مقدمہ - فیضان ریاض الصالحین

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

کے 17حُروف کی نسبت سے اس کتاب کو پڑھنے کی 17 نیّتیں :
فرمانِ مصطفٰی
صلی لِلّٰہِ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّم: نِیَّۃُ الْمُؤْمِنِ خَیْرٌمِنْ عَمَلِہِ۔ مسلمان کی نیّت اس کے عمل سے بہتر ہے۔
(اَ لْمُعجمُ الکبیر لِلطّبَرانی۶/۱۸۵حدیث:۵۹۴۲)
دو مَدَنی پھول:(۱)بِغیر اچّھی نیّت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا۔
(۲)جتنی اچّھی نیّتیں زِیادہ، اُتنا ثواب بھی زِیادہ۔
(1) ہربارحَمدو
(2 )صلوٰۃ اور
( 3)تعوُّذو
(4 )تَسمِیہ سے آغاز کروں گا(اسی صفحہ پر اُوپر دی ہوئی دو عَرَبی عبارات پڑھ لینے سے چاروں نیّتوں پر عمل ہوجائے گا)
( 4)رِضائے الٰہی کیلئے اس کتاب کا اوّل تا آخِر مطالَعہ کروں گا
( 5)حتَّی الْوَسْع اِس کا باوُضُو اور
(6) قِبلہ رُو مُطالَعَہ کروں گا
( 7)قراٰنی آیات اور
( 8)اَحادیثِ مبارَکہ کی زِیارت کروں گا
( 9)جہاں جہاں ’’اللّٰہ
‘‘∞کا نام پاک آئے گا وہاںعَزَّوَجَلَّاور(10)جہاں جہاں ’’سرکار‘‘کا اِسْمِ مبارَک آئے گا وہاںصلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّم∞ پڑھوں گا۔ (11)شرعی مسائل سیکھوں گا( 12)اگر کوئی بات سمجھ نہ آئی تو علمائے کرام سے پوچھ لوں گا۔
(13)حضرتِ سیدنا سُفْیان بن عُیَیْنَہ
رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ∞ کے اِس قولعِنْدَ ذِکْرِالصَّالِحِیْنَ تَنْزِلُ الرَّحْمَۃُیعنی نیک لوگوں کے ذِکر کے وقت رَحمت نازل ہوتی ہے۔(حِلیۃ الاولیائ۷/۳۳۵،رقم:۱۰۷۵۰)پر عمل کرتے ہوئیذِکرِصالِحِین کی بَرَکتیں لُوٹوں گا۔
(14) دوسروں کویہ کتاب پڑھنے کی ترغیب دلاؤں گا۔
(15 )اس کتاب کے مطالعہ کا ثواب آقا
صلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّم∞ کی ساری امت کو ایصال کروں گا۔
(16)کتاب مکمل پڑھنے کے لئے بہ نیتِ حصول ِعلمِ دین روزانہ چند صفحات پڑھ کر علمِ دین حاصل کرنے کے ثواب کا حقدار بنوں گا ۔
(17) کتابت وغیرہ میں شَرْعی غَلَطی ملی تو نا شِرین کو تحریری طور پَر مُطَّلع کروں گا(ناشِرین ومصنّف وغیرہ کو کتابوں کی اَغلاط صِرْف زبانی بتاناخاص مفید نہیں ہوتا)
بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِالمد ینۃ العلمیۃاز:شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت ،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَۃ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ علٰی اِحْسَا نِہٖ وَ بِفَضْلِ رَسُوْلِہ
صلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمتبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک’’دعوتِ اسلامی‘‘نیکی کی دعوت، اِحیائے سنّت اور اشاعتِ علمِ شریعت کو دنیا بھر میں عام کرنے کا عزمِ مُصمّم رکھتی ہے، اِن تمام اُمور کو بحسنِ خوبی سر انجام دینے کے لئے متعدِّد مجالس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن میں سے ایک مجلس’’¥المدینۃ العلمیۃ‘‘∞بھی ہے جودعوتِ اسلامی کے عُلماء و مُفتیانِ کرام کَثَّرَ ھُمُ اللّٰہ تعا لٰیپر مشتمل ہے، جس نے خالص علمی، تحقیقی او راشاعتی کام کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اس کے مندرجہ ذیل چھ شعبے ہیں :
(۱)شعبۂ کتُبِ اعلیٰحضرت (۲)شعبۂ تراجمِ کتب (۳)شعبۂ درسی کُتُب
(۴)شعبۂ اصلاحی کُتُب (۵)شعبۂ تفتیشِ کُتُب (۶)شعبۂ تخریج
’’¥المدینۃ العلمیۃ‘‘∞کی اوّلین ترجیح سرکارِاعلیٰحضرت اِمامِ اَہلسنّت،عظیم البَرَکت،عظیمُ المرتبت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حامیٔ سنّت ، ماحیٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت،باعثِ خَیْر و بَرَکت، حضرتِ علاّمہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی گِراں مایہ تصانیف کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابقحتَّی الْوَسعَ∞ سَہْل اُسلُوب میں پیش کرنا ہے۔ تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں اِس عِلمی ،تحقیقی اور اشاعتی مدنی کام میں ہر ممکن تعاون فرمائیں اورمجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کُتُب کا خود بھی مطالَعہ فرمائیں اور دوسروں کو بھی اِ س کی ترغیب دلائیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تمام مجالس بَشُمُول’’¥المدینۃ العلمیۃ‘‘ ∞کو دن گیارہویں اور رات بارہویں ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خیر کو زیورِ اِخلاص سے آراستہ فرماکر دونو ں جہاں کی بھلائی کا سبب بنائے۔ہمیں زیرِ گنبدِ خضرا شہادت،جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیّ الاَمِیْن صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمرمضان لمبارک۱۴۲۵ھپیشِ لفظانسان کا مقصدِحیات، ربِّ کائنات کی عبادت کے ذریعے اس کی رضائے دائمی کا حصول ہے ، جو اس مقصد میں کامیاب ہو گیا وہی حقیقی کامیاب ہے ۔مُحسِنِ کائنات، شاہ ِ موجوداتصلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمانسانوں کی رُشد وہدایت کے لئے دنیامیں جلوہ گر ہوئے۔ آپ کے افعال واقوال راہِ حق کے مُتلاشیوں کے لئے نورِہدایت ہیں۔ فرمانِ خدا وندی ہے :لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ(۲۱)(پ۲۱، الاحزاب:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان :بیشک تمہیں رَسُوْلُ اللّٰہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لئے کہ اللّٰہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللّٰہ کو بہت یاد کرے
صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم ُالدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْھَادِی اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’(یعنی )ان کا اچھی طرح اِتّباع کرو اور دینِ الٰہی کی مدد کرو اور رسولِ کریم
صلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمکا ساتھ نہ چھوڑو اور مصائب پر صبر کرو اور رسولِ کریمصلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمکی سنّتوں پر چلو یہ بہتر ہے ۔‘‘
فرمانِ مصطفیٰ
صلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمہے:’’مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِی فَقَدْ اَحَبَّنِی وَمَنْ اَحَبَّنِی کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ۔‘‘(ابن عساکر،۹/۳۴۳) ترجمہ :جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:’’ جس نے میری امت کے بگڑتے وقت میری سنت کو مضبوط تھاما تو اسے سو شہیدوں کا ثواب ہے۔‘‘(مشکوۃ المصابیح ،کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،۱/۵۵،حدیث:۱۷۶)
بزرگانِ دین
رَحِمَھُمُ اللّٰہ الْمُبِیْننے مصطفیٰ کریمصلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمکی سنتوں پر عمل پیرا ہوکر دنیا وآخرت کی بھلائیاں حاصل کیں اور اصلاحِ اُمت کے عظیم جذبے کے تحت اپنے پیارے نبیصلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمکی زندگی کے ہر ہر پہلو کو عملی وتحریری طور پر لوگوں کے سامنے لائے تاکہ ان اَخلاقِ کریمہ کو اپنا کر ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ کی رضا حاصل کی جائے ۔

امام اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیوہ عظیم بزرگ ہیں جنہوں نے آقائے دو جہاںصلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمکے افعال واقوال کواپنی مایہ ناز تصنیف ’’رِیاضُ الصالِحِین‘‘میں بہت ہی احسن انداز سے پیش کیا ہے ۔اس کتاب میں کہیں مُنْجِیات(یعنی نجات دلانے والے اعمال) مثلاً اِخلاص، صبر، ایثار ،توبہ، توکُّل، قناعت، بُردْباری،صلہ رحمی،خوفِ خدا،یقین اور تقویٰ وغیرہ کا بیان ہے تو کہیں مُہلِکات(یعنی ہلاک کرنے والے اعمال)مثلاً جھوٹ ، غیبت، چغلی وغیرہ کا بیان ۔ یہ کتاب راہِ حق کے سَالِکِیْن کے لئے مَشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ چونکہ یہ کتاب عربی میں ہے اس کی اِفا دِیت کے پیشِ نظر تبلیغِ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے ذِمہ داران نے ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کے مقدس جذبے کے تحت اس کا اردو ترجمہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ عوام اوراردوخواں طبقہ بھی اس نہایت ہی قیمتی علمی خزانے سے مالا مال ہو سکے ۔لہٰذا یہ کام ’’دعوت اسلامی‘‘ کے ایک نہایت ہی اہم علمی و تحقیقی شعبے’’المدینۃ العلمیۃ‘‘کو سونپا گیا۔ المدینۃ العلمیۃ کے’’ شعبۂ فیضانِ حدیث ‘‘ کے اسلامی بھائیوں نے خالق کائنات پر بھروسہ کر کے اس کتاب کا نہ صرف اردو ترجمہ کیا بلکہ ہر ہر حدیث کی موضوع کے مطابق اکابرین کی شروحات کی مدد سے اصلاحی انداز میں وضاحت بھی کی ۔ رَبِّ کریم کے فضل وکرم سے اس شعبے کے مدنی علماء کی کوششیں رنگ لائیں اور ’’رِیاضُ الصالِحِین‘‘ کا ترجمہ مع وضاحت جس کا نام امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَۃنے ’’اَنْوَارُالْمُتّقِیْن شرحُ رِیَاضِ الصَّالِحِیْن المعروف فیضان ریاض الصالحین ‘‘ رکھا ہے، اس کی پہلی جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔ امید ہے کہ یہ کتاب علمائے کرام ، مُبَلِّغِیْن ،مُعَلِّمِیْن، طلبہ اور عوام کے لئے بہت مفید ثابت ہو گی ۔
’’ریاضُ الصالحین ‘‘میں امام نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے مختلف موضوعات پر تقریباً 1896 احادیث مبارکہ بیان کی ہیں اور انہیں 372 ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ ہم نے ’’اَنْوَارُالْمُتّقِیْن شرحُ رِیَاضِ الصَّالِحِیْن المعروف فیضان ریاض الصالحین ‘‘ کی اس پہلی جلد میں 6ابوب بیان کئے ہیں جو 73 احادیث پر مشتمل ہیں۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! اس کتاب پر المدینۃُ العلمیۃ کے شعبہ
فیضانِ حد یثکے ان مدنی علمائے کرامکَثَّرَ ہم اللّٰہ السَّلام کو کام کرنے کی سعادت حاصل ہوئی: (۱)سید ابو طلحہ محمدسجاد العطاری المدنی(۲)سیدمنیر رضا العطاری المدنی(۳)محمدعدیل رضا العطاری المدنی(۴)سیدمحمد عابد العطاری المدنی اور اس کتاب کی شرعی تفتیش دعوتِ اسلامی کے’’ دارُالافتاء اہلسنت‘‘کے اسلامی بھائی محمد کفیل رضا عطاری مدنی نے کی ہے۔اس کتاب پر کام کا انداز(1)رِیاضُ الصالِحِین میں جہاں آیات بیان کی گئی ہیں ہم نے مستند تفاسیر سے ان کی مختصر تفسیر بیان کردی ہے۔
(2) احادیثِ کریمہ کا آسان اردو ترجمہ اور ہر حدیث کی باب کے مطابق مستند کتب سے توضیح وتشریح کی گئی ہے۔
(3) امام نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے اس کتاب میں اصلاحی انداز اختیار کیا ہے اس لئے ہم نے بھی احادیث مبارکہ کی توضیح وتشریح میں دقیق علمی و فنی ابحاث کے بجائے اصلاحی انداز اختیار کیا ہے ۔
(4) امام نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیمسلکاً شافعی تھے اس لئے انہوں نے فقہی مسائل میں امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْکافی کا موقف اختیار کیا۔ ہم نے حسب ضرورت احناف کا موقف واضح کر دیا ہے ۔
(5) حسبِ ضرورت مشکل الفاظ پر اِعراب کا اِلْتِزَام کیا گیا ہے ۔کئی مقامات پر مفید حواشی دئیے گئے ہیں۔
(6) آیات مقدسہ، احادیثِ مبارکہ، توضیحی عبارات ، فقہی جزئیات اور دیگر مواد کی مکمل تخریج کی گئی ہے ۔
(7) آیاتِ قراٰنیہ کا ترجمہ کنزالایمان شریف سے لیا گیا ہے ۔
(8) حسب موقع اِمامِ اَہْلسُنّت،عظیمُ البَرَکَت،عظیمُ المَرْتَبت،پروانۂِ شَمْعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت مولانا شاہ امام اَحْمَدرَضاخَان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اور امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَۃ اور دیگر علمائے اہلسنت دَ امَتْ فُیُوضُہم کے اشعار بیان کئے گئے ہیں۔
(9)ہر حدیث کی وضاحت کے آخر میں اہم مدنی پھول بطور مدنی گلدستہ بیان کئے گئے ہیں۔
(10)کوشش کی گئی ہے کہ ہر حدیث کی وضاحت اس کے موضوع کے اعتبار سے ہولیکن کئی مقامات پر ضمناً دوسری مفید باتیں بھی بیان کی گئی ہیں۔
(11) موقع کی مناسبت سے ترغیبی وترہیبی اور دعائیہ کلمات ڈالے گئے ہیں۔
(12) احادیثِ مبارکہ اور ان کی وضاحت میں عنوانات قائم کئے گئے ہیں تاکہ مطالعہ کرنے والوں کی دلچسپی برقرار رہے اور ذوق بڑھے۔
(13) عنوانات وموضوعات کی ضمنی وتفصیلی فہرست بھی دی گئی ہے تاکہ ایک ہی نظر میں کتاب کے مضامین کا علم ہوجائے اور مطالعہ کرنے والے آسانی سے اپنے مطلوب تک پہنچ سکیں۔
تشریح وتوضیح میں مشکلات:رِیَاضُ الصَّالِحِیْن میں امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے خالصتاً اصلاحی اندازاختیار کیا اور اسی انداز سے ابواب بندی کی ہے۔ کسی حدیث میں ایک لفظ بھی موضوع کی منا سبت سے مل گیا تو آپ نے اسے اس باب کے تحت ذکر فرما دیاحالانکہ وہی حدیث دیگرکتبِ احادیث میں کسی اور باب کے تحت ہوتی ہے۔ایسی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے :
رِیَاضُ الصَّالِحِیْن کے بابُ الاِخلاص کی ایک حدیث ، بخاری شریف کتاب البیوع،باب ماذکرفی الاسواق،میں ہے ۔بابُ التَّوبۃ کی حدیث بخاری شریف کتاب احادیث الانبیاء، باب حدیث الغارمیں ہے ۔
بابُ الصّبرکی حدیث مسلم شریف کتاب الطہارۃ،باب فضل الطہورمیں ہے۔باب الصدق کی حدیث ترمذی شریف کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق،باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض میں ہے۔ باب المراقبۃ کی حدیث ترمذی شریفکتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی معاشرۃ الناسمیں ہے۔باب التقوی کی حدیث مسلم شریف کتاب الذکروالدعا والتوبۃ والاستغفار،میں ہے۔ الغرض تقریباً تمام ہی ابواب میں یہی صورت حال ہے۔
جب معاملہ ایسا ہو تو پھرکسی حدیث کی موضوع کے مطابق توضیح وتشریح کرنا کس قدر مشکل ومحنت طلب کام ہے ا سے وہی اہلِ علم حضرات سمجھ سکتے ہیں جن کا تصنیف وتالیف سے گہراتعلق ہو۔اس دشواری کے حل کے لئے ہم نے بہت سی متعلقہ مستند شروحات کا متعدد مقامات سے عرق ریزی کے ساتھ مطالعہ کیا اوراَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَانِہ کتبِ علمائے کاملین کے بحرزَخّار میں غوطہ زن ہو کر جو دُرَرِ نایاب ہم چُن سکے وہ پیشِ خدمت ہیں۔
اس کتاب میں جو بھی خوبیاں ہیں وہ یقیناً
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے فضل وکرم اور اس کے پیارے حبیبصلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمکی عطاؤں ، اولیائے کرامرَحِمَھُمُ اللّٰہ السَّلَامکی عنایتوں اور شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔقادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیۃ کی پُرخلوص دعاؤں کا نتیجہ ہے اورجو خامیاں ہیں ان میں ہم اری کوتاہ فہم کا دخل ہے۔
حصولِ تقویٰ وعلمِ دین، اِطاعتِ رَبُّ الْعَالَمِیْن و
اِتِّباعِ رَحْمَۃٌ لِّلْعالَمِیْنپر اِسْتِقَامَت پانے اور اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کا مُقَدَّس جذبہ اُجاگر کرنے کے لئے خود بھی اس کتاب کا مطالعہ کیجئے اور حسب ِ استطاعت دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَۃ سے ہد یۃً حاصل کر کے دوسروں کو بالخصوص مفتیانِ کرام اور علمائے اہلسنت کی خدمت میں تحفۃً پیش کیجئے ۔
ہم نے پوری پوری کوشش کی ہے کہ یہ کتاب خوب سے خوب تر ہو لیکن پھر بھی غلطی کاامکان باقی ہے اہل ِعلم حضرات سے درخواست ہے کہ اپنے مفید مشوروں اور قیمتی آراء سے ہم اری حوصلہ افزائی فرمائیں اوراس کتاب میں جہاں کہیں غلطی پائیں ہمیں تحریری طور پر ضرور آگاہ فرمائیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہم اری اس کاوش کواپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور اسے ہم اری بخشش ونجات کا ذریعہ بنائے ۔
اللّٰہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں اے دعوتِ اسلامی تیری دھوم مچی ہو
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن
صلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمشعبہ فیضان حد یثمجلس المد ینۃ العلمیۃربیع الثانی۱۴۳۴ھ
بمطابق فروری 2013ء
امام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکا تعارُف
نام و نسب :
کنیت:اَبُوزَکَرِیَّا۔لَقَب : مُحی الدِّین۔نام:یحیٰی بن شَرَف بن مُرِیبن حسن بن حسین بن حِزَامبن محمد بن جُمعہالحِزامی نَوَوِی حَوْرانی شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیوِلادت باسعادت وپرورش:امام نوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکی ولادت باسعادت مُحَرَّمُ الحَرَام کے درمیانی عشرے میں ۶۳۱ہجری میں دِمَشْق کے ایک علاقے حَوْرَان سے متصل ایک بستی نَوٰیمیں ہوئی۔ اسی وجہ سے آپ نَوَوِی کہلائے آپ کے آباء و اَجداد حِزَام سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوگئے تھے ۔تعلیم وتربیت:شیخ یاسین یوسف مَرَّاکُشِیْعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں : میں نے پہلی مرتبہ یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیکو اس وقت دیکھا جب وہ تقریباًدس برس کے تھے ۔بچے انہیں اپنے ساتھ کھیلنے کے لئے بُلا رہے تھے لیکن وہ کھیلنے کو تیار نہ تھے۔ جب بچوں نے زبردستی کی تو وہ روتے ہوئے قراٰن پڑھنے لگے ۔ میں نے یہ حالت دیکھی تو ان کے استاد سے ملاقات کی اور کہا :اس بچے پر خصوصی توجہ دیجئے ! امید ہے کہ یہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم وزاہدبنے گا اور لوگ اس سے فیضیاب ہونگے ۔ یہ سن کر استاد نے کہا :کیا تم نجومی ہو؟(جو آیندہ کی خبر دے رہے ہو) میں نے کہا: میں نجومی نہیں ہوں بلکہ جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے مجھ سے کہلوایا میں نے وہی کہاہے۔ اس کے بعد استاد ان کے والد صاحب سے ملے اور انہیں (امام ) نووی کے متعلق بتایاتو انہوں نے اپنے فرزند کی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دی ۔ اوراس بات کی شدید حرص کی کہ میرا بیٹا بالغ ہونے سے پہلے پہلے قراٰن کریم ناظرہ ختم کر لے اور پھر واقعی امام نووی نے بالغ ہونے سے پہلے ہی ناظرہ قراٰن پاک ختم کر لیا ۔راہ علم میں مشقتیں :آپ 659ہجری میں دِمشق آئے اور یہاں شافعی مذہب کی کتاب ’’تَنْبِیْہ‘‘ ساڑھے چار ماہ میں حفظ کرلی اور شافعی مذہب کے بقیہ مسائل کی کتب اسی سال کے بقیہ حصہ میں پڑھیں۔ آپ دن رات میں مختلف علوم وفنون کے بارہ(۱۲) اسباق مختلف اساتذہ سے اچھی طرح سمجھ کر پڑھتے ۔ زمانہ طالب علمی میں اسقدر مشقت برداشت کی کہ دو سال تک آرام کے لئے پہلو زمین پر نہ لگایا۔زُہد و تقوی:آپ صرف ایک مرتبہ عشاء کے بعد تھوڑا سا کھانا کھاتے اور سحری کے وقت صرف پانی پیتے ۔ برف کا ٹھنڈا پانی نہ پیتے حالانکہ وہاں کے لوگوں میں اس کا عام رواج تھا ۔آپ نے بالکل سادہ زندگی گزاری، بہت سادہ موٹا لباس پہنتے ۔ دمشق کے پھل کبھی نہ کھاتے ،جب وجہ پوچھی گئی توفرمایا کہ یہاں کے اکثر باغات اوقاف اور ان اَملاک سے متعلق ہیں جن میں ہر کسی کو تصرف کی اجازت نہیں ہوتی اور یہ پھل شبہ سے خالی نہیں ہوتے پھر میرا دل کیسے گوارہ کر سکتا ہے کہ میں انہیں کھاؤں۔
عَلَّامَہ رَشِیْدُالدِّیْن حَنْفِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں : جب میں نے امام نوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکودیکھا کہ ُدنیوی آسائشوں سے بالکل دور رہتے اور انتہائی سخت مُجَاہَدَات کرتے ہیں تو میں نے ان سے کہا: مجھے خوف ہے کہ کہیں آپ ایسی بیماری میں مبتلا نہ ہوجائیں جو آپ کو دینی خدمات سے روک دے ۔ آپ نے فرما یا: فلاں شخص نےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی اتنی عبادت کی کہ اس کی ہڈیاں خشک ہو گئیں۔ یہ سن کر میں سمجھ گیا کہ انہیں ہم اری دنیا سے کوئی غرض نہیں۔ اِنہیں اِنکے حال پر چھوڑ دینا چاہئے ۔
جب آپ کے پاس کوئی اَمْرَد (خوبصورت لڑکا)پڑھنے کے لئے آتا تو آپ منع کردیتے۔(تہذیب الاسمائ، ۱/۱۴)
امام نوَوِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکواللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے تین ایسی عظیم خوبیاں عطا فرمائی تھیں کہ اگر اُن میں سے کوئی ایک خوبی بھی کسی میں پائی جائے تو وہ اس لائق ہو کہ دور دراز سے سفر کر کے اس کی زیارت کی جائے۔ (۱ )علم و عمل(۲ ) زُہد وتقویٰ (۳ )اَمْرٌ بِالْمَعْروف ونَہْیٌ عَنِ الْمُنْکر(یعنی نیکی کی دعوت دینا اور برائیوں سے منع کرنا )
آپ حصولِ علم میں مشغولیت کے ساتھ ساتھ نوافل، مسلسل روزے، زُہد ووَرَع ،عبادت و ریاضت میں اپنے استادکی پیروی کرتے ،استاد کے وصال کے بعدعبادت وریاضت میں آپکا اِشْتِغَال مزید بڑھ گیا تھا۔
خوفِ خدا:اَبُوعَبْداللّٰہ بِنْ اَبُوالْفَتْح حَنْبَلِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ ایک رات میں نے جامعِ دمشق میں امامنَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکو ایک ستون کے پیچھے اندھیرے میں انتہائی خشوع سے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ پرغَم وحُزْن کی کیفت طاری تھی اور بار بار یہ آیتِ کریمہ پڑھ رہے تھے ۔وَقِفُوْ ھُمْ اِنَّہم مَّسْؤلُوْنَ(پ۲۳، الصّٰفّٰت:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان :اور انہیں ٹھہراؤ ،اُن سے پوچھنا ہے
ان کی درد بھری آواز میں قراٰن کریم کی تلاوت سن کر مجھے ایسی روحانیت نصیب ہوئی کہ جسے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی بہتر جانتا ہے۔عاجِزی و اِنکساری:آپ کی طبیعت میں عاجزی واِنکساری تھی ۔ حُبِّ جاہ سے خوب بچتے تھے۔ آپ نے اپنے شاگردوں سے کہہ رکھا تھا کہ سب ایک ساتھ مل کرمیرے پاس نہ آیا کرو کہیں طلباء کی کثرت کی وجہ سے میں حُبِّ جاہ میں مبتلا نہ ہوجاؤں کیونکہ نفس تو لوگوں کے ہجوم سے خوش ہوتا ہے۔
لوگ بادشاہوں سے ملنا اپنے لئے بہت بڑاانعام سمجھتے ہیں۔لیکن آپ اُمراء و حُکّام سے ہم یشہ دور رہتے ۔ ایک مرتبہ آپ صحنِ مسجد میں درس دے رہے تھے اتنے میں اطلاع ملی کہ’’ بادشاہ مسجد میں نماز کے لئے آ رہا ہے ‘‘آپ فوراً درس موقوف کر کے وہاں سے چلے گئے اور پھر پورا دن اس مسجد میں نہ آئے تاکہ بادشاہ سے ملاقات نہ کرنی پڑے ۔
تخت ِ سکندری پر وہ تھوکتے نہیں ہیں بستر لگا ہوا ہے جن کا تری گلی میں
ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ
علم ِطِب کیوں چھوڑا؟اِمام نوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں :’’ایک مرتبہ مجھے علمِ طِبّ کا شوق ہوا چنانچہ ،میں نے’’اَلقَانُون فِی الطِّب‘‘کتاب خریدی اور ارادہ کر لیا کہ اس علم میں خوب کوشش کرونگا۔ بس اسی دن سے میرے دل پر تاریکی چھا گئی اور کئی دن تک میری یہ حالت رہی کہ کسی بھی چیز میں دلجمعی نصیب نہ ہوتی۔ میں اس صورت حال سے بہت پریشان ہوااور سوچنے لگا کہ میری یہ حالت کس وجہ سے ہوئی ہے؟ پھر مجھےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے اِلہام ہوا کہ اس کا سبب مُرَوَّجَہ علم طِب میں تیری بے جا مشغو لیت ہے پس میں نے فوراًوہ کتاب فروخت کر دی اور اپنے گھر سے ہر وہ چیز نکال دی جس کا تعلق طب سے تھا۔ پھراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا کرم ہوا کہ میرا دل روشن ہو گیا اور میری پہلی والی کیفیت لو ٹ آئی ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اِبلیس لعین کا حملہ:امام نوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں :ایک مرتبہ مجھے بخارتھا اورمیں اپنے والدین ودیگر احباب کے ساتھ سویا ہوا تھا ۔ رات کے پچھلے پہراللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے مجھے شفا عطا فرمائی تو میں اپنے آپ کوپُرسکون محسوس کرنے لگا۔پھرمیں ذکر ِالٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مصروف ہو گیا،کبھی کبھی میری آواز کچھ بلند ہو جاتی تھی ۔ اتنے میں میں نے ایک خوبصورت بزرگ کو حوض پر وضو کرتے دیکھا وضو سے فراغت کے بعدوہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے بچے! تو ذکرِ الٰہی موقوف کر دے کیونکہ اس طرح تیرے والدین اور دیگر گھر والوں کو تکلیف ہوگی ۔ میں نے کہا: اے شیخ! تو کون ہے ؟ کہا : اس بات کو چھوڑ کہ میں کون ہوں ؟ بس میں تیرا خیر خوا ہ ہوں۔ یہ سن کر میرے دل میں یہ بات آئی کہ یہ ضرور ابلیس لعین ہے ۔ میں نے’’اَعُوْذُ بِاللّٰہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ‘‘پڑھی ا ور پھر بلند آواز سے ذکر کرنے لگا۔اب ابلیس لعین مجھ سے دور ہوا اور دروازے کی طرف چلا گیا۔ اتنے میں میرے والد محترم اور دوسرے لوگ جاگ گئے۔ میں دروازے کی طرف گیا تو اسے بند پایا، ہر طرف دیکھا لیکن مجھے وہاں کوئی نظر نہ آیا ۔میرے والد صاحب نے پوچھا: اے یحییٰ، میرے بچے! کیا ہوا ؟ میں نے صورت حال بتائی تو سب کو تعجب ہوا ۔ اور پھر ہم سب مل کراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذکر کرنے لگے ۔وقت کی قدر:وقت کے قدر دان کبھی بھی اپنا وقت ضائع نہیں کرتے ۔امام نوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکبھی بھی اپنا وقت ضائع نہ کرتے تھے نہ دن میں نہ رات میں حتی کہ راستے میں آتے جاتے ہوئے بھی کسی کتاب کا مطالعہ یا تکرار جاری رکھتے ۔اس طرح آپ نے کئی سال تحصیل علم میں گزارے ۔ آپ نے اوقات کی تقسیم بندی کی ہوئی تھی۔ تمام وقت خیر کے کاموں میں ہی صرف ہوتاتھا ۔ تصنیف وتالیف ،تدریس ،نوافل، تلاوتِ قراٰن ، اُمور ِآخرت میں غور وفکر، اوراَمْرٌ بِالْمَعروف و نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر (یعنی نیکی کی دعوت دینے اور برائیوں سے منع کرنے ) کے لئے آپ کے اوقات مقرر تھے ۔وُسعتِ مطالعہ:امام نوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکے کثرت مطالعہ کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ علامہ کمال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی علیہ’’اَلْبَدْرُ السَّافِر وَتُحْفَۃُ الْمُسَافِر‘‘ میں فرماتے ہیں : ایک مرتبہ امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوالِی کی مشہور کتاب ’’اَلْوَسِیْط‘‘ میں کسی مسئلے پر امام نوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیسے میرا اختلاف ہو ا تو آپ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم مجھ سے اس کتاب کے مسئلے میں جھگڑتے ہوجس کا میں نے چار سو مرتبہ مطالَعہ کیا ہے!
نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا سو بار کٹا جب عقیق تب نگیں ہوا
آپ نے علمِ فقہ ابو ابراہیم اسحاق بن احمد بن عثمان مَغْرَبِی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیسے حاصل کیا آپ ان کا بہت زیادہ ادب واحترام کرتے ۔ انہیں وضو و طہارت کے لئے پانی بھرکر دیا کرتے ۔ آپ ان سے جو کتب پڑھتے زمانۂ طالب علمی میں ہی ان کی شرح لکھتے اور مشکل مقامات حل کرتے ۔ جب استاد نے آپ کی علمی کوششیں اور دنیاسے بے رغبتی دیکھی تو آپ پر خصوصی شفقت فرمائی اور آپ کو اپنے حلقے کا ’’مُعِیْدُالدَّرْس‘‘بنا لیا ۔یعنی آپ استاد سے پڑھا ہو ا سبق حلقے میں دُہرایا کرتے ۔امام نووی کی چند مشہورکُتُب:(۱) ریاض الصالحین(۲) کتاب الاذکار(۳) شرح البخار ی(۴) المنہاج شرح صحیح مسلم (۵)نکت التنبیہ(۶)الایضاح فی مناسک الحج (۷)التبیان فی اٰداب حملۃ القراٰن(۸) تحفۃ الطالب النبیہ(۹)تنقیح شرح الوسیط(۱۰)نکت علی الوسیط(۱۱) التحقیق(۱۲)مھمات الاحکام(۱۳) العمدۃ فی تسہیل التنبیہ(۱۴)التحریر فی لغات التنبیہ(۱۵)المنتخب(۱۶)دقائق الروضۃ(۱۷)طبقات الشافعیہ(۱۸) مختصر الترمذی(۱۹)قسمۃ القناعۃ(۲۰) مناقب الشافعی (۲۱) التقریب فی علم الحدیث(۲۲)املاء حدیث انما الاعمال بالنیات(۲۳)مختصر مبہم ات الخطیب(۲۴) شرح سنن ابی داء ود(۲۵) رؤوس المسائل(۲۶)الاصول والضوابط(۲۷)الاربعین(۲۸)مختصر التنبیہ(۲۹)المسائل المنثورہ (۳۰)نکت المہذب(۳۱)المنہاج مختصرالمحرر(۳۲)مختصر التبیان(۳۳)جزء فی الاستسقائ(۳۴) بستان العارفین (لم یتم) (۳۵)تہذیب الاسماء واللغات(۳۶)الخلاصۃ فی الحدیث (۳۷)الارشاد(۳۸)المجموع شرح المہذب(۳۹)جزء فی القیام لاھل الفضلبیماری پر صبر:
جب آپ اپنے والد صاحب کے ساتھ حج کے لئے حَرَمَیْن طَیِّبَیْن روانہ ہوئے تو آپ کو بخار آگیا جو عَرَفَہ تک جاری رہا لیکن اس شدید تکلیف کے باوجود آپ نے کبھی بھی بے صبری کا مظاہرہ نہ کیا۔ زیارتِ حَرَمَیْن طَیِّبَیْن کے بعد جب آپ دِمَشْق آئے تو
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے آپ پر علم کی برسات فرما دی ۔آپ کو دو مرتبہ حج کی سعادت نصیب ہوئی۔تعظیمِ اولیا:امام نوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیاولیائے کرامرَحِمَھُمُ اللّٰہ السَّلَامکا ذکر نہایت ادب واحترام اور تعظیم کے ساتھ کرتے اور ان کے فضائل ومناقب بیان فرماتے ۔متعلقین کے لئے خوشخبری:ایک مرتبہ امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکے رُفَقاء نے آپ سے عرض کی : بروزِقیامت ہمیں بھول نہ جانا۔آپ نے فرمایا:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے مجھے وہاں کوئی مقام ومرتبہ عطا فرمایا تو میں اس وقت تک جنت میں ناجاؤں گاجب تک اپنے جاننے والوں کو جنت میں داخل نہ کروالوں۔با ادب با نصیب:آپرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہکے شیخ حضرتِ سَیِّدُنا کمال اِرْبِلِیْعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے ایک بار اپنے ساتھ کھانے کیلئے بلایا تو آپ نے عرض کی:یَا سَیِّدِی! میری معذرت قبول فرمائیے کیونکہ میرے ساتھ ایک عذر ہے۔شیخ نے معذرت قبول فرمالی ۔بعد میں کسی نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کیا عُذر تھا۔ فرمایا:مجھے خوف تھا کہ کھانے کے دوران شیخ کسی لقمے کو کھانے کا ارادہ فرمائیں اور لاعلمی میں ،میں اسے کھا جاؤں۔(اور یوں مجھ سے بے ادبی صادر ہوجائے) (لواقح الانوا ر القد سیۃ فی بیان ا لعھودالمحمدیۃ ص۳۱)
ایک مرتبہ آپ
رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہسے کسی مالکی شخص نے بحث کی اور سختی سے پیش آیامگر آپ نے کوئی جوابی کاروائی نہ کی ۔ جب کسی نے وجہ پوچھی توفرمایا:اس کے امام میرے امام کے شیخ ہیں اس لئے اس کے ساتھ ادب سے پیش آنا اس کے امام کے ساتھ ادب سے پیش آنے کی مانند ہے۔ (ا لمنن الکبری ۲۷۶)اِمام نووی کی کرامات:آپ کے والدِ محترم حضرتِ سَیِّدُنا شَرَف بن مُرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں :میرے بیٹے کی عمر تقریباً سات سال تھی رمضانُ المبارَک کی ستائیسویں شب وہ میرے ساتھ سویا ہوا تھاکہ اچانک اٹھ بیٹھا اور مجھے جگاکر کہا: اے میرے والد محترم! یہ نور کیسا ہے جس نے پورے گھر کو روشن کردیا ہے ؟ آواز سن کرسب گھر والے جاگ گئے لیکن ہم میںسے کسی کو بھی کوئی روشنی نظر نہ آئی۔ میں سمجھ گیا آج شبِ قدر ہے ۔ ( اور میرے بیٹے پر اس کی نشانی ظاہر ہوگئی ہے )انوکھے درندے:
ملکِ شام کے گورنر نے جامع اُمَوِی کے خزانے میں رکھی ہوئی کتابیں بِلاد عجم میں منتقل کر نے کا ارادہ کیا تو آپ
رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہنے اسے سختی سے منع فرمایا ۔ گورنر کو غصہ آگیا اور اس نے آپ کوپکڑنا چاہا ۔آپرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہنے اس کے فرش پردرندوں کی بنی ہوئی تصویروں کی طرف اشارہ کیاتواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قدرت سے ان تصویروں نے اصلی درندوں کا روپ دھار لیا اور وہ انوکھے درندے گورنر پر حملے کے لئے تیار ہو گئے یہ دیکھ کر گورنر اوراس کے ساتھی وہاں سے بھاگ گئے پھراس گورنر نے آپرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہسے معافی مانگی اور قدم بوسی کی۔ (المنن الکبری،ص۱۶۱)مرض جا تا رَہا:
شَیْخ وَلِیُ الدِّیْن اَبُوالْحَسَن
رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ’’ میں نِقْرِس (یعنی پاؤں کے جوڑوں میں درد)کے مرض میں مبتلا ہوا تو آپرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہم یری عیادت کے لئے تشریف لائے اور صبر کی تلقین کرنے لگے۔جیسے جیسے وہ صبر کے متعلق بیان فرما رہے تھے میرا مرض دور ہو رہا تھا یہاں تک کہ درد بالکل ختم ہوگیا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ امام نوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکی برکت سے ہوا ہے ۔‘‘را توں را ت رَوَاحِیَہ سے مکۂ مکرمہ:مَدْرَسہ رَوَاحِیَہ کے بَوّاب (چوکیدار) کا بیان ہے کہ ایک رات میں نے امام نوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکومدرسے سے باہر جاتے ہوئے دیکھا تو میں بھی ان کے پیچھے چل دیا۔ جب آپ دروازے کے قریب پہنچے تو دروازہ بغیر چابی کے خود بخودکھل گیااور آپ باہر تشریف لے گئے۔ میں بھی آپکے پیچھے چلتا رہا ۔ کچھ ہی دیر میں ہم مکۂ مکرمہ پہنچ گئے ۔آپ نے طواف وسعی کی ،پھر دوبارہ طواف کیا اور واپس چل دئیے میں بھی آپکے پیچھے چلتا رہااور کچھ ہی دیر میں ہم رَوَاحِیَہ پہنچ گئے۔دل کی بات جان لی:شَیْخ اَبُوالْقَاسِم مِزِّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں : ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ مِزَّہ میں بہت سارے جھنڈے لہرا ئے جا رہے ہیں اور خوشی کاسماں ہے۔ میرے پوچھنے پر بتا یا گیا کہ آج رات یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی کو قطب بنایا جائیگا۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ یَحْیٰ نَوَوِیکون ہیں اور نہ ہی میں نے کبھی یہ نام سنا تھا۔چنانچہ، میں ان کی تلاش میں دِمَشْق پہنچا وہاں جا کر معلوم ہوا کہ یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی یہاں کے استاذُ الحدیث ہیں۔جب میں ان کے پاس پہنچاتومجھ سے فرمایا :’’میرا راز اپنے پاس ہی رکھنا کسی کو نہ بتانا۔‘‘وِصالِ پُر مَلال:آپ نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ دِمَشْق میں گزارا جہاں آپ تعلیم وتصنیف ،نفلی عبادت، تدریس اور اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف ونَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر(یعنی نیکی کی دعوت دینے اور برائیوں سے منع کرنے ) میں مشغول رہے ۔ زندگی کے آخری ایام میں اپنے آبائی گاؤں نویٰ جانے سے پہلے دمشق میں مدفون اپنے تمام شیوخ واساتذہ کے مزارات پرحاضری دی اور اپنے متعلقین سے ملاقات کی۔ نویٰ جاکر آپ بیمار ہو ئے اور بدھ کی رات 24رَجَبُ الْمُرَجَّب672ہجری میں یہ عظیم مُحدّث اس دنیا ئے فانی میں اپنی زندگی کے تقریباً44سال 6ماہ گزار کر دائمی و اُخْرَوِی منزل کی جانب کوچ کر گئے اور یوں گلشنِ اسلام میں ایک اور گُلِ زیبا کی کمی ہوگئی لیکن اس کی خوشبو سے آج بھی عالَمِ اسلام مُعَطَّر ومُعَنْبر ہے۔ آپرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہاسلام کا بہت بڑا سرمایہ تھے۔ آپ کی وفات کا مسلمانوں کو بہت غم ہوا ،اپنے پرائے سب ہی پر اُداسی چھاگئی۔ آپ کا مزار پُر اَنوار آپ کے آبائی گاؤں نَویٰ میں ہے ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن
صلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمبعد ِوصال خواب میں زیارت
نفس کی مخالَفت پرانعامِ خداوند ی:
جب آپرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہکے وصال کا وقت قریب آیا تو سیب کھانے کی شدید خواہش ہوئی۔جب سیب لائے گئے تو آپرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہنے نہ کھائے ۔بعد ِوصال اہلِ خا نہ میں سے کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : αمَافَعَلَ اللّٰہ بِکَ؟یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے آپکے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟ کہا :اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے میرے تمام اعمال قبول فرما لئے اورمیری مہمان نوازی کی گئی اور مجھے سب سے پہلے جو چیز کھانے کو دی گئی وہ سیب تھے ۔وَلی کی بے اد بی کاانجام :ایک شخص اِمام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیکی قبر پر آیااور ہاتھ سے اشارے کرکے کہنے لگا :تم وہی ہو جو امام اَوْزَاعِی سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ’’میں اس مسئلہ میں یہ کہتا ہوں ‘‘ ابھی وہ شخص اپنی جگہ سے کھڑا بھی نہ ہوا تھا کہ اسکے پاؤں پر بچھو نے ڈنک مار دیا ۔(اور یوں اسے ایک ولی کی گستاخی کی سزا ملی )بِلّی نے زبان کھینچ لی :ایک شخص آپرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہکے خلاف بہت زیادہ باتیں کیا کرتا تھا جب اس کا انتقال ہوا تو جس جگہ اسے غسل دیاجا رہاتھا وہاں ایک بلّی آئی اور اس کی زبان کھینچ لی ۔ اس طرح یہ واقعہ لوگوں کے لئے عبرت بن گیا ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اولیائے کرا مرَحِمَھُمُ اللّٰہ السَّلَامکی گستاخی وبے ادبی سے محفوظ رکھے۔ ان کے فُیُوض برکات سے مُسْتَفِیْض فرمائے ۔ ان کے صدقے ہمیں دینِ متین کی خوب خوب خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (ملخصا ا زمنھاج السو ی فی ترجمۃ الامام النووی ملحق تہذیب الاسماء واللغات)
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن
صلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّممُقَدّمَۃُ الاِمام النَّوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیتمام تعریفیں اُس خدائے بزرگ وبرتریکتاوقہار،غالب و بخشش فر مانے والے کے لئے جو اہلِ دل واہلِ نظر کی نصیحت ویاددہانی اور عقلمندوں اور عبرت حاصل کرنے والوں کی عبرت کے لئے رات کو دن سے بدلنے والا ہے۔ اور تمام تعریفیں اس ذات ِ پاک کے لئے ہیں جس نے اپنی مخلوق میں سے اپنے نیک بندوں کو خواب غفلت سے جگا کر انہیں دنیا سے بے نیاز، اپنی یاد وفکر میں مگن، دائمی ذکر کرنے والااور نصیحت قبول کرنے والا بنا دیا ۔ احوال اور طریقوں میں تبدیلی کے باوجود انہیں اپنی عبادت کے طریقے ،جنت کی تیاری ،اپنی ناراضی ا ور جہنم کو واجب کرنے والے امور سے بچنے کی توفیق عطا فرمائی ۔ میں اس خدائے بزرگ وبرتر کی بلیغ ،پاکیزہ ،اَشْمَل اورکامل ترین حمد کرتا ہوں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللّٰہ ( عَزَّوَجَلَّ ) کے سوا کوئی معبود نہیں جو مہربان، کریم او ررء وف رحیم ہے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّم)اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے خاص بندے ، اس کے رسول وحبیب و خلیل ،صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرنے والے اور دین قَوِیم کی دعوت دینے والے ہیں۔اُن پراور تمام انبیائے کرام ، انکی تمام آلِ پاک اور تمام صالحین پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت اور سلامتی ہو ۔
اما بعد!
اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت نے ارشاد فرمایا :
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶) مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ(۵۷)(پ۲۷، الذاریات:۵۶۔۵۷)
ترجمہ کنز الایمان:اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی (اسی) لئے بنائے کہ میری بندگی کریں ، میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں۔
اس آیت میں تصریح ہے کہ انسانوں اور جِنّوں کو
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے، لہٰذا اُن پر لازم ہے کہ جس مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اس کا اہتمام کریں اور زُہد و تقوی کے ذریعے دُنیوی لذَّات سے کَنارہ کش ہوجائیں۔ بے شک یہ فنا ہونے والا گھر ہے اسے بَقا نہیں ، یہ منزل تک پہنچنے کی سواری ہے دائمی خوشیوں کا گھر نہیں، ختم ہوجانے والا راستہ ہے ہم یشہ رہنے کی جگہ نہیں۔ دنیامیں رہنے والوں میں سے سمجھ دار وہ ہیں جو عبادت گزار ہیں اور لوگوں میں سب سے زیادہ عقل مند وہ ہیں جو مُتَّقِی وپرہیز گار ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے:اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُؕ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤۙ-اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِؕ-كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(۲۴)(پ۱۱: یونس: ۲۴)
ترجمہ کنز الایمان: دنیا کی زندگی کی کہاوت تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں سب گھنی ہوکر نکلیں جو کچھ آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگار لے لیا اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ یہ ہمارے بس میں آگئی ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں تو ہم نے اسے کردیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں ہم یونہی آیتیں مفصّل بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کے لئے ۔
اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیات مبارکہ موجود ہیں۔اور کسی کہنے والے نے کیا خوب کہا ہے :
αاِنَّ لِلّٰہِ عِبَاداً فُطَناً طَلَّقُوْا الدُّنْیا وَخَافُوْا الْفِتَنَا
نَظَرُوا فِیْھَا فَلَمَّا عَلِمُوْا اَنَّھَا لَیْسَتْ لِحَیٍّ وَطَنَا
جَعَلُوْھا لُجَّۃً وَاتَّخَذُوا صَالِحَ الاَعْمَالِ فِیْھا سُفُنَا
ترجمہ:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سمجھدار بندے ایسے ہیں جنہوں نے فتنے کے خوف سے دنیا کو چھوڑدیا ہے ، جب انہوں نے اس میں غور کیا توجان گئے کہ یہ ہم یشہ رہنے کی جگہ نہیں ہے تو انہوں نے دنیا کو( گہرے سمندرکی ) موج قرار دیا اوراعمالِ صالحہ کو اس میں کِشتی بنا لیا۔
(امام نووی فرماتے ہیں ) جب دنیا کی حالت یہ ہے جو میں نے ابھی بیان کی اور ہمارا حال اور مقصد ِ حیات وہ ہے جو میں نے پہلے بیان کیا تو مکلف پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو اچھوں کے راستے پر چلائے اور اصحابِ بصیرت کے طریقے اپنائے۔ اور اس کا اہتمام کرے جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ۔ اس ضمن میں اس کے لئے بہترین اور سب سے زیادہ ہدایت والا راستہ یہ ہے کہ اولین و اٰخرین کے سردار، سابقین و لاحقین میں سب سے زیادہ مُعَزَّز نبی
صلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمسے جو آداب صحیح طور پر ثابت ہیں ان کو اپنائے۔ فرمان ِ خدا وندی ہے :وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪(پ۶: المائدۃ: ۲)
ترجمہ کنز الایمان:اورنیکی اور پرہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔
شافعِ امت، مصطفیٰ جان رحمت
صلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمنے فرمایا :’’جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا رہتا ہےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی مدد فرماتا رہتا ہے۔ ‘‘ (مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار،باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القران و علی الذکر، ص۱۴۴۷، حدیث۲۶۹۹)ایک جگہ ارشاد فرمایا :جس نے بھلائی کی طرف رہنمائی کی تو اس کے لئے اس بھلائی پر عمل کرنے والے کی مثل ثواب ہے۔ ‘‘(مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل اعانۃ الغازی فی سبیل اللّٰہ، ص۱۰۵۰، حدیث۱۸۹۳) اور فرمایا: جس نے نیکی کی طرف بلایا اس کے لئے اتنا ہی ثواب ہے جتنا اس پر عمل کرنے والوں کے لئے اور ان کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہ آئے گی۔ (مسلم، کتاب العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ…الخ، ص۱۴۳۸، حدیث۲۶۷۴)
حضور
صلی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسَلَّمنے حضرتِ سَیِّدُنا علیکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے فرمایا :اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتیرے ذریعے کسی ایک شخص کو ہدایت دے تو یہ تیرے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔(بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب علی بن ابی طالب، ۲/۵۳۴، حدیث۳۷۰۱)
میں نے چاہا کہ احادیثِ صحیحہ پر مشتمل مختصر ایک ایسی کتاب تالیف کروں جو اپنے پڑھنے والے کے لئےآخرت کازادِ راہ اور ظاہری و باطنی آداب کے حصول کا ذریعہ بن جائے ۔ اور وہ کتاب ترغیب و ترہیب اور سَالِکِیْن کے تمام آداب کی اَنواع مثلاً زُہد، ریاضتِ نفس، تہذیبِ اخلاق، دلوں کی پاکیزگی، دلوں کے علاج، اعضا کی حفاظت اور ان کی کجی کے ازالے اور ان کے علاوہ دیگر اُن باتوں کو جامع ہوجو عارفین کا مقصدِ حیات ہیں۔
میں نے اس کتاب میں اس بات کا اِلتزام کیا ہے کہ اس میں صرف وہ صحیح احادیث کریمہ ذکر کروں گا جو حدیث کی مشہور کتابوں میں موجود ہیں۔ اور ابواب کی ابتدا آیاتِ قرآنی سے کروں گا ،جہاں ضبطِ حرکات یا شرح کی ضرورت ہوگی وہاں حرکات لگادوں گا اور نفیس تشریح کردوں گا ۔جب میں کسی حدیث کے آخر میں ’’مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ‘‘ کہوں تو اس کا مطلب ہے کہ اس حدیث کو امام بخاری و امام مسلم (
رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہما)نے روایت کیا ہے۔
میں امید کرتا ہوں کہ اگر یہ کتاب پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی تو جو لوگ اسے اپنائیں گے ان کے لئے نیک اعمال کی رہنمائی، برائیوں اور مُہْلِکَات سے اِجتناب کا باعث بنے گی۔ جو مسلمان بھائی اس سے نفع حاصل کریں میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ میرے لئے میرے والدین، اساتذہ ، احباب اور تمام مسلمانوں کے لئے دعاکریں اللّٰہکریم پر ہی میرا اعتماد ہے اور میرا سب کچھ اسی کے حوالے ہے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّمجھے کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے ۔ نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوتاللّٰہ عَزَّوَجَلَّغالب و حکمت والے کی عطا کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔