو ٦؎اور گواہی دیتا ہوں کہ یقینًا محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں ٧؎جنہیں اللہ تعالٰی نے جب بھیجا،جب کہ ایمان کے راستوں کی نشانیاں مٹ چکی تھیں ٨؎اور اُن کی روشنیاں بجھ گئی تھیں ٩؎اور ان کے کنارے کمزور اور انکی جگہ نامعلوم ہوچکی تھیں ١٠؎حضور پر اللہ کی رحمتیں اور سلام ہوں ١١؎کہ آپ نے اسلام کے مٹے ہوئے نشان اونچے کردیئے،اور کلمۂ توحید کو تقویت دے کر ان بیماروں کو شفادے دی جو کنارہ پر تھے، ١٢؎اور راہِ ہدایت کا راستہ اُن کے لیے صاف فرمادیا جو اس پر چلنا چاہے،اور خوش نصیبی کے خزانے اس کے لیے ظاہر فرمادیئے جو اُن کا مالک ہونا چاہے ١٣؎حمدوصلوۃ کے بعد جاننا چاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مضبوطی سے حاصل کرنا ناممکن ہے بغیر اتباع کئے ان احادیث کے جو آپ کے سینہ سے صادر ہوئیں ١٤؎اوراللہ کی رسّی کا مضبوطی سے تھامنا مکمل نہیں بغیراس کے واضح بیان کے ١٥؎اور کتاب مصابیح جو سنت زندہ کرنے والے،بدعت اکھیڑنے والے امام ابو محمد حسین ابن مسعود فرّاءبغوی کی تصنیف ہے۔اللہ تعالٰی اُن کا درجہ بلند کرے تمام ان کتب میں جامع تر تھی جو اس بارے میں لکھی گئیں ١٦؎اورشوارد اوابدحدیثوں کی محافظ تھی ١٧؎چونکہ مصنّف نے طریقۂ اختصار اختیارکیا١٨؎اور اسنادوں کوچھوڑدیا،اس بارے میں بعض ناقدین نے چہ میگوئیاں کیں ١٩؎اگرچہ مصنف کا نقل فرمادینا ہی اسناد کی مثل ہے ٢٠؎کیونکہ وہ معتبر ہیں مگر نشانیوں والا راستہ بے نشان راہ کی طرح نہیں ٢١؎اس لیے میں نے اللہ سے خیر اور توفیق مانگی ٢٢؎اور ان کے بے نشانوں کو نشاندار بنادیا ٢٣؎کہ اس کی ہر حدیث اپنے ٹھکانے میں ویسے ہی رکھی ٢٤؎جیسے ماہر عادل حافظ اماموں نے روایت فرمائی جیسےابوعبداللہ محمدابن اسمعیل بخاری ٢٥؎اورابوالحسین مسلم ابن حجاج قشیری ٢٦؎اور ابوعبد اللہ مالک ابن انس اصبحی ٢٧؎اور ابو عبد اللہ محمد ابن ادریس شافعی ٢٨؎اور ابو عبد اللہ احمد ابن محمد ابن حنبل شیبانی ٢٩؎اور ابو عیسیٰ محمد ابن عیسیٰ ترمذی ٣٠؎اورابوداؤدسلیمان ابن اشعث سجستانی ٣١؎اور ابوعبدالرحمن احمد ابن شعیب نسائی ٣٢؎اور ابو عبد اللہ محمد ابن یزید ابن ماجہ قزوینی ٣٣؎اور ابو محمد عبد اللہ ابن عبدالرحمن دارمی٣٤ ؎اور ابوالحسن علی ابن عمردارقطنی٣٥ ؎اور ابوبکر احمد ابنِ حسین بیہقی٣٦ ؎اور ابوالحسن رزین ابن معاویہ عبدری٣٧ ؎اور اُن کے ماسوا مگر ماسوا تھوڑے ہیں ٣٨؎اور مَیں نے جب ان بزرگوں کی طرف حدیث منسوب کردی تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف اسنادکردی٣٩؎کیونکہ ان بزرگوں نے اسناد سے فارغ ہو کر ہم کو بے نیاز کردیا ٤٠؎اور مَیں نے کتابیں اور باب ویسے ہی مرتب کئے جیسے انہوں نے کئے تھے۔اس میں مَیں اُنہی کے قدم پر چلا ٤١؎مَیں نے اکثر ہر باب کو تین فصلوں پر تقسیم کی٤٢؎پہلی فصل میں وہ احادیث جنہیں شیخین یا اُن میں سے ایک نے روایت کیا مَیں نے انہی دونوں پر کفایت کی اگرچہ اس کی روایت میں دوسرے بھی شریک ہوں شیخین کی بلندیٔ درجہ کے سبب ٤٣؎دوسری فصل میں وہ احادیث جوان کے علاوہ دوسرے مذکورہ اماموں نے روایت کیا٤٤ ؎تیسری فصل میں وہ مناسب ملحقہ حدیثیں جو باب کے معنی پرشامل ہیں شرائط کی رعایت کرتے ہوئے ٤٥؎اگرچہ متقدمین و متاخرین سے منقول ہوں٤٦؎پھر اگر تم کسی باب میں مصابیح کی کوئی حدیث نہ پاؤ تو وہ تکرار کی وجہ سے ہوگا جسے میں نکال دوں گا ٤٧؎اور اگر تم دوسری حدیث کو ایسا پاؤ کہ جس کا بعض حصہ اختصارًا چھوڑ دیا گیا ہے یا اس کا تتمہ شامل کردیا گیا ہے تو یہکسی اہتمام کے باعث ہوگا کہ کچھ چھوڑدو ں گا کچھ ملادوں گا ٤٨؎اور اگر تم دو فصلوں میں کسی اختلاف پر مطلع ہو مثلًا یوں کہ پہلی فصل میں غیر شیخین کی اور دوسری میں شیخین کی حدیث مذکور ہو ٤٩؎تو جان لینا یہ اس لئے ہے کہ میں نے حمیدی کی اور جامع اصول کی کتابیں جو شیخین کی احادیث کی جامع ہیں،کے تلاش کے بعدصحیح مسلم وبخاری اوران کے متون٥٠؎پراعتماد کیا اور اگرتم اصل حدیث میں فرق پاؤ تویہ فرق حدیثوں کیاسنادوں کے فرق کی وجہ سے ہوگا٥١؎اور شایدمیں اس روایت پرخبردار نہ ہوا ہوں جدہر حضرت شیخ گئے۔تم بہت کم یہ بھی پاؤ گے کہ میَں کہوں گا۔ میں نے یہ روایت اصول کی کتابوں میں نہ پائی۔یا ان میں اس کے خلاف پائی تو جب تم اس پر مطلع ہو تو میری کم علمی کی بناءپرقصور کو میری طرف منسوب کرنا نہ کہ حضرت شیخ کی بارگاہ کی طرف،اللہ دونوں جہانوں میں اُن کی عزت بڑھائے ٥٢؎اس نسبت سے خداکی پناہ خدا اس پر رحمت کرے جو اس حدیث پر واقف ہوتو ہمیں متنبہ کردے اور ہم کو سیدھے راستہ کی راہبری کرے٥٣؎میں نے حتی الوسع حدیثوں کی تلاش اور کرید میں کوتاہی نہیں کی اوراس اختلاف کوویسے ہی نقل کردیاجیساپایا ٥٤؎اورجب کبھی شیخ نے غریب ضعیف وغیرہ کی طرف اشارہ کیا تو اکثر مَیں نے اُس کی وجہ بیان کردی ٥٥؎اور اصولِ احادیث میں سے جہاں اس طرف اشارہ نہ کیا وہاں میں ان کےنقش قدم پر چلا ٥٦؎سواءچندجگہ کے وہ بھی کسی غرض سے ٥٧؎بسااوقات تم کچھ جگہ چھوٹی ہوئی پاؤ گے یہ وہاں ہوگا جہاں میں روایت پرمطلع نہ ہوا وہاں مَیں نےسفید جگہ چھوڑدی ٥٨؎تو اگرتم اس پرمطلع ہوتو وہاں ملادو۔اللہ تمہیں جزائےخیردے،مَیں نے اُس کا نام"مِشْکوٰۃُ الْمَصَابِیْح"رکھا ٥٩؎اللہ تعالٰی سے توفیق،مدد،ہدایت، حفاظت کا طلبگارہوں اور اپنے مقصود کی آسانی کا جویاں اور یہ کہ اللہ زندگی و بعدموت مجھے اور تمام مسلمان مرد وعورتوں کو نفع دے ٦٠؎مجھےاللہ کافی ہے وہ ہی اچھا وکیل ہے(بھروسہ کے لائق)اورنہیں ہے طاقت اور نہ قوت مگر غالب حکمت والے اللہ سے۔

١؎یعنی ہر حامد کی محمود پر،ہر وقت،ہرنعمت پر،ہرطرح کی ہر حمد اللہ تعالٰی ہی کی حمد ہے کیونکہ جسے جو ملا اسی کے دین سے ملا،لہذا وہ ہی ہر حامد کا محمود،ہر ساجد کا مسجود،ہر عابد کا معبود،ہر شاہد کا مشہود،ہر قاصد کا مقصود ہر طرح موجود ہے۔یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی حقیقی وکامل حمد وہ جو اس نے اپنی کی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:"اَنْتَ کَمَااَثْنَیْتَ عَلٰی نَفسِكَ"لہذا وہ خود ہی حامد ہے،خود ہی محمود،یا اس کی مقبول حمد وہ ہے جو اس کے بندۂ خاص محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی،یا محمدمصطفی کی کامل حمد وہ ہے جو ان کی ان کے رب نے کی،وہ اپنے رب کے احمد ہیں رب ان کا محمود،اور رب ان کا حامد وہ رب کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم،غرض کہاَلْحَمْدُکا الف لام یا استغراقی یا عہدی۔
٢
؎تمام دنیاوی حاجات بلکہ خود حمدکرنے میں حقیقی مدد اسی سے مانگتے ہیں،اور حمد وغیرہ میں جو کوتاہی ہم سے ہوجائے اس کی معافی کے خواستگار ہیں۔خیال رہے کہ اللہ کے مقبولوں کی مدد حقیقتًارب ہی کی مدد ہے۔
٣
؎نفس کی شرارتوں سے اپنی خفیہ برائیاں مراد ہیں،اعمال کی برائیوں سے ظاہر خرابیاں مراد ہیں۔ہم ظاہر و باطن عیبی ہیں ان عیبوں کو خود دفع نہیں کرسکتے،نفس و شیطان سخت دشمن،بڑے دشمن کے مقابلہ میں بڑے مددگار کی پناہ درکار،ان دشمنوں سے رب کی پناہ،شیطان کے شر سے نفس امارہ کا شر قوی تر ہے کہ یہ مار آستین ہر وقت گھات میں ہے اس لیئے خصوصیت سے نفس کا ذکر ہوا۔
٤
؎ہدایت کے دو معنی ہیں:راہِ خیر دکھانا،منزل مقصود پر پہنچادینا۔ایسے ہی اس کے مقابل ضلالت کے دو معنی ہیں:راہ شردکھانا،شرتک پہنچا دینا۔پہلےمعنی سے ہدایت کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مرشد کامل یا قرآن کی طرف،یونہی ضلالت کی نسبت شیطان جن و انس یا نفس امارہ کی طرف ہوتی ہے۔مگر دوسرےمعنی سے ہدایت و ضلالت کی نسبت صرف اللہ تعالٰی کی طرف،یہاں دوسرے معنی مراد ہیں،یعنی اے مولٰی جسے تو منزل مقصود تک پہنچادے اسے پھر کوئی راہِ شر نہیں دکھا سکتا کہ وہ تو راستوں سے گزرگیا اور جسے تو اس کی بدکاریوں،بداعمالیوں کی وجہ سے کفرقطعی تک پہنچادے پھر اسےکسی کی راہبری کام نہیں دیتی۔لہذا اس خطبہ پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ گمراہی کی نسبت رب کی طرف کیسی!نہ یہ کہ جب خدانے بندہ کو گمراہ کردیا تو بندے کا کیا قصور،کاسِب بندہ ہے خالق مولٰی ۔
٥
؎گواہئ توحید ساری مخلوق نے عقلی یا سمعی دی،مگر ہمارے حضور نے شہودی لہذا تمام مخلوق ثانوی گواہ ہے اور حضور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اوّلی یا حقیقی گواہ اسی لیے رب نے فرمایا:"یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا" یعنی حضور نے اللہ تعالٰی کی ذات و صفات،جنت دوزخ وغیرہ کو دیکھ کرگواہی دی،چونکہ عینی گواہ پر گواہی مکمل ہوجاتی ہے اسی لیے رب نے فرمایا:"اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ"، "لَآاِلٰہَ اِلَّااﷲُ"کے معنی ہیں:"لَامَعْبُوْدَ اِلَّا ﷲ"یا"لَامَقْصُوْدَ اِلَّااﷲ"مگر ارباب شہود کہتے ہیں:"لَا مَوْجُوْدَ اِلَّااﷲ"۔غرض کہ جیسا کلمہ پڑھنے والا ویسے اس کے معنی،کلمہ ایک ہے مگر زبانیں مختلف اس لیئے تاثیریں جداگانہ٦؎یعنی منافقوں کی سی گواہی نہیں دیتا جو زیادتی کفر کا سبب ہو،بلکہ اخلاص و صدق سے گواہی دیتا ہوں جس سے کافر مؤمن ہوجاتا ہے اور مؤمن عارف بن کر بلند درجے پاتا ہے۔
٧
؎حضورصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کےبندے اوررسول (پیغمبر)بھی ہیں اور ساری مخلوق کےرسول بھی،یعنی اللہ کے پیغام لانے والے،مخلوق کو پیغام پہنچانے والے،رب سے لینے والے،مخلوق کو دینے والے،لہذا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کے رسول اور یہ بھی کہ ہمارے رسول۔پھر حضور کفار کو عذاب کا پیغام دیتے ہیں،مؤمنوں کو ثواب کا،عاشقوں کو وصال کا،غرض حضور کی رسالت مختلف ہے۔نبی اور رسول کبھی ہم معنی ہوتے ہیں کبھی مختلف کہ نبی عام رسول خاص۔
٨
؎کیوں کہ عرب میں اسماعیل علیہ السلام کےبعدکوئی نبی تشریف نہ لائے تھے۔اس چار ہزار سال کے عرصہ میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کی تعلیم لوگ بھول چکے تھے۔خیال رہے کہ عرب میں اور اولاد اسماعیل میں ہمارے حضور کے سوا کوئی نبی نہ آئے کہ جس آسمان پرسورج ہے اس پرکوئی تارا نہیں۔
٩
؎اس طرح کہ بنی اسرائیل جو دیگر ممالک میں جلوہ گر ہوئے ان کی ہلکی روشنیاں عرب میں پہنچیں مگر عیسیٰ علیہ السلام کے بعدوہ بھی گل ہوکر رہ گئیں کہ انجیل مسخ کردی گئی،راہبوں پادریوں نے ان کی تعلیم بدل دی۔اگر کچھ بچے کھچے اصلی عیسائی تھے بھی تو وہ غاروں پہاڑوں میں روپوش ہوگئے۔اب دنیا میں اندھیرا ہی رہ گیا،اسی دورکو جاہلیت کا دور کہا جاتا ہے۔
١٠
؎اس طرح کہ اصلی عقائد کے ساتھ صحیح عبادات بھی گم ہوکر رہ گئیں تھیں پتہ نہ لگتا تھا کہ ان بیماریوں کی دوا کہاں ملتی ہے اور ان کا حکیم کہاںہے۔غرضکہ دنیا میں گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا کیوں نہ ہوتا کہ ہدایت کا سورج نکلنے والا تھا۔جس سے عالم میں نور اور ظلمت کافور ہونے والی تھی۔
١١
؎درود شریف میں صلوۃ وسلام دونوں عرض کرنا چاہئیں کہ قرآن کریم نے دونوں کا حکم دیا صرف صلوۃ یا صرف سلام بھیجنے کی عادت ڈال لینا ممنوع ہے۔(ازمرقات)اسی لیے درودِ ابراہیمی صرف نماز کے لیے ہےکیونکہ اس میں صرف صلوۃ ہے سلام نہیں۔سلامالتحیاتمیں ہوچکا نماز کے علاوہ یہ درود مکمل نہیں کہ سلام سے خالی ہے۔اس کی پوری بحث درود شریف کی بحث میں آئے گی۔
١٢
؎اس طرح کہ حضور نے دنیا کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا،بت پرستی دفع کی،کلمۂ توحید کا اعلان فرمادیا اور جو دوزخ کے کنارے پہنچ چکے تھے انہیں بازو پکڑ کے ہٹالیا،ہرروحانی بیمارکو ہرطرح شفا دی،کسی سے یہ نہ فرمایا کہ تیری دوا میرے دارالشفاء میں نہیں۔ایسا کامل اکمل ہادی نہ آیا تھا نہ آئے۔خیال رہے کہ یہاں پہلا شفاشفاءٌکا ماضی ہے یعنی حضورنے تندرستی وصحت بخشی،اور دوسراشفااسم جامد ہے بمعنی کنارہ یعنی جو ہلاکت یا جہنم کے کنارہ پرتھے انہیں صحت بخشی کہ کفارکو ایمان،فساق کو تقویٰ عطا کیا۔مصنف کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضور شفا بخشتے ہیں یہ کہنا شرک نہیں۔
١٣
؎ظاہر یہ ہے کہ ہدایت سے مراد شریعت ہے،سعادت سے مراد طریقت۔یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شریعت وطریقت دونوں بخشیں،قلب وقالب دونوں کا انتظام فرمایا۔کسی نے انکار کرکے دائمی بدبختی حاصل کرلی،کسی نے قبول کرکے دارین کی خوش نصیبی کمائی۔حضور نے انہیں مکہ والوں میں سے صدیق فاروق بنائے،رہزنوں کو راہبر،گمراہوں کو ہادی،بےعلموں کو دنیا بھرکامعلم بنادیا۔حضور کا فیض کعبہ کی دیواروں سے پوچھو،مکہ کے بازاروں سے پوچھو،منیٰ ومزدلفہ کےکوچوں سے پوچھو،عرفات کی بلندچوٹیوں سےمعلوم کرو کہ لوگوں نے کعبہ کو بت خانہ بنادیا تھا،حضور نے خدا خانہ بنا کر تمام عالم کا مسجود الیہ بنادیا۔صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم
١٤
؎یعنی ہرانسان پرحضورعلیہ السلام کی اطاعت فرض ہے اوریہ اطاعت بغیرحدیث و سنت جانے ناممکن ہے۔مشکوٰۃ یعنی طاق حضور انور کا سینہ مبارک ہے اور حضور علیہ السلام کے اقوال و احوال اس طاق کے چراغ ہیں،اگر روشنی چاہتےہوتو اس سینے اور ان الفاظ طیبہ سے حاصل کرو،قرآن کتاب ہے حضور علیہ السلام چراغ اور چراغ کے بغیر کتاب پڑھی نہیں جاتی۔حضور علیہ السلام کے بغیر قرآن سمجھا نہیں جاتا،ہر آیت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کی حاجتمند ہے ورنہ ہمیں کیا خبر کہاَقِیمُوْاکے کیا معنی اورصلوٰۃ و زکوۃکسے کہتے ہیں۔
١٥
؎الله کی رسی قرآن کریم ہے جو ہم نیچوں کو غارسے نکال کر اوپر پہنچانے آئی۔لیکن اس مضبوط رسی سے فائدہ وہی اٹھائے گا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اسے پکڑے گا۔اس رسی کے لانے والے بھی حضور ہیں،پھر ہمیں پکڑانے والےبھی حضور،پھرپکڑنے کےبعدچھوٹ جانے سےبچانے والےبھی حضور،کہ حضور کےذریعہ مخلوق کو قرآن ملا،حضور ہی کےسمجھائے قرآن سمجھاگیا۔حضورہی کی نگاہ کرم سےان شاءاللهمرتے دم تک اس پر عمل کیا اور انہیں کےکرم سے مرتے وقت بفضلہ کلمہ نصیب ہوگا۔جو حدیث کا انکاری ہے وہ صرف دو رکعت نمازپڑھ کریا ایک بار ایسی زکوۃ دےکر دکھادےجس میں حدیث کی مدد نہ ہو۔غرض کہ نماز وزکوۃ وغیرہ سنائی قرآن نے،سکھائی حضور نے،قرآن روحانی کھاناہے،حدیث اس کا پانی،پانی کے بغیرنہ کھانا تیار ہو نہ کھایا جاسکے۔
١٦
؎یعنی فن حدیث میں بہت کتب لکھی گئیں،مگر کتاب مصابیح تمام کتب کی جامع کتاب ہے،اس کے مصنف حسین ابن مسعود ہیں۔آپ کی کنیت ابومحمدہے،لقب فراءکیونکہ پوستین کی تجارت کرتے تھے(فراءنحوی اور ہیں)ہرات وسرخس کے درمیان ایک بستی ہے بغو۔وہاں کے رہنے والےتھے لہذا بغوی کہلاتے ہیں۔خواب میں نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تونے میری سنت زندہ کی الله تجھے زندہ رکھے،لہذا خطاب ہوامحی السنہ۔شافعی المذہب ہیں،بڑےمتقی،عالم،زاہد،تارک الدنیابزرگ تھے،ہمیشہ روکھی روٹی،یا زیتون یاکشمش سے روٹی کھائی،اسی برس سے زیادہ عمر پا کر ۵۱۶ھ مقام کرد میں وفات پائی،اپنے استادقاضی حسین کے پہلو میں دفن ہوئے۔آپ نے"مصابیح شرح السنۃ"،"تفسیرمعالم التنزیل"،"کتاب التہذیب"،"فتاویٰ بغوی"وغیرہ کتب تصنیف فرمائیں۔خیال رہے کہ مصابیح میں چار ہزار چارسوچونتیس حدیثیں تھیں صاحب مشکوٰۃ نے ایک ہزار پانچسو گیارہ احادیث کا اضافہ کیا لہذامشکوٰۃ شریف میں پانچ ہزار نو سو پینتالیس احادیث ہیں۔(ازمرقاۃ)
١٧
؎شوارد شاردہ کی جمع بمعنی نافرہ(بھڑکاہواجانور)یعنی وہ حدیثیں جو لوگوں کے ذہنوں سے قریبًا جاچکی تھیں،لوگ انہیں قریبًا بھول چکے تھے۔جیسےبھڑکا ہوا جانور اپنی جگہ سے بھاگ جاتا ہے۔اوابد آبدہ کی جمع ہے بمعنی وحشی جانور جو انسان سے نفرت کرے یعنی وہ احادیث جن کے مضامین فہم سے بالاتر ہیں سمجھ میں نہیں آتے جیسے وحشی جانور قبضہ میں نہیں ہوتایعنی مصابیح ان احادیث کی جامع ہے جنہیں لوگ بھول چکے تھے یا ان کی تخریج یا مضامین سے قریبًامایوس ہوچکے تھے۔
١٨
؎اسی طرح کہ نہ تو احادیث کی اسناد یں بیان کیں نہ ان کا مخرج کہ کس کتاب کی یہ حدیث ہے۔خیال رہے کہ اسناد حدیث مجتہدین کو مفید ہےجس سے وہ حضرات حدیث کا مرتبہ،ناسخ منسوخ ہونا،تعارض کے وقت کسی کا راجح ہونا،کسی حدیث کامثبت استحباب ہونا،کسی کامثبت وجوب ہونامعلوم فرماتے ہیں۔مقلدین حضرات ان کاوشوں سے آزادہیں ان کےلیئے قول امام دلیل ہے اورحدیث امام کی دلیل،پولیس کے لیے حاکم کا فیصلہ دلیل ہے اورحاکم کےلیے تعزیرات ہند کے دفعات دلیل ہیں۔اس لیے صاحب مصابیح نے صرف متن حدیث نقل فرمایااسنادیں چھوڑدی تھیں۔(ازمرقات)خیال رہےکہ عبارتِ حدیث کومتن کہتے ہیں،راویوں کے سلسلہ کو اسناد اور اصل کتاب کا ذکر جہاں سے حدیث لی گئی ہو تخریج کہلاتاہے۔
١٩
؎اس طرح کہ مصابیح کی احادیث پرشبہ کرنےلگے،کہنے لگے کہ جب نہ اسنادوں کا ذکرہے نہ تخریج معلوم،تو کیا معلوم اس کی احادیث صحیح ہیں یا نہیں۔ناقدین وہ حضرات کہلاتے ہیں جو صحیح اور ضعیف حسن وغیرہ میں امتیاز کریں،راویوں کے حالات سے خبر رکھیں،ان کی توثیق تعدیل وجرح کرسکیں۔٢٠؎یعنی امام محی السنۃ اس پایہ کے محدث ہیں کہ ان کاکسی حدیث کو بغیرجرح نقل فرمادینا اس حدیث کی قوت کی دلیل ہے،ان کی نقل گویا اسناد ہے۔اس عبارت سے دو مسئلہ معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مقلد کو امام کی حدیث پر اعتمادکرلینا درست ہے،اسے حدیث کی چھان بین کرنے کی ضرورت نہیں،مریض طبیب کے نسخے پر اعتمادکرے،اسےکتب طب کی تحقیقات ضروری نہیں۔دوسری یہ کہ ضعیف احادیث پر فقہاء کا عمل فرمالینا اس حدیث کو قوی کردیتا ہے۔
٢١
؎لہذا تخریج بیان کردینے سے لوگوں کوطعن کا موقع نہ ملے گا اور صاحب مصابیح پر اعتراض نہ کرسکیں گے۔سبحان الله!کیسا ادب ہےکہ فرمایا نشانیوں والا راستہ یعنی مشکوٰۃ شریف بے نشان والے راہ یعنی مصابیح کی طرح نہیں۔مصابیح بہت اعلٰی ہے یہ ہے انکسارِنفس۔
٢٢
؎اس طرح کہ مشکوٰۃ شریف لکھنے سے پہلے باقاعدہ استخارہ کیا،جیسا کہ طبرانی نے حضرت انس سے روایت کی:"مَا خَابَ مَنِ اسْتَخَارَ وَلَانَدِمَ مَنِ اسْتَشَارَ"استخارہ کرلینے والا نقصان نہیں اٹھاتا،مشورہ سے کام کرنے والا شرمندہ نہیں ہوتا،اوردرمیانِ تصنیف میں اللہ سے توفیقِ اتمام مانگتا رہا۔فقیر احمدیاربھی بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتا ہے کہ مولٰی بطفیل اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس بڑے کام کو بخیر و خوبی انجام دینے کی توفیق دے،اسے قبول فرما کر صدقہ جاریہ اور میرے گناہوں کا کفارہ بنا۔آمین یارب العالمین !٢٣ ؎اس طرح کہ ہر حدیث کے اول صحابی،راوی کا نام شریف اور آخر میں کتاب حدیث کا نامصراحۃًبتادیا۔
٢٤
؎یعنی جوحدیث مصابیح میں جس جگہ تھی میں نے بھی مشکوٰۃ میں وہاں ہی بیان کی،بلاوجہ آگے پیچھے نہ کی اور ہر حدیث میں محدثین کی روایات کی پیروی کی،جس طرح ان اماموں سے منقول تھی ویسے ہی میں نے نقل کی۔٢٥ ؎آپ کا نام شریف محمد،والد کا نام اسمعیل ہے،بخاریٰ جو ماوراءالہندمیں بہت بڑا شہر ہے وہاں آپ کی پیدائش ہوئی،اس لیئے آپ کو بخاری کہا جاتا ہے۔امت محمدیہ کے بڑے عالم،محدث،فقیہ،مجتہد تھے،آپ کے والد بڑے عالم اور حماد ابن زید و امام مالک کے شاگرد تھے،والدہ ماجدہوَلِیَّہ،مستجاب الدعوات تھیں۔آپ بچپن شریف میں نابینا ہوگئے تھے،علاج سے اطباء عاجز ہوگئے،آپ کی والدہ نے ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دیکھا،فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نےتیری دعاقبول کی تیرے بچہ کو انکھیارہ کیا،صبح کو آپ کی آنکھیں روشن تھیں،آپ نے خواب میں دیکھا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر سے مکھیاں اڑا رہا ہوں۔تعبیر دی گئی کہ تم احادیث کی خدمت کرو گے،صحیح سے ضعیف کو دور کرو گے۔آپ کو ۳ لاکھ حدیثیں یاد تھیں،ایک لاکھ غیر صحیح،دو لاکھ صحیح،مسجد حرام شریف میں سولہ۱۶ سال میں صحیح بخاری شریف تالیف فرمائی،ہمیشہ غسل فرماکردونفل پڑھ کرلکھتےتھے،آپ کی ولادت ماہ شوال جمعہ کا دن بعدعصر۱۹۴ھ∞ایکسو چورانوےمیں بخاریٰ میں ہوئی،عمر شریف باسٹھ ۶۲ سال پائی،۲۵۶∞مقام خرتنگ میں وفات پائی،آپ نے بادشاہ وقت کی طرف سےتنگ ہوکرخودہی اپنی وفات کی دعا کی،تہجدکودعا کی دوسرے دن وصال ہوگیا،خواب میں دیکھا گیا کہ حضور مع جماعت صحابہ کسی کا انتظار فرمارہے ہیں،پوچھنے پر ارشادہوا ہم محمد ابن اسماعیل کو لینے آئے ہیں۔عرصہ تک آپ کی قبر سے مشک کی خوشبو آتی تھی،مٹی بھی مہکتی ہوئی تھی،بخاری شریف میں کل احادیث نوہزار بیاسی ہیں،جن میں مکررات اور تعلیقات سب شامل ہیں،مکررات کو نکال کر کل دو ہزار چھ سوتئیس۲۶۲۳ احادیث ہیں،جن میں سے بائیس حدیثیں ثلاثی ہیں،اگر مکررات نکال دی جاویں توسولہ یعنی جن میں امام بخاری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف تین واسطے ہیں۔بعد قرآن شریف صحیح تر کتاب بخاریمانی گئی ہے۔مصیبتوں میں ختم بخاری کیا جاتا ہے،جس سے بفضلہ تعالٰی مصیبتیں ٹل جاتی ہیں۔(مرقاۃ)امام بخاری نے علاوہ بخاری شریف حسب ذیل کتب لکھیں۔(۱)ادب المفرد(۲)رفع الیدین(۳)قراۃ خلف الامام(۴)برالوالدین(۵)التاریخ الکبیر(۶)الاوسط(۷)الصغیر(۸)خلق افعال العباد(۹)کتاب الضعفاء(۱۰)جامع کبیر(۱۱)مسند کبیر(۱۲)تفسیر کبیر(۱۳)کتاب الاشربہ(۱۴)کتابہ الہیہ(۱۵)اسامی الصحابہ(۱۶)کتاب الوجدان(۱۷)کتاب العلل(۱۸)کتاب الکنٰی(۱۹)کتاب المبسوط(۲۰)کتاب الفوائد۔مگر بخاری شریف زیادہ مشہور و معتبر ہے، آپ نے اٹھارہ ہزار محدثین سے احادیث نقل کیں،ایک لاکھ محدثین آپ کے شاگرد ہیں۔جن میں امام مسلم،ترمذی،ابن خزیمہ۔ابی زرعہ ابو حاتم،نسائی زیادہ مشہور ہیں۔امام محمد ابن احمد ہروزی فرماتے ہیں:کہ میں بیت الله شریف سے متصل سورہا تھا کہ میں نے حضور کو خواب میں دیکھا فرماتے ہیں:تم میری کتاب کیوں نہیں پڑھتے؟ میں نے پوچھا حضور آپ کی کتاب کون سی ہے؟ فرمایا:محمد ابن اسمعیل بخاری کی کتاب"صحیح بخاری"۔٢٦ ؎آپ کانام شریف مسلم ابن حجاج نیشاپوری ہے،بنی قشیرہ قبیلہ کےہیں،آپ نےبہت کتابیں لکھیں۔مسلم،مسندکبیر،جامع کبیر،کتاب العلل،اوھام المحدثین،کتاب التمییز،طبقات التابعین،کتاب المخضرمین وغیرہ۔مگر ان سب میں مسلم شریف زیادہ مشہور ومعتبر ہے،تین لاکھ حدیثوں سے منتخب کرکے چار ہزار حدیثیں اس میں جمع کی گئیں۔مسلم شریف میں اسی۸۰سے کچھ زیادہ حدیثیں رباعی ہیں جس کی اسناد میں صرف چار راوی ہیں۔آپ کی ولادت ۲۰۴ھ میں حضرت شافعی کی وفات کے کچھ عرصہ بعدہوئی،وفات ماہ رجب ۲۶۱ ھ میں ہوئی،ستاون سال عمر شریف ہوئی،ایک دفعہ آپ سےکوئی حدیث دریافت کی گئی آپ نے تمام رات وہ حدیث تلاش کرنے کےلیئے کتب کا مطالعہ شروع کیا،کسی نے کھجوروں کی ٹوکری برابر میں حاضر کردی،ایک ایک کھجور کھاتے رہے اور حدیث ڈھونڈتے رہے،صبح کو حدیث مل گئی،ٹوکری ختم ہوگئی۔اسی وجہ سے وفات ہوئی،نیشاپور میں قبرشریف ہے۔٢٧ ؎آپ مذہب مالکی کے امام ہیں،تبع تابعین میں سے ہیں۔اگرچہ آپ امام بخاری و مسلم سے پہلےگزرے اور آپ کی کتاب"مؤطا امام مالک"ان دونوں کتب سے پہلےلکھی گئی مگر چونکہ بخاری ومسلم کا رتبہ فن حدیث میں اعلٰی مانا گیا ہے اس لیے مصنف نے ان دونوں کے بعد آپ کا ذکر کیا۔بڑےمحدث،فقیہ،اور عاشق رسول ہیں،مدینہ منورہ میں رہے،سوائے ایک بار حج کےکبھی مدینہ شریف سے باہر نہ گئے،اس شہر پاک میں کبھی خچریا گھوڑے پرسوار نہ ہوئے حالانکہ آپ کے ہاں بہت گھوڑے تھے،بہت ادب سے باوضو حدیث بیان فرماتے تھے،تین سو تابعین چارسوتبع تابعین سےحدیثیں حاصل کیں،آپ کی ولادت ۱۰۳ ھ ربیع الاول میں ہوئی،وفات ۱۷۹ھ میں ہوئی۔(یہ مرقاۃ کی روایت ہے)شامی میں ہے کہ امام مالک کی ولادت ۹۰ ھ اور وفات ۱۷۹ھ میں،عمر ۸۹سال ہے۔وﷲ اعلم!آپ کا مزار جنت البقیع مدینہ منورہ میں زیارت گاہ خاص وعام ہے۔فقیر نے زیارت کی ہے آپ کی کتاب حدیث مؤطا امام مالک مشہور ہے۔٢٨ ؎آپ کی کنیت ابوعبدالله ہے،نام محمد ابن ادریس ابن عباس ابن عثمان ابن شافعی ابن سائب ابن عبید ابن عبدِ یزید ابن ہاشم ابن عبدالمطلب ابن عبدمناف ہے،لہذا آپ مطلبی ہاشمی ہیں۔شافعی ابن سائب کی نسبت سے آپ کا لقب شافعی ہے اور آپ کے سلسلۂ مذہب کا نام بھی شافعی،اورشافع کی والدہ خلدہ بنت اسد حضرت علی مرتضیٰ کی خالہ ہیں یعنی فاطمہ بنت اسدکی ہمشیرہ۔سائب جنگ بدرمیں کفار مکہ کےعلمبردار تھے جومسلمانوں کی قیدمیں آئے اورفدیہ دےکررہائی پائی،بعدمیں اسلام لائے،امام شافعی اسلام کے مایہ ناز امام،مجتہد،صاحبِ مذہب عابد،زاہد،بڑےباادب بزرگ ہیں۔اصول دین میں آپ نے چودہ ضخیم کتاب تصنیف فرمائیں،اورفروعات میں سوسے زیادہ،جب آپ کسی مصیبت میں ہوتے تو بغداد شریف حضرت امام ابوحنیفہ رضی الله عنہ کے مزار پاک پر حاضر ہو کر دو رکعت نفل ادا کرکے حضور امام ابوحنیفہ کے توسل سے دعا فرماتے،رب تعالٰی مصیبت رفع فرماتا،خودفرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کی قبر قبول دعا کے لیے تریاق ہے،آپ کی ولادت ۱۸۰ھ میں عین امام اعظم کی وفات کے دن مقام عسقلان یا مقام منیٰ میں ہوئی،مکہ معظمہ میں پرورش پائی،۵۴ سال عمر شریف پاکر ۲۰۴ ھ مصر میں وفات پائی۔قرافہ مصر میں مزار پرانوار ہے،امام مالک کے شاگرد ہیں اور امام محمد کی تصنیفات سے کسب علم فرمایا،رمضان شریف میں ہر شب ایک قرآن ختم فرماتے تھے۔رضی الله عنہ۔٢٩ ؎آپ کی کنیت ابوعبدالله ہے،نام شریف احمد ابن محمد ابن حنبل ابن بلال ابن ادریس ابن عبدالله ابن جتان ابن اسد ابن نزار ابن معد ابن عدنان ہے،بڑےمحدث،فقیہ ومجتہدہیں۔امام مذہب ہیں،بغدادشریف میں ولادت ہوئی،طالبِ علمی میں کوفہ،بصرہ،شام،مکہ معظمہ ومدینہ منورہ گئے،آئمہ حدیث سے ملاقاتیں کیں،امام بخاری و مسلم ابوداؤد وغیرہ آپ کے شاگرد ہیں۔ساڑھے سات لاکھ احادیث سے منتخب کرکےمسنداحمدابن حنبل تصنیف فرمائی۔آپ کی بڑی عظمت یہ ہے کہ حضور غوث الثقلین سیدشیخ محی الدین عبدالقادربغدادی رضی الله عنہ آپ کے مذہب حنبلی کے پیرو ہیں،ہمیشہ فقر وفاقہ میں گزاری۔مسئلہ خلق قرآن پر شاہ بغداد مامون رشید آپ کا مخالف ہوگیا،آپ کوتیس کوڑے لگائے،ہرکوڑے پر آپ فرماتے کہ قرآن کلام الله قدیم ہے،آپ کی ولادت بغداد شریف میں ۱۶۴ ھ میں ہوئی،۷۷ سال عمر پائی اور جمعہ کے دن بوقت چاشت ۲۴۱ ھ میں بمقام بغداد وفات ہوئی،وہاں ہی آپ کا مزار پر انوار ہے۔آپ پر پچیس لاکھ مسلمانوں نے نماز پڑھی،وفات کے دن بیس ہزار کافر مسلمان ہوئے،آپ کی قبر انور سے مخلوق برکتیں حاصل کرتی ہے۔حضرت امام شافعی نے آپ کی وہ قمیض دھوکرپی جس میں آپ کوکوڑے مارے گئے تھے۔دوسوتیس برس کے بعد آپ کی قبرکھل گئی تو آپ کا جسم شریف و کفن مبارک بعینہ محفوظ تھا۔رضی الله عنہ(مرقاۃ و اشعہ وغیرہ)٣٠ ؎آپ کانام محمدابن عیسیٰ ابن صورہ ابن موسیٰ ابن ضحاک سلمی ہے،کنیت ابو عیسیٰ نہربلخ جیجون کے کنارے مقام ترمذ ولادت ہے،وہاں ہی وفات ہوئی۔شافعی مذہب ہیں،بڑےمحدث،عالم وعابدبزرگ ہیں،آپ کی کتاب ترمذی شریف جرح حدیث،بیان مذاہب میں بےمثال ہے،جس میں ایک حدیث ثلاثی ہےجو امام ترمذی تک صرف تین واسطوں سے حضور علیہ السلام سےپہنچی،آپ کی ولادت ۲۲۹ ھ اوروفات ۲۷۹ ھ میں ہوئی،عمرشریف پچاس سال ہوئی۔٣١ ؎آپ کا نام شریف سلیمان ابن اشعث ابن اسحاق ابن بشیر ہے،کنیت ابوداؤد،وطن مالوف،علاقہ خراسان میں ہرات کے قریب مقام سجستان ہے جسے سجستان کہا جاتا ہے،ولادت ۲۰۲ھ،وفات ۲۷۵ھ مقام بصرہ میں ہوئی،وہاں ہی مزارشریف ہے،عمر شریف ۷۳ سال،آپ نےپانچ لاکھ احادیث سےچارہزار آٹھ سو۴۸۰۰ احادیث جمع فرمائیں۔بڑے عالم،فقیہ،محدث،عابدوزاہد،متقی و پرہیزگار تھے رضی اللہ عنہ٣٢ ؎آپ کانام ابوعبدالرحمان ابن احمدابن شعیب ابن بحر ابن سنان نسائی ہے،علاقہ خراسان میں ایک بستی ہے نساءقریب مرد وہاں کے متوطن ہیں،آپ نے اولًا ایک حدیث کی بڑی کتاب لکھی جس کا نام نسائی تھاکسی نے آپ سےپوچھا کہ کیا نسائی میں تمام احادیث صحیح ہیں؟فرمایا نہیں،اس نےعرض کیا کہ احادیث صحیحہ جمع کرو،تب آپ نے اس سےصحیح احادیث منتخب کیں جس کا نام رکھا مجتبی نسائی۔اب یہ ہی کتاب مروج ہے۔طلبِ علم کے لیے بہت سفر کیئے۔جب دمشق پہنچے تو کسی نے پوچھا کہ امیرمعاویہ افضل ہیں یاعلی مرتضی،تو فرمایا کہ امیرمعاویہ کے لیے یہ ہی کافی ہے کہ ان کی نجات ہوجاوے،اس پر وہاں کے لوگوں نے بہت مارا وہاں کے زخموں سے جانبر نہ ہوسکے،بعض نے فرمایا کہ بیت المقدس پہنچ کروفات پائی،بعض نے کہا مکہ معظمہ میں وفات ہوئی،اور صفا مروہ کے درمیان دفن ہوئے۔بڑے آئمہ حدیث آپ کے شاگردہیں جیسے امام طحاوی،ابو القاسم طبرانی وغیرہ۔علی العموم مصر میں رہتے تھے،آپ کی ولادت ۲۱۵ ھ وفات ۳۰۳ھ میں ہوئی،بعض نے لکھا ہے کہ آپ کے زمانہ میں خوارج کا بہت زور تھا،آپ ہمیشہ فضائل اہل بیت بیان فرماتے تھے،اس پرخوارج نے آپ کی پشت میں نیزہ مارا جو آپ کے سینہ سے نکلا اور یہ کہتے گرے "فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ"یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔٣٣ ؎آپ کا نام محمدابن یزید ابن ماجہ ربیعی ہے،کنیت ابوعبداللّٰہ ،قزوین کے رہنے والے،آپ کی کتاب ابن ماجہ ہے،احادیث غیرصحیح زیادہ ہیں،اسی وجہ سےبعض لوگوں نے ابن ماجہ شریف کےبجائے دارمی یا مؤطاکو صحاح ستہ میں داخل کیا ہے۔آپ کی ولادت ۲۰۹ ھ میں،وفات رمضان ۲۷۳ ھ میں ہوئی،عمر شریف۶۴ سال ہوئی۔٣٤ ؎آپ کا نام عبدالله ابن عبدالرحمن ابن افضل ابن بہرام ہے،کنیت ابو محمد،قبیلۂ دارم ابن مالک سے ہیں،اسی لیےدارمی کہلاتے ہیں۔ سمرقندوطن شریف ہے،اپنے زمانے کے بڑے محدث،مفسر،فقیہ تھے،آپ کی وفات کی خبر پر امام بخاری بہت روئے،آپ کے شاگرد امام مسلم،ابوداؤد،و ترمذی وغیرہ ہیں،آپ کی ولادت۱۸۱ ھ اور وفات شریف۲۵۰ھ ۸ ذی الحجہ کو ہوئی،۷۴ سال عمر شریف ہوئی،آپ کی کتاب دارمی شریف مشہور ہے۔٣٥ ؎آپ کا نام ابوالحسن ابن علی ابن عمر ہے،بغداد کے ایک محلہ قطن کے رہنے والے ہیں،آپ اپنے زمانہ کے محدث امام اسماءالرجال کے حافظ تھے،آپ کیکتاب دارقطنی مشہورومعروف ہے،آپ کے شاگرد بڑے بڑے محدثین ہیں جیسے ابونعیم،حاکم،امام اسفرائینی وغیرہم۔آپ کی ولادت۳۰۵ھ ،اور وفات۳ ۸۵ھ میں بغداد شریف میں ہوئی،وہاں آپ کا مزارمبارک ہے۔٣٦ ؎آپ کانام احمدابن حسین ہے،کنیت ابوبکر،نیشاپور کے علاقہ بیہق کے قریب قریہ جزر میں ولادت ہوئی،آپ اپنے زمانہ کےجلیل القدرمحدث حاکم رضی الله عنہ کے تلمیذ اعلٰی ہیں،آپ نے علاوہ بیہقی شریف کے اوربہت کتب لکھیں:"دلائل النبوۃ"،"کتاب البعث والنشور"،"کتاب الاداب"،"کتاب فضائل الاوقات"،"شعب الایمان"،"کتاب الخلافیات"وغیرہ۔آپ ان سات مصنفین میں سے ہیں جن کی تصنیفات سےمسلمانوں نے بہت فائدہ اٹھایا۔تاریک الدنیا،قلیل الغذا،بہت عابدتھے،تیس سال مسلسل روزہ داررہے،شافعی المذہب ہیں۔آپ کی ولادت نیشاپور میں ماہ شعبان۳۸۴ ھ میں ہوئی،وفات بھی نیشاپور۴۵۸ھ میں،عمرشریف ۷۴ سال پائی،آپ کا تابوت شریف آپ کے وطن خرجر علاقہ بیہق میں پہنچایاگیا،وہاں ہی دفن کیا گیا جمادی اولٰی میں۔٣٧ ؎آپ کا نام رزین ابن معاویہ،کنیت ابوالحسن،قبیلہ عبدر سے ہیں،جو عبدالدارابن قصیٰ کی اولاد سے ہے،آپ کی کتاب"النجریہ" مشہورہے۵۳۰ ∞ھ میں وفات ہوئی،قریشی النسل ہیں۔امام اعظم ابو حنیفہ ! رضی الله عنہہم بزرگان دین کے تذکرہ کو اس ذاتِ گرامی کے ذکر پاک پر ختم کرتے ہیں جو حضور صلی الله علیہ وسلم کا زندہ جاویدمعجزہ اُمت مصطفویہ کا روشن چراغ،قریبًاسارےمحدثین وفقہاءکا استاد،دین متین کا مجتہد اول ہے،جن کے فضائل خود نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نےبیان فرمائے کہ فرمایا اگر دین ثریا تارے کے پاس بھی ہوتا تو فارس کا ایک شخص وہاں سے لے آتا،آپ کا نام شریف نعمان ابن ثابت ابن زوقی ہے،حضرت زوقی یعنی امام صاحب کے دادا فارسی النسل ہیں۔حضرت امام کی کنیت ابوحنیفہ،لقب امام اعظم،آپ کے دادا حضرت علی رضی الله عنہ کے عاشق زاراورآپ کےخاص مقربین میں سے تھے،آپ ہی کی محبت میں فارس چھوڑکر کوفہ میں آپ کے پاس قیام کیا،حضرت زوقی اپنی بچے ثابت کو دعا کے لیے علی مرتضٰی کے پاس لائے،آپ نے دعا فرمائی اور بشارت دی کہ اس فرزند کے بیٹے سے عالم میں علم بھرجائے گا۔امام اعظم کی پیدائش کوفہ شہر ۸۰ ھ میں ہوئی یعنی تمام آئمہ مجتہدین سے پہلے ۷۰ سال عمر شریف پاکر ۱۵۰ ھ میں بغدادمیں وفات ہوئی اوربغدادکے قبرستان خیرزان میں دفن ہوئے،آپ کی قبر شریف زیارت گاہ خاص وعام ہے۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ آپ کی قبر قبول دعا کےلیے اکسیر ہے،آپ نے بہت صحابہ کا زمانہ پایاجن میں سے چارصحابہ سےملاقات کی انس ابن مالک،عبدالله ابن ابی اوفیٰ،سہل ابن سعدساعدی،ابوطفیل عامرابن واصلہ۔آپ حضرت حماد کے شاگرد اور حضرت امام جعفر صادق کےتلمیذخاص ہیں کہ دوسال تک آپ کی صحبت میں رہے۔جلیل القدرتابعی ہیں،آپ اسلام کے سب سے پہلےمجتہداعظم ہیں،آپ کامذہب دنیا میں بہت پھیلا۔مرقاۃ نے فرمایا کہ سارے جنتیوں میں دوتہائی جنتی حضور کی امت ہیں اور سارے مسلمانوں میں دو تہائی مؤمن حنفی ہیں،اکثراولیاءاللہ حنفی ہوئے،چالیس سال عشاء کے وضوءسے فجرکی نمازپڑھی،ہرشب پورا قرآن ایک رکعت میں ختم کرتے تھے،شب میں آپکے رونے کی آواز گھر سے باہر سنی جاتی تھی،آپ کی وفات کے وقت سات ہزار قرآن مجیدختم ہوئے، سارےمحدثین وفقہاءبالواسطہ یابلاواسطہ امام اعظم کے شاگرد ہیں۔اس کی پوری تحقیق کے لیے ہماری کتاب"جاء الحق"حصہ دوم دیکھو۔
٣٨
؎یعنی وہ حدیثیں جو مذکورہ بزرگوں کے علاوہ کی ہیں وہ تھوڑی ہیں۔"ھو" کا مرجعغیرھمہے۔
٣٩
؎سبحان الله!کیا ایمان افروز بات کہی،مطلب یہ ہے کہ میں مشکوٰۃ میں حدیثوں کا صرف متن بیان کرونگا نہ کہ اسنادکیونکہ میں آخر میں کہہ دونگا کہ اسےمسلم بخاری یا فلاں کتاب نے روایت کیا،میری یہ نسبت گویا اسناد ہے۔کسی حدیث کوان بزرگوں کا قبول فرمالینا اس کے صحیح قوی ہونے کی دلیل ہے،یہی ہم حنفی کہتے ہیں کہ کسی حدیث کو امام ابوحنیفہ کا قبول فرمالینا اور اس پر عمل کرلینا اس حدیث کے قوی ہونے کی کھلی ہوئی دلیل ہے،امام صاحب کی طرف حدیث کی نسبت گویا حضور کی طرف نسبت ہے،بلکہ امام صاحب کی کوئی حدیث ضعیف نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ زمانہ حضور کے زمانہ سے بہت ہی قریب ہے۔اس وقت اسنادوں میں ضعیف راوی شامل نہیں ہوئے تھے۔
٤٠
؎مرقاۃ میں اس جگہ فرمایا کہ ان کتب احادیث میں کسی حدیث کا مطالعہ کرکے یہ کہناجائزہےکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ فرمایا کیونکہ ان مصنفین پر بھی اعتماد ہے اور ان کتابوں پر بھی بھروسہ۔
٤١
؎یعنی جس ترتیب سے صاحب مصابیح نے مسائل کی کتابیں اور ان کتابوں کے باب بیان کیئے ہیں،میں نے بھی اسی طرح بغیر تقدیم و تاخیر بیان کیئے اور کتابوں اور بابوں کے وہی عنوان رکھے جو انہوں نے رکھے تھے۔مثلًا"کتاب الطہارت"اس میں وضو کا،پھر غسل کا،اور پھر تیمم کا باب ہوگا۔
٤٢
؎یعنی اگرچہ بعض بابوں میں دو۲ ہی فصلیں ہوں گی مگر یہ بہت کم،اکثر تین ہی ہوں گی۔
٤٣
؎یعنی چوں کہ فن حدیث میں بخاری و مسلم کا درجہ بہت بلند ہے حتی کہ ان کو حدیث کا شیخین کہا جاتا ہے۔جیسے فقہ میں امام ابوحنیفہ وابویوسف کو،اورمنطق میں فارابی اوربوعلی سیناکو۔اس لیئے پہلی فصل میں میں ان بزرگوں کی روایتیں لاؤں گا اوراگرکسی حدیث کوشیخین کے علاوہ محدثین نےبھی نقل کیا ہو تو میں وہ حدیث صرف شیخین ہی کی طرف نسبت کروں گا۔مثلًا اگر کوئی حدیث بخاری اورترمذی کی ہے تو میں صرف بخاری کا نام لوں گا اور کہوں گا"رواہ البخاری"کہ ان کے ذکر کے ہوتے کسی کے ذکر کی ضرورت نہیں۔٤٤ ؎جیسے ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ وغیرہ دوسری فصل میں ان کی احادیث ذکرکیجائینگی۔٤٥؎یعنی ہر باب کی دوفصلوں میں مصابیح کی احادیث ہوں گی اورتیسری فصل صاحب مشکوٰۃ کی طرف سے زیادہ کی جائینگی،اوراس میں جوحدیثیں بیان ہوں گی ان میں انہی باتوں کالحاظ ہوگا کہ اولًاحدیث کےراوی کانام،پھر آخر میں کتاب کا حوالہ۔
٤٦
؎یعنی میں نے اپنی تیسری فصل میں یہ التزام کیا کہ حدیث مرفوع ہی لاؤں بلکہ قول صحابہ و تابعین اور ان کے افعال کریمہ کی روایت بھی نقل کرونگاکیونکہ اصطلاح محدثین میں اسےبھی حدیث کہتے ہیں۔سلف کے معنی ہیں گزرے ہوئے لوگ یعنی متقدمین،خلف کے معنی ہیں پیچھے والے یعنی متاخرین۔یہاں سلف سے مراد صحابہ ہیں،خلف سے مراد تابعین،چونکہ صحابہ کا درجہ غیرصحابہ سےکہیں زیادہ ہے اس لیئے ان کا نام پہلےلیا تابعین کا بعدمیں۔
٤٧
؎اگرکسی باب میں کوئی حدیث مصابیح میں تو تھی مگرمشکوٰۃ میں نہیں تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ مصابیح میں وہ حدیث دو جگہ آئی تھی،میں نے ایک جگہ رکھی دوسری جگہ سے ساقط کردی۔
٤٨
؎یعنی اگر کوئی حدیث مصابیح میں تو مختصرًا مذکور تھی،مگرمشکوٰۃ میں پوری دراز یا اس کے برعکس مصابیح میں مکمل و دراز تھی،مگر میں نے اس کو مختصرکرکےنقل کیاتو اس کی کوئی حکمت اور وجہ ہوگی،میں نے بلاوجہ یہ فرق نہ کیا مثلًا ایک دراز حدیث کا ایک جز باب کے مناسب ہے باقی نہیں تو میں صرف وہ مناسب جز ہی نقل کروں گا مختصرًا اور اگر کسی حدیث کے دو جز مصابیح کے دوبابوں میں منقول ہوئے تو میں پوری حدیث ایک باب میں طویل ذکر کروں گا۔٤٩؎یعنی صاحب مصابیح کا طریقہ تو یہ ہے کہ فصل اول میں شیخین کی احادیث لاتے ہیں اور فصل دوم میں ان کے علاوہ کی،لیکن اگر مشکوٰۃ میں تم کو اس کے خلاف ملے کہ پہلی فصل میں غیر شیخین کی کوئی روایت آگئی ہو یا دوسری فصل میں شیخین کی تو اس کی وجہ وہ ہے جو آگے مذکورہے۔
٥٠
؎یعنی اس اختلاف کی وجہ یہ ہوگی کہ میں نے مشکوٰۃ کی تالیف کے دوران میں امام حمیدی کی کتاب "جمع بین الصحیحین" اور امام مجددالدین کی کتاب "جامع الاصول" بھی دیکھیں اور اصل کتاب یعنی بخاری و مسلم کا بھی مطالعہ کیا اگر ان دونوں جامع کتب اوراصل بخاری ومسلم میں اختلاف پایا تو میں نے ان جامع کتب کا اعتبار نہ کیا بلکہ مسلم و بخای کا اعتبار کیا۔مثلًا ایک حدیث جامع الاصول میں شیخین کی روایت سے منقول ہے اور صاحب مصابیح نے فصل اول میں بیان کی مگرمسلم و بخاری میں وہ روایت نہیں تو اگر میں وہ حدیث لاؤنگا تو فصل اول ہی میں مگر اس کی نسبت مسلم و بخاری کی طرف نہ کرونگا،ایسے ہی برعکس کہ اگر ان جامع کتب میں کسی حدیث کی نسبت مسلم و بخاری کے علاوہ کسی اور کتاب کی طرف ہے،مگر وہ حدیث مسلم وبخاری میں مجھے مل گئی،صاحب مصابیح اسے دوسری فصل میں لائے تو میں بھی لاؤنگا دوسری فصل میں ہی،مگرنسبت مسلم وبخاری کی طرف کروں گا۔خیال رہے کہ کتابجمع بین الصحیحینکے مصنف حافظ ابوعبداللہ محمدابن ابی النصر ابن حمیداندلسیقرطبیہیں جو دارقطنی کے شاگردوں سے ہیں،آپ بغداد میں رہے وہاں ہی۴۸۰ ھ∞میں وفات پائی،آپ نے اپنی اس کتاب میں مسلم وبخاری کی احادیث جمع فرمائیں اور جامع الاصول کے مصنف امام مجدد الدین ابوالعادات مبارک ابن محمد جزری ہیں جنہیں ابن اثیر کہا جاتا ہے۔آپ موصل میں رہے وہاں ہی۶۰۶ھ ∞ میں وفات پائی،آپ نے جامع الاصول میں صحاح ستہ کی احادیث نقل فرمائیں،صاحب مصابیح نے ان ہی کتب سے مصابیح تالیف فرمائی،صاحب مشکوٰۃ نے ان دونوں کتب کا بھی مطالعہ کیا اور اصل کتب حدیث کا بھی،ہماری اس تقریر سے یہ جملہبفضلہٖ تعالٰیواضح ہوگیا اورمعلوم ہوگیا کہ صاحب مشکوٰۃ نےمشکوٰۃ لکھنے میں کتنی محنت کی ہے۔
٥١
؎یعنی اگر کہیں ایسا ہو کہ مصابیح کی حدیث کے الفاظ وعبارت کچھ اور ہیں،مشکوٰۃ کی حدیث کی عبارت کچھ اور،تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ہی حدیث مختلف اسنادوں سے مختلف عبارتوں میں مروی ہوتی ہے۔صاحب مصابیح کو کسی اسناد سے وہ الفاظ ملے جو انہوں نے مصابیح میں لکھے،مجھے وہ اسناد اور وہ الفاظ نہملے بلکہ دوسری اسناد میں دوسرے الفاظ ملے،تو میں نے اپنی تحقیق شدہ عبارت نقل کی۔اس سےمعلوم ہوا کہ اگر کسی محدث یا فقیہ کی حدیث ہم کو نہ ملے تو اس میں ہمارا اپنا قصور ہے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس بزرگ نے غلطی کی،دیکھو صاحب مشکوٰۃ نے مصابیح کی نقل کردہ حدیث کو غلط نہ فرمایا بلکہ اپنے قصور علم کا اقرار کیا یہ ہی ہم حنفی کہتے ہیں کہ اگر امام ابوحنیفہقُدِّسَ سِرُّہٗکے مسلک کی کوئی حدیث ہم کو نہ ملے یا ضعیف ملے تو اس میں ہمارا قصور ہے نہ کہ حضرت امام کا،صاحب مشکوٰۃ نے یہ ہی سبق دیا۔٥٢ ؎یعنی مصابیح میں بعض احادیث وہ بھی ہیں جو مجھےکسی کتاب میں ملی ہی نہیں یا اس کے خلاف ملیں تو میں نے وہ حدیث مشکوٰۃ شریف میں لکھ تو دی مگر ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا کہ مجھے یہ حدیث نہ ملی یا اس کے خلاف ملی تو تم اس سے حضرت شیخ سےبدگمان نہ ہونا بلکہ مجھےقصورمندسمجھنا کہ میراعلم کم ہے۔سبحان الله!یہ ہے ادب۔اے حنفیو!تم بھی یہ ادب سیکھواگرتمہیں کوئی ایسی حدیث نہ ملے جوحضرت امام کی سند ہے تو سمجھو کہ بے علم یا کم علم ہم ہیں،ہماری تلاش میں قصور ہے،حضرت امام کی حدیث صحیح ہے۔
٥٣
؎یعنی ایسی حدیث پر جو مجھے نہ ملی یا خلاف ملی اگر کسی صاحب کو مل جاوے تو مجھے براہ مہربانی فورًا اطلاع دے تاکہ میں اس جگہ حوالہ لکھ دوں۔الحمدﷲ! فقیر کا عقیدہ یہ ہے کہ صاحبِ ہدایہ نے حضرت امام ابوحنیفہ رضی الله عنہ کی تائید میں جواحادیث نقل فرمائیں اگرچہ تمام دنیا انہیں ضعیف یاغریب کہے،حضرت امام کے مسائل کی احادیث کسی کو نہ ملیں لیکن حضرت امام کے مسائل کی احادیث صحیح ہیں اگرچہ ہم کو نہ ملیں یا ضعیف ہوکر ملیں اسی لیے فقیر نے"فی جاء الحق"حصہ دوم۲ تصنیف کی اس کا مطالعہ کرو۔
٥٤
؎یعنی یہ نہ سمجھنا کہ میں نے احادیث مصابیح کی تلاش میں کوتاہی کی یونہی دفع الوقتی کرکے لکھ دیاکہ مجھے نہ ملی بلکہ میں نے بقدر طاقت بہت تلاش کی نہ ملنے پر مجبورًا یہ لکھا۔سبحان الله !٥٥؎یعنی جن احادیث کےمتعلق شیخ نےمصابیح میں فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف یاغریب یامنکسریامعلل ہے،میں نےمشکوٰۃ میں اکثر اس کے ضعفوغیرہ کی وجہ بیان کردی،ہاں کبھی ایسا ہوگاٍکہ وجہ بیان نہ کرسکا اس کی وجہ بھی میری معلومات کی کمی ہے کہ مجھے اس کے ضعف وغرابت کی وجہ معلوم نہ ہوسکی۔
٥٦
؎یعنی ایسا اکثر ہوا کہ کتب اصول نےکسی حدیث کے ضعف یا غرابت کی تصریح کی مگر صاحب مصابیح نے اس کا ذکر نہ کیا تو ایسی جگہ میں نے صاحب مصابیح کی پیروی کی اور اس کا ذکر نہیں کیا۔
٥٧
؎وہ غرض یہ ہے کہ بعض طاعنون نے مصابیح کی بعض احادیث کوموضوع کہہ دیاحالانکہ ترمذی وغیرہ نے صحیح یا حسن کہا ہے تو میں نے صاحب مصابیح سے طعن اٹھانے کے لیے اس کی تصریح کردی کہ فلاں کتاب نے اسے صحیح کہا ہے یا یہ وجہ ہوگی کہ صاحبِ مصابیح کے مقدمہ میں فرمایا کہ میں نے اپنی اس کتاب میں کوئی منکرروایت درج نہیں کی حالانکہ اس کی کوئی حدیث منکر بھی تھی تو میں نے اسکی تصریح کردی تاکہ کوئی اس حدیث کو مصابیح میں دیکھ کر صحیح نہ سمجھے۔(اشعۃ اللمعات)
٥٨
؎یعنی مشکوٰۃ شریف میں کہیں حدیث کے بعد تھوڑی سی خالی جگہ چھوٹی پاؤگے تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ مصابیح میں تو وہ حدیث موجود تھی لیکن مجھے کسی کتاب میں نہ ملی،اورمجھے پورا اعتمادہے کہ صاحب مصابیح علامہ بغوی نےکہیں دیکھ کر ہی لکھی ہوگی اس لیے میں نے مشکوٰۃ میں حدیث تو لکھ دی مگر کتاب کے نام کے لیے جگہ چھوڑی دی تاکہ اگر کسی کو اس پر اطلاع ہوجائے تو وہ یہاں لکھ دے چنانچہ علامہ شمس الدین محمدی جزری وغیرہم علماء نے ایسا کیا کہ وہ جگہ سفید ہی رکھی مگر اس کتا ب کا نام بیان کردیا تاکہ دیکھنے والے کو پتہ لگے کہ یہ نقل صاحب مشکوٰۃ کی نہیں ہے کسی اور کی ہے
٥٩
؎کیونکہ مشکوٰۃ کے معنی ہیں طاق۔مَصَابِیْح مِصْبَاحٌکی جمع بمعنی چراغ،معنی ہوئے چراغوں کا طاق کیونکہ ہر حدیث نورانیت اورہدایت میں چراغ کی طرح ہے اور یہ کتاب ان احادیث کے ملنے کی جگہ۔نیز مصابیح اصل کتاب کا نام بھی ہے وہ ساری کتاب مشکوٰۃ میں موجودہے۔بہرحال یہ نام مسمّٰی کے مطابق ہے۔
فقیرحقیر"احمدیار"نے اپنی اس شرح کا نام مرأۃ رکھایعنی چراغوں کے طاق کے سامنے لگا ہوا شیشہ جو بیرونی ہوا کو اندر نہ پہنچنے دے۔ فقیر کی نیت یہی ہے کہ اس شرح سے منکر ین حدیث اور ناسمجھ لوگوں کے اعتراضات دفع ہوں،احادیث کا تعارض دور کیا جائے۔رب العزت قبول فرمائے۔یا مشکوٰۃ کی حدیثوں کو دیکھنے کا آئینہ کہ اس کی حدیثیں اس شرح سے دیکھو اور سمجھو۔
٦٠
؎اس طرح کہ میری زندگی اتنی درازہو کہ تصنیف کے بعد پڑھ بھی سکوں،پڑہابھی سکوں اوراس کی برکت سے زندگی ایمان اورتقویٰ میں بسرہو،مرتے وقت کلمہ نصیب ہو،اور یہ کتاب قبر وحشر میں کام آئے کہ میرے بعد بار بار شائع ہوتی رہے،مسلمان فائدے اٹھاتے رہیں اور مجھے اس کا ثواب ملتا رہے۔الحمدﷲ!مصنف کی یہ دعا قبول ہوئی کہبفضلہٖ تعالٰیدنیا کے ہر خطہ میں جہاں مسلمان ہیں یہ کتاب موجود ہے،ہر جگہ اس کے درس دیئے جارہے ہیں،مختلف زبانوں میں اس کی شرحیں کی جاچکی ہیں،چنانچہ عربی میں مرقاۃ اور لمعات فارسی میں اشعۃ اللمعات اردو میں،نہ معلوم کتنی شرحیں ہوچکی ہوں گی،یہ بندہ گنہگارشرمسار احمدیاربھی مصنف رحمۃ اللہ علیہ کی دعا کے ساتھ یہی دعا کرتا ہے اور انہیں کی طفیل قبولیت کا امیدوار ہے۔اللہ تعالٰی اس ناچیزشرح کوحقیقتًامشکوٰۃ کا مرآۃ بنائےاورقبول فرماکرمیرے لیئے کفارۂ سیئات اورصدقۂجاریہ بنائے۔آمین یارب العلمین!
وَصَلَّی ﷲ تَعَالٰی علٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ وَنُورِعَرْشِہٖ سَیِّدِنَا وَمَولَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ o
بشارت عظمٰیالحمدﷲ!فقیرنے حضرت مولانا افسرصاحب صابری مقیم کراچی کی خدمت میں اس شرح کے تاریخی نام کےمتعلق عریضہ لکھا تھا۔کچھ عرصہ کے بعد یعنی ۲۰/ذیقعد ۱۳۷۸ھ جمعہ کو آل ممدوح کا خط آیا جس میں تحریر تھا کہ میں بوجہ علالت تاریخی نام میں غور نہ کر سکا۔آخر ایک شب خواب میں مجھے اس شرح کا تاریخی نام بتایا گیا۔ملاحظہ ہو!ذوالمرآت ۱۳۷۸ھسبحان الله!کیسا سادہ نام ہے اورمشکوٰۃ کاہم وزن ہے،فقیرحقیرمولانا کی اس خواب کوایک غیبی بشارت سمجھتاہے اورنہایت فخرسے اس کا تاریخی نام"ذوالمرآت"۱۳۷۸ھ شرح مشکوٰۃ ہی رکھتا ہے۔فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ !"اَحْمَدْ یَار"سرپرست مدرسہ غوثیہ نعیمہ گجرات پاکستان