- ہوم
- کتابیں
- اَنْوارُ الحَدِیْثْ
- مقدمہ
مقدمہ - اَنْوارُ الحَدِیْثْ
بِسْمِ اللّٰہ الرّحْمٰنِ الرّحِیْم
اَلْحَمْدُ ِللَّہِ ھُوَالْمُعِیْنُ اِیّاہُ نَعْبُدُ ونَسْتَعِیْن
مُعْتَرِفاً لَہُ بِالْاِخْتِصَاصِ مَاحَوَتْہ سُوْرَۃُ الْاِخْلاَصِ
سُلْطَانُہُ فِی الْأَرْضِ وَالسَّمَاء ربُّ الْجَلاَلِ وَعَلَی الْعلاَءِ
ثُمَّ صَلَاتُہُ عَلَی مَنْ أُیِّدَا بِاَحْسَنِ الْحَدِیْثِ أَعْنِی أَحْمَدا
قُطْبَ الوُجودِ وَکَذاَ سَلَامُ لَمْ یَکْتَنِہ لِکُنْھِہِ الأَنَامُ
وَیَدْخُلُ الْآلُ بِذاَ أَھْلُ الشَّرَفِ وصَحْبُہُ وَمَنْ تَلاَمِنَ السَّلَفِ
أمابعد:ایک عرصہ دراز سے اس امر کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ عامۂ مسلمین اہلِ سنّت کے لیے اردو زبان میں احادیثِ مقدّسہ کا کوئی مستند مجموعہ مرتب کیا جائے لیکن کسی بھی زبان کے مطالب و معانی کو دوسری زبان میں منتقل کرنا جتنا مشکل کام ہے وہ اہلِ علم و بصیرت پر مخفی نہیں۔ خصوصیت کے ساتھ احادیثِ نبوی کا اردو ترجمہ تو اس لحاظ سے اور بھی زیادہ مشکل ہے کہ ایمان و اسلام کی تفصیلات اور شریعت کے احکام کا وہ اصل ماخذ بھی ہے اس لیے مطالب و معانی کی تعبیر میں الفاظ و بیان کی ذرا بھی لغزش ہوگئی تو نہ صرف یہ کہ اسلام کے شارح کا مقصود و مدعا ادا ہونے سے رہ جائے گا بلکہ اسلامی دستور کی وہ روح متاثر ہوجائے گی جو عملی زندگی کے بے شمار گوشوں پر حاوی ہے ۔ اس لیے ترجمۂ احادیث کے سلسلہ میں صرف ہر دو زبان کی واقفیت کافی نہیں ہے ۔ بلکہ مطالب و معانی کی صحیح تعبیر پر قدرت کے ساتھ ساتھ حدیث فہمی کی فقہی بصیرت ، شروح وتاویلات کا گہرا مطالعہ ، اسلاف کے دینی و فکری مزاج اور ذات ِ نبویﷺکے ساتھ غایت ِعشق و عقیدت اور والہانہ جذبہ و احترام کا تعلق بھی نہایت ضروری ہے ۔
خدا کا شکر ہے کہ فاضلِ جلیل حضرت مولانا مفتی جلال الدین احمد صاحب امجدیزِیْدَ مَجْدُہُمْاس عظیم خدمت کی انجام دہی کے لیے آمادہ ہوگئے اور سالہا سال کی محنت و عرق ریزی کے بعد انہوں نے مستند حدیثوں کا ایک اردو مجموعہ مرتب کرکے قوم کے سامنے پیش کیا جواس وقت ہمارے سامنے ہے ۔
میں اپنے علم و یقین کی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ مولانا موصوف اپنے علم و تقویٰ، بصیرت و ذکاوت اور عشق ووجدان کی لطافتوں، طہارتوں اورسعادتوں کے اعتبار سے قطعاً اِس خدمت کے اہل ہیں اور بلاشبہ ان کی یہ خدمت احترام و اعتماد کی نظر سے دیکھے جانے کے قابل ہے ۔
میں دعا کرتا ہوں کہ مولیٰ تعالیٰ اہلِ حق کی طرف سے انہیں اس گرانمایہ خدمت پر اجر جزیل اور جزائے جلیل و بے مثیل عطا فرمائے اور احادیث صحیحہ کا یہ اردو مجموعہ بارگاہِ رسالتعلی صاحبہا الصلوۃ والسلاممیں سندِ قبول کی عزت سے سرفراز کرے ۔
رسم معہود کے مطابق عزیز موصوف نے اپنے اس گراں قدر مجموعے کا پیش لفظ لکھنے کے لیے مجھ جیسے بے بضاعت و ناسزا وار کو اتنی بار مجبور کیا کہ اب معذرت کی بھی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ویسے یہ امر واقعہ ہے کہ اس عظیم منصب کا میں اہل نہیں ہوں۔ لیکن صرف اس لالچ میں قلم اٹھا رہا ہوں کہ شاید عرصۂ محشر میں یہی چند سطریں میرے نامۂ اعمال کی ارجمندیوں کا پیش لفظ بن جائیں۔
احادیث ِنبوی کی نشرواشاعت کی خدمت بجا طور پر دونوں جہان کا سب سے بڑا اعزاز ہے لیکن حیاتِ مستعار کے چند لمحوں کا یہ مصرف بھی کچھ کم قابلِ فخر نہیں کہ دشمنانِ حق کی طرف سے احادیث ِ مقدسہ کی حرمت وناموس پر کئے گئے حملوں کا دفاع کرکے دلوں کے تار یک ویرانوں میں حقیقت و یقین کا اُجالا پھیلایا جائے ۔ اسی جذبے کی تحریک پر میں نے اپنے پیش لفظ میں حدیث کی دینی حیثیت، تدوینِ حدیث کی علمی و تاریخی انفرادیت اور فتنۂ انکارِ حدیث اور اس کے اسباب و محرکات پر بے لاگ بحث کرکے بہت سے وہ حقائق بے نقاب کئے ہیں جن پر اب تک پردہ پڑا ہوا ہے ۔
خدا کرے میرے قلم کی یہ کاوش اہلِ علم کی بارگاہوں سے وقعت و اعتماد کی سند حاصل کرے اور عامۂ مسلمین دشمنانِ حق کی ان سازشوں سے باخبر ہوجائیں جو انکار ِ حدیث کے جذبے کے پیچھے کار فرما ہیں۔
٭…٭…٭…٭حدیث کی تعریف اور اس کی قسمیںجمہور محدثین کی اصطلاح میں حدیث کی تعریف یہ کی گئی ہے :اَلْحَدِیْثُ یُطْلَقُ عَلَی قَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تَصْرِیْحاً وَحُکْماً وَعَلَی فِعْلِہ وَ تَقْرِیْرِہ وَمَعْنَی التَّقْرِیْرِھُوَ مَافُعِلَ بِحُضُوْرِہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَلَمْ یُنْکِرْہُ عَلَیْہِ أَوْ تَلَفَّظَ بِہ أَحَدٌ مِنَ الصَّحَابَۃِ بِمَحْضَرِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَلَمْ یُنْکِرْہُ وَلَمْ یَنْھَہٗ عَنْ ذَلِکَ بَلْ سَکَتَ وَقَرَّرَ۔ ([1])(النخبۃ النبھانیۃ)
حدیث کہتے ہیں حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے قول کو وہ صراحتہً ہو یا حکماً اور حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے فعل کو اور حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی تقریر کو۔ تقریرکا مطلب یہ ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے رُوبرو کوئی کام کیا گیا اور حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے اسے منع نہیں فرمایا۔ یا صحابہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُممیں سے کسی نے کوئی بات کہی اور حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے اسے رد نہیں کیا بلکہ خاموش رہے اور عملاً اسے ثابت فرمادیا۔
اس کے بعد فرماتے ہیں:وَکَذَا یُطْلَقُ الْحَدِیْثُ عَلَی قَوْلِ الصَّحَابَۃِ وَعَلَی فِعْلِھِمْ وَعَلَی تَقْرِیْرِھِمْ وَالصَّحَابِیُّ ھُوَ مَنِ اجْتَمَعَ بِالنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مُؤْمِناً وَمَاتَ عَلَی الْاِسْلاَمِ۔ ([2])(النخبۃ النبھانیۃ)
اور اسی طرح حدیث کا لفظ بولا جاتا ہے صحابہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمکے قول و فعل اور ان کی تقریر پر بھی۔ اور صحابی کہتے ہیں اس محترم ہستی کو جسے بحالت ِایمان حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی صحبت نصیب ہوئی اور ایمان پر ہی خاتمہ ہوا۔
پھر فرماتے ہیں:وَکَذٰلِکَ یُطْلَقُ الْحَدِیْثُ عَلَی قَوْلِ التَّابِعِیْنَ وَفِعْلِھِمْ وَتَقْرِیْرِھِمْ وَالتَّابِعِیُّ ھُوَمَنْ لَقِیَ الصَّحَابِیَّ وَکَانَ مُؤْمِناً بِالنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وَمَاتَ عَلَی الْاِسْلاَمِ۔ ([3])(النخبۃ النبھانیۃ)
اور اسی طرح حدیث کا لفظ بولا جاتا ہے تابعین کے قول وفعل اور ان کی تقریر پر بھی ۔ اور تابعی کہتے ہیں اس معظم ہستی کو جس نے بحالت ِایمان کسی صحابی سے ملاقات کی اور ایمان پر اس کا خاتمہ ہوا۔حدیث کی بنیادی قسمیںاس لحاظ سے حدیث کی تین قسمیں ہوگئیں۔ جس کی تشریح حضرت شیخ محقق سیدی شاہ عبدالحق محدث دہلویرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے یوں فرمائی ہے :مَاانْتَھَی إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یُقَالُ لَہُ الْمَرْفُوْعُ۔وَمَا انْتَھَی إِلَی الصَّحَابِی یُقَالُ لَہُ الْمَوْقُوْفُ۔وَمَا انْتَھَی إِلَی التَّابِعِی یُقَالُ لَہُ الْمَقْطُوْعُ۔ ([4])(مصطلحات الاحادیث)
جس حدیث کا سلسلۂ روایت نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمتک منتہی ہوتا ہے اسے ’’حدیث مرفوع‘‘ کہتے ہیں۔ اورجس حدیث کا سلسلۂ روایت کسی صحابی تک منتہی ہوتاہے اسے ’’حدیث موقوف‘‘کہتے ہیں۔ اورجس حدیث کا سلسلۂ روایت کسی تابعی تک منتہی ہوتا ہے اسے ’’حدیث مقطوع‘‘ کہتے ہیں۔حدیث کی دینی حیثیتیہ امر محتاجِ بیان نہیں ہے کہ احکام شر یعت کا پہلا سرچشمہ قرآن عظیم ہے کہ وہ خدا کی کتاب ہے اور قرآن ہی کی صراحت و ہدایت کے بموجب رسولِ خداصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی اطاعت و اتباع بھی ہر مسلمان کے لیے لازم وضروری ہے کہ بغیر اس کے احکامِ الہٰی کی تفصیلات کا جاننا اور آیاتِ قرآنی کا منشا و مراد سمجھنا ممکن نہیں ہے اس لیے اب لا محالہ حدیث بھی اس لحاظ سے احکامِ شرع کا ماخذ قرار پا گئی کہ وہ رسولِ خدا کے احکام و فرامین ، ان کے اعمال ، افعال اور آیات ِ قرآن کی تشریحات و مرادات سے باخبر ہونے کا واحد ذریعہ ہے ۔
اب ذیل میں قرآن مبین کی وہ آیات ِ کریمہ ملاحظہ فرمائیں جن میں نہایت صراحت و وضاحت کے ساتھ بار بار رسولِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی اطاعت وفرمانبرداری اور اتباع و پیروی کا حکم دیا گیا ہے ۔
(۱) {یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ}(پارہ۹۔رکوع۱۷)
اے ایمان والو !اللّٰہاور اسکے رسول کی اطاعت کرو اور رسول سے رُو گردانی نہ کرو۔(2){وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا}(پارہ۱۰۔رکوع۲)اللّٰہاور اس کے رسو ل کی اطاعت کرو اور آپس میں مت جھگڑو کہ بکھر کر کمزور ہوجاؤ گے ۔
(3){وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-}(پارہ۵۔رکوع۶)
اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس منصب کے ساتھ کہاللّٰہکے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے ۔
(4){قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ}(پارہ۳۔رکوع۱۲)
اے رسول ! آپ لوگوں سے فرمادیجئے کہ اگر تم خدا سے دوستی کا دم بھرتے ہو تو میری پیروی کرو خدا تمہیں اپنا دوست بنائے گا۔
(5){فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ}(پارہ۵۔رکوع۶)
آپ کے رب کی قسم وہ ہر گز مسلمان نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے اُن معاملات میں آپ کو اپنا حاکم نہ مان لیں جن میں ان کے آپس کا جھگڑا ہے ۔
(6){اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ}(پارہ۵۔رکوع۵)اللّٰہاور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی اطاعت کرو جو تم میں حکومت والے ہیں پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اُٹھے تواللّٰہاور رسو ل کی جانب رجوع کرو۔
(7){یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ(۳۳)}(پارہ۲۶۔رکوع۸)
اے ایمان والو!اللّٰہکی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ اور اپنے عمل کو باطل نہ کرو۔
(8){مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-}(پارہ۵۔رکوع۸)
جس نے رسول کی اطاعت کی تو بے شک اس نےاللّٰہکی اطاعت کی۔
(9){قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَۚ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ(۳۲)}(پارہ۳۔رکوع۱۲)
اے رسول ! تم فرما دو کہاللّٰہاور رسول کی اطاعت کرو۔ پھر اگر وہ منہ پھیریں تواللّٰہکافروںکو پسند نہیں کرتا۔
(10){مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ(۷)}(پارہ۲۸۔رکوع۴)
جو کچھ رسول تمہیں عطا فرمائیں اسے لے لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اوراللّٰہسے ڈرو۔ بے شکاللّٰہکا عذاب سخت ہے ۔
(11){لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} (پارہ۲۱۔رکوع۱۹)
بے شک تمہیں رسولاللّٰہکی پیروی بہتر ہے ۔
مذکورہ بالا آیاتِ قرآنیہ کی رُوسے اہلِ اسلام کے لیے رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکی ذات ِ گرامی کا مرکز اطاعت اور مرجع اتباع ہونا واضح طور پر ثابت ہوگیا۔ لہذا اس اعتبار سے اب رسولِ خداعَلَیْہِ التَّحِیَّۃُ وَالثَّنَاکا ہر حکم ہمارے لیے اسی طرح واجب الاطاعت ہے جس طرح قرآن کے ذریعہ ہم تک پہنچنے والا کوئی حکمِ خداوندی ہمارے لیے واجب الاطاعت ہے کیونکہ ر سول کا حکم بھی بالواسطہ خدا ہی کا حکم ہے ۔ایک بنیادی سوالیہ بات ذہن نشین کرلینے کے بعد اب ایک بنیادی سوال پر غور فرمائیے اور وہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیات میں رسولِ خداصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی اطاعت و اتباع کا جو بار بار حکم دیا گیا ہے تو آیا یہ حکم رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی صرف حیاتِ ظاہری تک ہے یا قیامت تک کے لیے ۔
اگرمعاذاللّٰہاس حکمِ الہٰی کو رسول کی حیات ِ ظاہری کے ساتھ خاص کردیا جائے تو دوسرے لفظوں میں اس کا صاف اور واضح مطلب یہ ہوگا کہ قرآن و اسلام پر عمل کرنے کا زمانہ بھی رسولِ خداصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی حیاتِ ظاہری تک محدود ہے اس لیے کہ رسولِ خداصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے فرمودات کی اطاعت اور ان افعال کی پیروی لازم ہی اس لیے تھی کہ بغیر اس کے قرآن و اسلام کی تفصیلات کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ لیکن جب قرآن و اسلام پر عمل درآمد کا حکم قیامت تک کے لیے ہے تو ثابت ہوا کہ رسولِ خداصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی اطاعت و اتباع کا حکم بھی قیامت تک کے لیے ہے ۔حدیث کے حجت ہونے پر ایک عظیم استدلالجب یہ بات طے ہوگئی کہ قرآن و اسلام پر عمل درآمد کا حکم قیامت تک کے لیے ہے اور یہ بھی طے ہوگئی کہ قرآن و اسلام کی تفصیلات کا علم اور اُن پر عمل درآمد بغیر اطاعت ِرسول کے ممکن نہیں ہے تو اس ضمن میں ایک دوسرا بنیادی سوال یہ ہے کہ لغت و عرف اور شریعت و عقل کی رو سے اطاعت ہمیشہ احکام کی کی جاتی ہے پس دریافت طلب یہ امر ہے کہ آج رسولِ خداصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے وہ احکام کہاں ہیں جن کی اطاعت کا قرآن ہم سے مطالبہ کرتا ہے کیونکہ احکام کے بغیر اطاعت کا مطالبہ سرتاسرعقل و شریعت کے خلاف ہے ۔ پس جب آج بھی قرآن ہم سے اطاعت ِ رسول کا طالب ہے تو لازماً آج ہمارے سامنے احکامِ رسول کا ہونا بھی ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ رسولِ خداصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکے احکام سے وہ احکام ہر گز نہیں مراد لیے جاسکتے جو خدا کی طرف سے قرآن میںو ارد ہوئے ہیں۔ کیونکہ احکامِ خداوندی ہونے کی حیثیت سے ان کا واجب الاطاعت ہونا ہمارے لیے بہت کافی ہے اس لیے لامحالہ ماننا پڑے گا کہ رسول کے جن احکام کی اطاعت کا ہمیں حکم دیا گیا ہے وہ قرآن مجید میں وارد شدہ احکامِ خداوندی کے علاوہ ہیں۔
اتنی تمہید کے بعد اب یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ رسول ِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے احکام و ارشادات اور قرآن و اسلام کی تشریحات و تفصیلات کے مجموعہ کا نام مجمو عۂ احادیث ہے ۔ یہیں سے حدیث کی دینی ضر ورت اور اس کی اسلامی حیثیت اچھی طرح واضح ہوگئی۔ حدیث کی دینی اہمیت سے وہی شخص انکار کرسکتا ہے جو یک لخت اطاعت رسول کا منکر ہو۔نقل و روایت کی ضرورت پر استدلالملّت ِاسلام کی جن مقدّس ہستیوں کو رسولِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اعمال و افعال کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور ان کے احکام و ارشادات کو اپنے کانوں سے سننے کا قابلِ رشک موقع حاصل تھا انہیں اُمور سے باخبر ہونے کے لیے نقل و روایت کے واسطوں کی مطلق ضرورت نہیں تھی۔ لیکن بعد میں آنے والے جن افراد کو براہِ راست اس کا موقع حاصل نہیں تھا انہیں اپنے رسولصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اقوال وافعال سے باخبر ہونے کا ذریعہ سوائے نقل و روایت کے اور کیا تھا؟
یہیں سے یہ سوال بھی حل ہوگیا کہ سرکارِ والا تبار کے اقوال و افعال اور کوائف و احوال سے آنے والی امت کو باخبر کرنے کے لیے سلسلۂ نقل و روایت کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
پس اس امت کے جس افضل ترین طبقے نے سرکارِ رسالت مآبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو بذات ِ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور براہ ِراست اپنے کانوں سے سنا وہ ’’ طبقۂ صحابہ‘‘ کے نام سے موسوم ہوا اور سرورِ کونین کے وصال شریف کے بعد صحابہ کرام نے جن لوگوں تک رسالت مآبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے متعلق اپنے مشاہدات، مسموعات اور معلومات کا ذخیرہ پہنچایا وہ ’’تابعین‘‘ کہلائے ۔ اور اس معزز طبقے نے صحابۂ کرام کے ذریعہ حاصل ہونے والے مشاہدات و مسموعات کا ذخیرہ جن لوگوں تک پہنچایا وہ’’ تبع تابعین‘‘ کے لقب سے ملقب ہوئے ۔ پھر اس طبقہ نے تابعینِ کرام کے ذریعہ حاصل کیے ہوئے سے اپنے زمانے کے لوگوں کو باخبر کیا یہاں تک کہ سینہ بہ سینہ، سفینہ در سفینہ، نسل در نسل اور گروہ در گروہ نقلِ روایات کا یہ مقدس سلسلہ آگے بڑھتا رہا تا آنکہ رسالت ِمآبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اقوال و افعال ، احوال و کوائف اور ارشادات و تقریرات کا وہ مقدس ذخیرہ احادیث کی ضخیم ضخیم کتابوں میں محفوظ ہو کر ہم چودہ سو برس بعد میں پیدا ہونے والے افرادِ امت تک پہنچایا۔
پس رحمت و نور کی موسلادھار بارش ہو راویانِ حدیث کے اس مقدس گروہ پر جس کے اخلاص و ایثار ، منت و احسان، محنت و جفا کشی، جاں نثار ی و جگر سوزی ، پیہم سفر ، جنون انگیز مہم، لگاتار قربانی اور سعی مسلسل کے ذریعہ آقائے کونینصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی جلوہ ریز و عطر بیز زندگی کا ایک شفاف آئینہ ہمیں میسر آیا۔
اتنا شفاف کہ چشمِ عقیدت وا کرتے ہی اس عہدِ فرخندۂ فال میں پہنچ جائیے جہاں قدم قدم پر شہپر جبریل کی آواز سنائی دیتی ہے ۔ آفتابِ نیم روز کی بات کیا کہیے کہ رات کو بھی جلوؤں کا سویرا ہے ، ہر طرف ملکوتیوں کا ڈیرا ہے ، آسمانوں کے پٹ کھلے اور بند ہوئے ، افلاکیوں کے نورانی قافلے اترے اور چلے گئے ، عرش سے فرش تک انوار و تجلیات کا تانتا بندھا ہوا ہے ، جلوؤں کی بار ش سے طیبہ کی زمین اتنی نم ہوگئی ہے کہ نچوڑے تو کوثر کا دھارا پھوٹ پڑے ، کشورِ رسالت کے سلطان ِ اعظم کبھی صحنِ مسجد میں ہیں، کبھی حجرئہ عائشہ رضیاللّٰہعنہا میں، کبھی اپنے سرفروش دیوانوں کا قافلہ لیے ہوئے وادیوں ، کہساروں اور ریگزاروں سے گزررہے ہیں اور کبھی گریہ و مناجات کے خلوت کدوں میں امت کی فیروز بختی کا مقدر سنوار رہے ہیں۔ کبھی فرطِ غم سے آنکھیں نم ہوگئیں اور کبھی جاں نواز تبسّم سے غنچے کھِلادیئے ۔ گلستانوں کی طرف نکل گئے تو خرامِ ناز کی نگہتوں سے راستے مہک اُٹھے اور اب کاشانۂ رحمت میں جلوہ فگن ہیں تو ہر طرف طلعت ِزیبا کا اُجالا ہے ۔ ابھی بزمِ عاشقاں میں حقائق و معارف کے گوہر لٹا رہے ہیں اور اب دیکھیے تو معرکہ ٔ کار زار میں جاں نثاروں کو عیشِ جاوداں کی بشارت دے رہے ہیں۔
غرض حدیث کی کتابوں کا جو ورق الٹئے نقوش و حروف کے آئینے میں سرکارِ والا تبار کی زندگی کا ایک ایک خدو خال نظر آتا ہے جن نامرادوں کے قلوب عشقِ رسالت کی نعمت ِکبریٰ سے محروم کردیئے گئے ہیں وہ جلوئہ محبوب کے اس آئینہ جمال و کمال کو توڑ بھی دیں تو انہیں اس کا قلق ہی کیا؟ کہ پہلو میں محبت آشنا دل ہی نہیں ہے لیکن ان درد مندانِ عشق اور وارفتگانِ آرزوئے شوق سے پوچھئے جو خاک ِ طیبہ کو صرف اس جذبۂ محبت میں اپنی آنکھوں سے لگالیتے ہیں کہ شاید پائے حبیب سے یہ مس ہوگئی ہو کہ احادیث کی کتابوں میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور تسکین قلب کے کیا کیا سامان ہیں۔
عاشق نہ شنیدی محنت اُلفت نہ کشیدی
کس پیش تو غم نامۂ ہجراں چہ کشایدداسان شوق کا آغاز اور اس کا اہتمامروایت ِحدیث کا یہ سارا سلسلہ جن حضرات پر منتہی ہوتا ہے وہ صحابۂ کرامرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمکا مقدس طبقہ ہے ۔ کیونکہ رسالت مآبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی حیاتِ طیبہ کے وہی مشاہد حقیقی ، ناقلِ اوّل اور شب و روز کے حاضر باش ہیں۔ اگر ان بزرگوں نے اپنی معلومات و مشاہدات کا ذخیرہ دوسروں تک نہ پہنچایا ہوتا تو روایت ِحدیث کے ایک عظیم فن کی بنیاد ہی کیوں پڑتی۔ بزم ِ شوق کی اس داستانِ لذیذ سے چودہ سو برس کی دنیا توکیا باخبر ہوتی کہ نرگس کی چشمِ محرم کو بھی جلوؤں کا سراغ نہ ملتا۔ معارف و تجلیات کا چشمۂ فیض جہاں پھوٹا تھا وہیں منجمد ہو کے رہ جاتا۔ آخر ایک قرن کی بات دوسرے قرن میں پہنچی کیسے ؟ اگر سننے اور دیکھنے والوں نے پہنچانے کا اہتمام نہیں کیا تھا۔
اس راہ میں صحابۂ کرام کے جذبۂ اشتیاق کی تفصیل معلوم کرنے کے بعد معمولی عقل و فہم کا آدمی بھی اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتاکہ وہ اس کام کو دین کا بنیادی کام سمجھتے تھے ۔ جیسا کہ دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ جب تک اس خاکدانِ گیتی کو سرکار ِپرانوار کے وجودِ ظاہری کی برکتوں کا شرف حاصل رہا پروانوں کے دستے ہروقت دربار ِ گُہَر بار میں سر اپا اشتیاق اور گوش بر آواز رہا کرتے کہ کب وہ لب ہائے جاں نواز کھلیں اور ارشادات ِ طیبات کے گل ہائے نور سے دل کی انجمن کو معطر کریں اور اتنا ہی نہیں بلکہ حاضر باش ر ہنے والوں سے اس کا بھی عہد وپیمان لیا جاتا کہ وہ غیر حاضر رہنے والوں تک دربارِ نبوت کی ساری سرگزشت پہنچادیا کریں۔
جیسا کہ حاکم الحدیث حضرت حافظ نیشاپوریرضی المولیٰ تعالیٰ عنہحضرت براء بن عازبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے اسی سلسلے میں ایک حدیث روایت کرتے ہیں۔ صحابی موصوف کے الفاظ یہ ہیں:
’’مَاکُلّ الْحَدِیْثِ سَمِعْنَاہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کُنَّا مُشْتَغِلِیْنَ فِیْ رِعَایَۃِ الْاِبِلِ وَأَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کَانُوْا یَطْلُبُوْنَ مَایَفُوْتُھُمْ سَمَاعُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فَیَسْمَعُوْنَہُ مِنْ أَقْرَانِہ وَمِمَّنْ ھُوَ أَحْفَظُ مِنْھُمْ‘‘۔ ([5])
ہم لوگوں کو تمام احادیث کی سماعت حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے نہیں ہو پاتی تھی ہم اُونٹوں کی دیکھ بھال میں بھی مشغول رہتے تھے اور صحابہ کرامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمکو حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے جس حدیث کی سماعت فوت ہوجاتی تھی ۔ اس کو اپنے ہم عصروں اور زیادہ یاد رکھنے والوں سے سن لیا کرتے تھے ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ص ۱۴)عہد صحابہ میں روایاِ نِ حدیث کے مواقعدین کو اپنی تفصیلات وتشریحات کے ساتھ اہلِ اسلام تک پہنچانے کے لیے صحابۂ کرام کے درمیان احادیث کی نقل وروایت کا شب وروز یہ معمول تو تھاہی اس کے علاوہ بھی بہت سے مواقع اس طرح کے پیش آتے تھے جب کہ کسی خاص مسئلے میں قرآن کا کوئی صریح حکم نہیں ملتاتو مجمع صحابہ سے دریافت کیا جاتا کہ اس مسئلے کے متعلق سر کار ِ رسالت مآبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی کوئی حدیث کسی کو معلوم ہو تو بیان کرے ۔
چنانچہ یہی حافظ نیشاپوری حضرت قبیصہ ابن ذویبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ایک حدیث نقل کرتے ہیں:
’’قَالَ جَاءَ تِ الْجَدَّۃُفِیْ عَھْدِ أَبِیْ بَکرِ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ تَلْتَمِسُ أَنْ تُوْرَثَ فَقَالَ أَبُوْبَکرِ مَا أَجِدُلَکِ فِیْ کِتَابِ اللّٰہ شَیْءًاحَتَّی أَسَالَ النَّاسَ الْعَشِیَّۃَ فَلَمَّا صَلَّی الظُّھْرَ قَامَ فِیْ النَّاسِ یَسْألُھُمْ فَقَالَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالَی عَلَیْہِ وَسَلَّم یُعْطِیْھَا السُّدُسَ‘‘۔ ([6])انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے عہدِ خلافت میں ایک دادی اُن کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ چاہتی تھی کہ اسے پوتے کی میراث میں سے کچھ حصہ دیا جائے ۔ حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ارشاد فرمایا کہ قر آنِ مجید میں تیرا کوئی حصہ میں نہیں پاتا ہوں اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ حضورِ اکرمصلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلمنے تیرے بارے میں کچھ فرمایا ہے ۔ جب اس نے اصرار کیا تو فرمایا کہ اچھا ٹھہر! میں شام کو لوگوں سے اس کے بارے میں دریافت کروں گاجب ظہر کی نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں سے اس کے متعلق دریافت کیا اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ حضورِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے میں نے سنا ہے کہ وہ دادی کو چھٹا حصہ دیتے تھے ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ص۱۴)واقعہ کی تحقیق کا ایک عظیم نکتہبات اتنی ہی پر نہیں ختم ہوگئی۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت مغیرہ ابن شعبہ حدیث بیان کرکے جب بیٹھ گئے تو حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُدوبارہ کھڑے ہوئے اب باقی حصہ واقعہ کے راوی کی زبانی سنییٔ۔ فرماتے ہیں:
’’قَالَ أَبُوْبَکرٍ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالَی عَنْہُ أَ سَمِعَ ذَلِکَ مَعَکَ أَحَدٌ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یُعْطِیْھَاالسُّدُسَ‘‘۔ ([7])
حضرت ابوبکررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا یہ بات تمہارے ساتھ کسی اور نے بھی سنی ہے ؟ اس سوال پر حضرت محمد بن مسلمہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بیان کیا کہ میں نے بھی رسولاللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے سنا ہے کہ وہ دادی کو چھٹا حصہ دیتے تھے ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ص۱۴)اللّٰہاکبر ! جانتے ہیں حضرت ابوبکر کا یہ سوال ’’أَ سَمِعَ ذٰلِکَ مَعَکَ أَحَدٌ‘‘ ( یہ بات تمہارے ساتھ کسی اور نے بھی سنی ہے ؟) کس سے ہے ؟ یہ حضرت مغیرہ بن شعبہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُہیں جن کا شمار اجلۂ صحابہ میں ہے اور جن کی دیانت و تقویٰ اور امانت و راستی کی قسم کھائی جاسکتی ہے ۔ لیکن یہیں سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ حدیث ِرسول دین کے لیے حجت اور وجوبِ احکام میں مؤثر نہ ہوتی تو حدیث کی توثیق و تصدیق کے لیے اتنا اہتمام کیوں کیا جاتا۔ اور یہیں سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ بیان کرنے والے ایک سے دو ہوجائیں تو بات کا ثبوت نقطۂ کمال کو پہنچ جاتا ہے ۔
کسی واقعہ کی خبر ایک ہی آدمی کی زبانی سنی جائے اور وہی خبر متعدد آدمیوں کے ذر یعہ موصول ہو تو دونوں میں یقین و اعتماد کی کیفیت کا جو فرق ہے وہ محتاجِ بیان نہیں ہے ۔ حضور سرور عالمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی حدیث شریف کے متعلق اپنے علم و یقین اور نقل و روایت کے اعتماد کو نقطئہ کمال پر پہنچانے کے لیے صحابہ کر ام کے یہاں اس طرح کا اہتمام ہمیں قدم قدم پر ملتا ہے ۔ایک ایمان افروز واقعہحاکم الحدیث حضرت حافظ نیشا پور یرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے مشہور صحابی رسول حضرت ابوایوب انصاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے متعلق ایک نہایت رقت انگیز واقعہ بیان کیا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ حضور ِاکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ایک حدیث انہوں نے سنی تھی اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس حدیث کے سننے والوں میں مشہور صحابی حضرت عقبہ بن عامررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبھی تھے ۔ حضور پاک کے وصال شریف کے بعد جب فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا اور مصر و شام اور روم و ایران پر اسلامی اقتدار کا پرچم لہرانے لگا تو بہت سے صحابہ حجازِ مقدّس سے مفتوحہ ممالک میں منتقل ہوگئے ۔ انہی لوگوں میں حضرت عقبہ بن عامر بھی تھے جو مصر گئے اور وہیں سکونت پذیر ہوگئے ۔
حضرت ابو ایوب انصاری کو شدہ شدہ کسی طرح یہ معلوم ہوگیا کہ یہ جو حدیث میں نے حضور پاک سے سنی ہے اس کے سننے والوں میں حضرت عقبہ بن عامر بھی ہیں۔ تو صرف اس بات کا جذبۂ اشتیاق کشاں کشاں انہیں مدینے سے مصر لے گیا کہ حضرت عقبہ بن عامر سے اس بات کی توثیق کرکے وہ یہ کہہ سکیں کہ اس حدیث کے دوراوی ہیں ایک میں ہوں دوسرے عقبہ بن عامر ہیں۔
ان کے اس والہانہ سفر کا حال بھی بڑا ہی رقت انگیز اور روح پرور ہے ۔ فرماتے ہیں کہ جذبۂ شوق کی ترنگ میں کہساروں ، وادیوں اور دریاؤں کو عبور کرتے ہوئے وہ مصر پہنچے ۔ کبر سنی کا عالم ، دشوار گزار سفر لیکن وارفتگی شوق کی بے خودی میں نہ بڑھاپے کا اضمحلال محسوس ہوا، نہ راستے کی دشواریاں حائل ہوئیں ۔ شب وروز چلتے رہے مہینوں کی مسافت طے کرکے جب مصر پہنچے تو سیدھے مصر کے گورنر حضرت مسلمہ بن مخلد انصاری کی رہائش گاہ پر نزولِ اجلال فرمایا۔ امیرِ مصر نے مراسمِ ملاقات کے بعد دریافت کیا:
’’‘مَاجَاء بِکَ یَا أَبَا أَیُّوْبَ؟ کس غرض سے تشریف لانا ہوا ابو ایوب ؟
جواب میں ارشاد فرمایا:
’’حَدِیْثٌ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لَمْ یَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غَیْرِیْ وَغَیْرُعُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ فَابْعَثْ مَنْ یَّدُلُّنِیْ عَلَی مَنْزِلِہِ‘‘۔ ([8])(معرفۃ علوم الحدیث)
رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے میں نے ایک حدیث سنی ہے اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ اس حدیثکے سننے والوں میں میرے اور عقبہ بن عامرکے سوا اب کوئی اس دنیا میں موجود نہیں ہے ۔ پس میرے ساتھ ایک ایسا آدمی لگادو جو مجھے ان کے گھر تک پہنچادے ۔
یعنی مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس میں اس لیے نہیں آیا ہوں کہ تم سے ملنا مقصود تھا بلکہ صرف اس لیے آیا ہوں کہ تم حضرت عقبہ بن عامر کے گھر تک میرے پہنچادینے کا انتظام کردو۔
ایک گدائے عشق کی ذراشانِ استغنا ملاحظہ فرمائیے کہ گورنر کے دروازے پر گئے ہیں لیکن ایک لفظ بھی اس کے حق میں نہیں فرماتے ۔ راوی کا بیان ہے کہ والئی مصر نے ایک جانکار آدمی ساتھ کردیا جو انہیں حضرت عقبہ بن عامر کے دولت کدے تک لے گیا۔ معانقہ کے بعد انہوں نے بھی پہلا سوال یہی کیا:
’’مَا جَاءَ بِکَ یَا أَبَا أَیُّوْبَ؟‘‘ کس غرض سے تشریف لانا ہوا ابو ایوب ؟
جواب میں فرمایا:حَدِیْثٌ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لَمْ یَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غَیْرِیْ وَغَیْرُکَ فِیْ سَتْرِالْمُؤْمِنِ قَالَ عُقْبَۃُ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ سَتَرَ مُؤْمِناً عَلَی خِزْیِۃٖ سَتَرَہٗ اللّٰہ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَقَالَ أَبُوْ أَیُّوبَ صَدَقْتَ۔
ایک حدیث میں نے رسول پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے سنی ہے اور اس کا سننے والا میرے اور آپ کے سوا اب کوئی دنیا میں موجود نہیں ہے اور وہ حدیث مومن کی پردہ پوشی کے بارے میں ہے ۔ حضرت عقبہ نے جواب دیا کہ ہاں حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے میں نے یہ حدیث سنی ہے کہ جو کسی رسوائی کی بات پر مومن کی پردہ پوشی کرتا ہے کل قیامت کے دناللّٰہتعالیٰ اس کی پر دہ پوشی فرمائے گا۔ حضر ت ابو ایوب نے فرمایا آپ نے سچ کہا یہی میں نے بھی سنا ہے ۔
اس کے بعد بیان کرتے ہیں:
’’ثُمَّ انْصَرَفَ أَبُوأَیُّوبَ إِلَی رَاحِلَتِہِ فَرَکِبَھَا رَا جِعاً إِلَی الْمَدِیْنَۃِ‘‘
اتنا سن کر حضرت ابوایوب اپنی سواری کے پاس آئے سوار ہوئے اور مدینہ کی طرف واپس لوٹ گئے ۔
گویا مصر کے دور دراز سفر کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ اپنے کان سے سنی ہو ئی بات دوسرے کی زبان سے سن لیں۔ حدیث دوست کی لذت شناسی کا یہی وہ جذبۂ شوق تھا جس نے مذہب اسلام کو مذہبِ عشق بنادیا ۔ حضرت امام حافظ نیشاپوری نے واقعہ کے خاتمہ پر رقت و گداز میں ڈوبا ہوا اپنا یہ تاثر سپردِ قلم کیا ہے ۔ لکھتے ہیں:
’’فَھَذَا أَبُوأَیُّوبَ الْاَنْصَارِی عَلَی تَقَدُّمِ صُحْبَتِہِ وَکَثْرَۃِ سَمَاعِہِ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رَحِلَ إِلَی صَحَابِیٍّ مِنْ أَقْرَانِہِ فِیْ حَدِیْثٍ وَاحِدٍ‘‘۔ ([9])
یہ ابو ایوب انصاری ہیں جو صحابیت میں اَقدم اور حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے کثیر الروایۃ ہونے کے باوجود صرف ایک حدیث کے لیے اپنے معاصر سے ملنے گئے اور دور دراز کا سفر کیا ۔ (معرفۃ علوم الحدیث)ایک اور دیوانۂ شوقاسی طرح ایک اور واقعہ حضرت جابر بن عبداللّٰہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے بارے میں امام نیشاپوری نے نقل کیا ہے ۔ بات یہاں سے چلی ہے کہ اپنے وقت کے ایک عظیم محدث حضرت عمرو بن ابی سلمہ، امام الحدیث حضرت امام اوزاعیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں چار سال رہے اور طویل عرصے میں انہوں نے صرف تیس حدیثیں ان سے سماعت فرمائیں ایک دن وہ حضرت امام اوزاعی سے بڑی حسرت کے ساتھ کہنے لگے :
’’أَنَا اَلْزَمُکَ مُنْذُ أَرْبَعَۃِ سَنَوَاتٍ وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْکَ إِلَّا ثَلاثِیْنَ حَدِیْثاً‘‘۔
آپ کی خدمت میں رہتے ہوئے مجھے چار سال ہوگئے لیکن اس طویل عرصے میںصرف تیس حدیثیں میں آپ سے حاصل کرسکا۔
امام اوزاعی نے جواب میں ارشاد فرمایا:
’’وَتَسْتَقِلُّ ثَلاَثِیْنَ حَدِیْثاً فِیْ أَرْبَعَۃِ سَنَوَاتٍ وَلَقَدْ سَارَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللّٰہ إِلَی مِصْرَ وَاشْتَرَی رَاحِلَۃً فَرَکِبَھَا حَتّی سَألَ عُقْبَۃَ بْن عَامِرٍ عَنْ حَدِیْثٍ وَاحِدٍ وَانْصَرَفَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ‘‘۔ ([10])(معرفۃ علوم الحدیث ص۹)
چار سال کی مدت میں تیس حدیثوں کا ذخیرہ تم کم سمجھ رہے ہو، حالانکہ حضرت جابر بن عبداللّٰہنے صرف ایک حدیث کے لیے مصر کا سفر کیا ، سواری خریدی اور اس پر سوار ہو کر مصر گئے اور حضرت عقبہ بن عامر سے ملاقات کرکے مدینہ واپس لوٹ گئے ۔
مطلب یہ ہے کہ چار سال کی مدت میں تیس احادیث کی سماعت کو بھی غنیمت جانو کہ ایک عظیم نعمت تمہیں کم سے کم مدت میں حاصل ہوگئی ورنہ عہد ِصحابہ میں تو صرف ایک حدیث کے لیے لوگ دور دراز ملکوں کا سفر کرتے تھے پس ایک حدیث پر دو مہینے کی مدت بھی اگر صرف ہوتی تو آپ حساب لگا لو کہ تیس حدیث کے لیے کتنی مدت چاہیے تھی۔ بلکہ حافظ نیشاپوری کی تصریح کے مطابق عہد ِصحابہ میں طلبِ حدیث کے لیے سفر اتنا لازم تھا کہ حضرت ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما فرمایا کرتے تھے :
’’لِطَالِبِ الْعِلْمِ یَتَّخِذُ نَعْلَیْنِ مِنْ حَدِیْدٍ‘‘۔ ([11])(معرفۃ علوم الحدیث ص۹)
طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے لوہے کے جوتے تیار کرائے ۔
تاکہ بغیر کسی زیر باری کے ساری عمر وہ طلبِ حدیث میں سفر کرتا رہے ۔
٭…٭…٭…٭سلسلۂ روایت کی تقویت کے اسبابعہدِ صحابہ میں سلسلۂ روایت کی تقویت کے لیے جہاں راویوں کی کثرتِ تعداد کو اہمیت دی جاتی تھی وہاںنقل و روایت کی صحت جانچنے اور اسے یقین کی حد تک پہنچانے کے لیے اور بھی طریقے رائج تھے ۔ مثال کے طور پر حضرت مولائے کائنات علی مرتضٰیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے بارے میں منقول ہے :
’’إِذَا فَاتَہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حَدِیْثٌ ثُمَّ سَمِعَہُ مِنْ غَیْرِہِ یُحَلِّفُ الْمُحَدِّثَ الَّذِی یُحَدِّثُ بِہِ‘‘ ۔ ([12])(معرفۃ علوم الحدیث ص۹)
جب ان کو کسی حدیث کی سماعت حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے فوت ہو جاتی تو دوسرے راوی سے حدیثکی سماعت فرماتے لیکن اس سے قسم لیا کرتے تھے ۔
یہ بیان کرنے کے بعد حضرت حافظ نیشاپوری تحر یرفرماتے ہیں:
’’وَکَذَلِکَ جَمَاعَۃٌ مِّنَ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِیْنَ وَاتْبَاعِ التَّابِعِیْنَ ثُمَّ عَنْ أَءِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ کَانُوْا یَبْحَثُوْنَ وَیَنْقُرُوْنَ عَنِ الْحَدِیْثِ إِلَی أَنْ یَّصِحَّ لَھُمْ‘‘۔ ([13])
یہی حال صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین اور ائمہ مسلمین کا تھا کہ وہ حدیث کے بارے میں بحث و کرید کیا کرتے تھے یہاں تک کہ ان کو حدیث کی صحت کا یقین ہوجاتا۔ (معرفۃ علوم الحدیث ص ۱۵)
ر وایتِ حدیث کا فن اپنی جس عظیم خصوصیت کے باعث سار ے جہان میں منفرد ہے وہ یہ ہے کہ کسی واقعہ کے نقل و روایت کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ نفسِ واقعہ بیان کردیا جائے بلکہ بیان واقعہ سے پہلے ناقل کے لیے یہ ظاہر کرنا ضروری ہے کہ اس واقعہ کا علم اسے کیونکرہوا۔ کتنے واسطوں سے وہ بات اس تک پہنچی ہے اور وہ کون لوگ ہیں ، ان کے نام و نشان کیا ہیں، اِن کی عمر کیا ہے ، وہ کہاں کے رہنے والے ہیں، دیانت، تقویٰ ، راست گفتار ی ، حسنِ اعتقاد ، قوتِ حافظہ ، عقل و فہم اور فکر و بصیرت کے اعتبار سے ان کے حالات کیا ہیں۔ ا سی کو اصطلاح ِ حدیث میں اسناد کہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اصحابِ حدیث کے یہاں اسناد اتنی ضروری چیز ہے کہ اس کے بغیر ان کے یہاں کوئی بات قابلِ اعتماد نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ حضرت حافظ نیشاپوری نے حضرت عبداللّٰہبن مبارکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا یہ قول نقل کیا ہے :’’أَلإِسْنَادُ مِنَ الدِّیْنِ وَلَوْلاَ الْإِسْنَادُ لَقَالَ مَنْ شَاء مَاشَاء‘‘۔ اسناد دین کا حصہ ہے اگر اسناد نہ ہوتی تو جس کے دل میں جو آتا کہتا۔
اسی ضمن میں حضرت حافظ نیشاپوری نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مر تبہ ابنِ ابو فروہ نامی کسی شخص نے حضرت امام زہریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے بغیر کسی اسناد کے حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ایک حدیث بیان کی اس پر امام زہری نے آزردہ ہو کر فرمایا:
’’قَاتَلَکَ اللّٰہ یَا ابْن أَبِی فَرْوَۃَ مَا أَجْرَأ کَ عَلَی اللّٰہ أَنْ لَا تُسْنِدَ حَدِیثکَ تُحَدِّثُنَا بِأَحَادِیْثَ لَیْسَ لَھَا خُطُمٌ وَلَا أَزِمَّۃٌ‘‘۔ ([14])(معرفۃ علوم الحدیث ص۶)
اے ابو فروہ !تجھ کواللّٰہتباہ کرے تجھ کو کس چیز نےاللّٰہپر جری کردیا ہے کہ تیری حدیث کی کوئی سند نہیں ہے تو ہم سے ایسی حدیثیں بیان کرتا ہے کہ جن کے لیے نہ نکیل ہیں نہ لگام۔اصول نقد حدیثاس سلسلے میں حاکم الحدیث حضرت امام نیشاپوری نے احادیث کی صحت کو پرکھنے کے لیے جو ضابطہ نقل فرمایا ہے وہ قابلِ مطالعہ ہے ۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ احادیث کو اغلاط کی آمیزش سے محفوظ رکھنے کے لیے کیسی کیسی منصوبہ بند تدبیریں عمل میں لائی گئی ہیں۔ فرماتے ہیں:
’’وَمَا یَحْتَاجُ طَالِبُ الْحَدِیْثِ فِیْ زَمَانِنَا ھَذَا أَنْ یَبْحَثَ عَنْ أَحْوَالِ الْمُحَدِّثِ أَوَّلاً ھَلْ یَعْتَقِدُ الشَّرِیْعَۃَ فِی التَّوْحِیْدِ وَھَلْ یُلْزِمُ نَفْسَہُ طَاعَۃَ الْأَنْبِیَاءِ وَالرُّسُلِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِمْ ثُمَّ یَتَا مَّلُ حَالَہُ ھَلْ صَاحِبُ ھَویً یَدْعُواالنَّاسَ إِلَی ھَواہ فَإِنَّ الدَّاعِیَ إِلَی الْبِدْعَۃِ لَا یُکْتَبُ عَنْہُ ثُمّ یَتَعرفُ سنّہ ھَل یَحْتَمِلُ سَمَاعَہُ مِنْ شُیُوخِہِ الَّذِینَ یُّحَدِّثُ عَنْھُمْ ثُمّ یَتَا مّل أَصُولَہ‘‘۔ ([15])(معرفۃ علوم الحدیث ص۱۶)
ہمارے زمانے میں ایک طالبِ حدیث کے لیے ضروری ہے کہ پہلے وہ محدث کے حالات کی تفتیش کرے کہ آیا وہ توحید کے بارے میں شر یعت کا معتقدہے ؟اور کیا انبیائے کرامعلیہم السلامکی اطاعت اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے ۔ پھر اس کی حالت پر غورکرے کہ وہ بدمذہب تو نہیں ہے کہ لوگوں کو اپنی بدمذہبی کی طرف دعوت دے رہا ہو۔ کیونکہ بدعت کی طرف بلانے والے سے کوئی حدیث نہیں لی جائے گی۔ پھر اس محدث کی عمر معلوم کرے کہ اس کی سماع ان مشائخ سے ممکن ہے کہ جن سے وہ حدیث بیان کررہا ہے پھر اس کے اصول پر غور کرے ۔تاریخ وتدوین حدیثفنِ حدیث کے محاسن و فضائل اور اس کے متعلقات اور موجبات پر قلم اٹھانے سے پہلے یہ بتادینا نہایت ضروری ہے کہ عہدِ صحابہ سے لے کر آج تک حدیثوں کی تدوین اور جمع و ترتیب کا کام کیونکر عمل میں آیا ؟
اس اجمال کی شرح یہ ہے کہ سر کارِ رسالت مآبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا عہد پر نور جو نزولِ قرآن کا زمانہ ہے ۔ اس عہد پاک میں چونکہ آیاتِ قرآنی کے تحفظ کا کام سب سے اہم تھا اس لیے حضور پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صحابۂ کرام کو تاکید فرمائی کہ وہ صرف آیات ِقرآنی کو قلمبند کیا کریں۔ احادیث کو قیدِ تحریر میں نہ لائیں تاکہ آیات ِ قرآنی کے ساتھ کسی طرح کا التباس نہ ہو۔ البتہ اس امر کی اجازت تھی کہ زبانی طور پر احادیث کی روایت و نقل میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ جیسا کہ حضرت امام مسلمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُحضرت ابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے ناقل ہیں۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’عَنْ أَبِیْ سَعِیْدِن الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالَی عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لَا تَکْتُبُوْا عَنِّی وَمَنْ کَتَبَ غَیْرَ الْقُرْآنِ فَلْیَمْحُہُ وَحَدِّثُوا عَنِّی وَلَا حَرَجَ وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّداً فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِن النَّارِ‘‘ ([16])(مسلم شریف)
حضرت ابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا کہ رسولِ کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمنے فرمایا کہ کوئی شخص میری حدیث نہ لکھے اور جس نے قرآن کے سوا کچھ لکھا ہو تو اس کو مٹا دے ۔ اور میر ی حدیثیں زبانی بیان کرے ۔ کوئی حرج نہیں اور جس نے میری طرف کوئی جھوٹ بات منسوب کی تو اس کو چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم بنائے ۔
لیکن اسی کے ساتھ بعض وہ صحابہ جنہیں اپنے اوپر اعتماد تھا کہ وہ قرآنی آیات کے ساتھ احادیث کو مخلوط نہیں ہونے دیں گے وہ اپنے طور پرحدیثوں کو بھی قلمبند کرلیا کرتے تھے ۔ جیسا کہ حضرت امام بخاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے نقل کیا ہے :عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَا بِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ أَکْثَر حَدِیْثاً عَنْہُ مِنِّی اِلاَّ مَاکَانَ مِنْ عَبْدِاللّٰہ بْنِ عَمْرٍو فَإِنَّہُ کَانَ یَکْتُبُ وَأَنَا لَا أَکْتُبُ‘‘۔ ([17])
حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ نبی کریمعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْمکے صحابہ میں کوئی مجھ سے زیادہ حدیث بیان کرنے والا نہیں تھا مگر عبداللّٰہبن عمرو۔ کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔ (بخاری )
جب کاغذ کے ٹکڑوں، ہرن کی جھلیوں ، کھجور کے پتوں اور الواحِ قلوب میں بکھری ہوئی قرآن مجید کی آیتیں عہدِ فاروقی سے لے کر عہدِ عثمان تک کتابی شکل میں ایک جگہ جمع کردی گئیں ا ور ساری دنیا میں اس کے نسخے پھیلا دیئے گئے اور احادیث کے ساتھ آیات ِ قرآنی کے التباس و اختلاط کا کوئی اندیشہ نہیں رہ گیا۔ تو حضرت عمر بن عبدالعزیزرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے زمانۂ خلافت میں ان کے ایما پر احادیث کی تدوین اور تصنیف و کتابت کا کام باضابطہ شروع ہوا۔
جیسا کہ حضرت امام سیوطیعلیہ الرحمۃکی ’’ الفیہ‘‘ کی شرح میں مقدمہ نویس نے لکھا ہے ۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:
’’فَلَمَّا أَفْضَتِ الْخِلَافَۃُ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالَی عَنْہُ فِی عَام۹۹تِسْعِ وَّ تِسْعِیْنَ مِنَ الْہِجْرَۃِکَتَبَ إِلَی أَبِی بَکرِ بْنِ حَزم وَھُوَ شَیْخُ مُعَمَّرٍوَاللَّیْثِ وَالْأَوْزَاعِی وَمَالِک وَابْنِ اِسْحٰق وَابْنِ أَبِی ذئبٍ وَھُوَ نَاءِبُ عُمَرِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ فِی الْقَضَاءِ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ یَقُوْلُ لَہُ أنْظُرْ مَا کَانَ مِنْ حَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فَاکْتُبْہُ فَإِنِّی خِفْتُ دُرُوْسَ الْعِلْمِ وَذَھَابَ الْعُلَمَاءِ‘‘۔ ([18])
۹۹ھ میں جب حضرت عمر بن عبدالعزیزرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو آپ نے ابوبکر بن حزم کو لکھا جو معمر، لیث ، اوزاعی ، مالک ، ابن اسحاق اور ابن ابوذئب کے شیخ تھے ۔ اور مدینۂ منورہ میں محکمہ قضا میں خلیفہ کے نائب تھے ان سے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ جو حدیث بھی حضور کی ملے اسے لکھ لو اس لیے کہ مجھ کو علم کے مٹنے اور علماء کے چلے جانے کا خوف ہے ۔ (مقدمہ شرح الفیہ ص ۵)
اتنا ہی نہیں بلکہ حضرت عمر بن عبدالعزیزرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے متعلق یہاں تک نقل کیا گیا ہے :
’’أَنَّہُ کَتَبَ إِلَی أَھْلِ الْأَفَاقِ اُنْظُرُوْا إِلَی حَدِیْثِ رَسُوْلِ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فَاجْمَعُوْہُ‘‘۔ ([19])
انہوں نے اطراف وجوانب میں لکھا کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی کوئی حدیث پاؤ توا سے جمع کرلو۔ (تاریخ اصفہان لابی النعیم)
حضرت عمر بن عبدالعزیزرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی تحریک پر فنِ حدیث میں سب سے پہلی کتاب حضرت ابن حزمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے تصنیف فرمائی۔ اس کے بعد حدیث کی کتابوں کی تصنیف و تالیف اور جمع و ترتیب کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا، مختلف شہروں میں مختلف بزرگوںنے حدیث میں بہت سی کتابیں تصنیف فرمائیں۔
صاحب ِ ’’شرح الفیہ‘‘ نے نہایت تفصیل کے ساتھ بقید مقام ان بزرگوں کے نام لکھے ہیں:
’’مِنْھُمْ ابْنُ جُرَیْج بِمَکَّۃَ وَابْنُ اِسْحَاق وَمَالِکٌ بِالْمَدِیْنَۃِ وَالرَّبِیْعُ بْن صبیحٍ وَسَعِیْدُ بْنُ عُرْوَۃَ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ بِالْبَصْرَۃِ وَسُفْیانُ الثَّوْریُّ بِالْکُوفَۃ وَالْأَوْزَاعِی بِالشَّامِ وَھِشَامٌ بِوَاسِط وَمَعمَر بِالْیَمَن وَجَرِیْرُ بْنُ عَبْدِاللّٰہ بِالری وَابْنُ الْمُبَارَ ک بِخُرَاسَان‘‘۔ ([20])
ان میں ابن جریح مکہ میں ابن اسحاق اور مالک مدینہ میں، ر بیع بن صبیح، سعید بن عروہ اور حماد بن سلمہ بصرہ میں ، سفیان ثوری کوفہ میں، اوزاعی شام میں، ہشام واسط میں معمر یمن میں، جریر بن عبداللّٰہرے میں اور ابن المبار ک خر اسان میں تھے ۔رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماجمعین (مقدمہ شرح الفیہ ص ۵)
اس کے بعد لکھتے ہیں:
’’کُلُّھُمْ فِی عَصْرٍ وَاحِدٍ وَمِنْ طَبقَۃٍ وَاحِدَۃٍ وَأَکْثَرُھُمْ مِنْ تَلامِذَۃِ أَبِی بَکر بْن حَزم وَابن شِہَاب الزّھری‘‘۔ ([21])(مقدمہ شرح الفیہ ص۹)
یہ سب کے سب ایک ہی زمانہ میں ایک ہی طبقہ کے تھے اور ان میں کے اکثر حضر ت ابوبکر بن حزم اور ابن شہاب زہری کے شاگرد تھے ۔
اس کے بعد تصنیف و تالیف اور مختلف حلقہائے در س کے ذر یعہ احادیث کی نشرو اشاعت کا سلسلہ آگے بڑھتا گیا، ر وایتوں کے قبول و رد کے اصول ، راویوں کے اوصاف وشرائط اور اس فن کے آداب و لوازم پر ضوابط ودساتیرکی تشکیل عمل میں آئی اور اصولِ حدیث کے نام سے علم و فکر کی دنیا میں ایک نئے فن کا آغاز ہوا۔ اصول وشرائط کے سخت سے سخت معیار پر احادیث کی نئی نئی کتابیں لکھی گئی یہاں تک کہ آج اس فن کی جملہ تصنیفات میں صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، جامع ترمذی، سنن ابوداؤد ، سنن ابن ماجہ اور سنن نسائی بہت مشہور اور متداول بین الناس ہیں۔
سطورِ بالا میں حدیث کی دینی ضرورت، اس کی علمی اور فنی ثقاہت اور اس کی تاریخی عظمت و انفرادیت پر کافی روشنی پڑچکی ہے ۔ جن پاک طینت مسلمانوں کو اسلام و قر آن عزیز ہے اور جو اپنے آپ کو اسی امت مسلمہ کا ایک فرد سمجھتے ہیں جو چودہ سو برس سے اپنی متوارث روایات اور مربوط دینی و فکری تہذیب کے ساتھ زندہ و تابندہ ہے تو انہیں حدیث پر اعتماد کرنے کے لیے کسی دلیل کی قطعاً ضرورت نہیں ہے ۔
البتہ جو لوگ کہ ازراہِ نفاق حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اپنی اس شقاوت کو چھپانے کے لیے قر آن کا نام لیتے ہیں۔ اگر مجھے وقت کی تنگی کا عذر نہ پیش آجاتا تو میں قابلِ وثوق شہادتوں کے ساتھ آفتابِ نیم روز کی طرح یہ ثابت کردکھاتا کہ ان کے یہاں حدیث کا انکار قرآن کی پیروی کے جذبے میں نہیں بلکہ قر آن کی پیروی سے بچنے کے لیے ہے ۔
حدیث کے انکار سے ان کا اصل مدعا یہ ہے کہ کلام خداوندی کے مفہوم کا یقین ان کی ذاتی صواب دید پر چھوڑ دیا جائے تاکہ آیات ِ الہٰی کا مفہوم مسخ کرکے بھی وہ قرآن کی پیروی کا دعویٰ کرسکیں۔ دعا ہے کہ مولیٰ تعالیٰ منکرینِ حدیث کے فتنے سے اہلِ ایمان کو محفوظ رکھے اور انہیں توفیق دے کہ وہ حدیث کی روشنی پھیلا کر عالم کا اندھیرا دور کریں۔وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَحِزْبِہٖ أَجْمَعِیْنَارشدالقادری(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ القَوِی)
مہتمم مدرسہ فیض العلوم ، جمشید پور ( بہار)۱۵ ر مضان المبارک ۱۳۹۱ ھ-----------------------------------
∞[1] ’’ظفر الأمانی فی مختصر الجرجانی‘‘،ص۳۱.[2] ’’ظفر الأمانی فی مختصر الجرجانی‘‘،ص۳۱ ،’’نزھۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر‘ ‘،ص۱۱۱.[3] ’’ظفر الأمانی فی مختصر الجرجانی‘‘،ص۳۱،’’نزھۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر‘ ‘،ص۱۱۳.[4] ’’نزھۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر‘‘،ص۱۰۶۔ ۱۱۴.
∞[5] ’’معرفۃ علوم الحدیث‘ ‘، ص۱۴.[6] ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘، ص۱۴.[7] ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘، ص۱۴.[8] ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘، ص۸.[9] ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘، ص ۸.[10] ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘، ص۹.[11] ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘، ص۹.[12] ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘، ص۹.[13] ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘، ص۱۵.[14] ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘، ص۶.[15] ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘، ص۱۶.[16] ’’صحیح مسلم‘‘،کتاب الزھدوالرقائق،الحدیث: ۷۲۔ (۳۰۰۴) ص۱۶۰۰.[17] ’’صحیح البخاری‘‘،کتاب العلم،باب کتابۃ العلم، الحدیث: ۱۱۳، ج۱، ص ۵۸.[18] ’’مقدمہ شرح الفیہ‘‘، ص۵.[19] ’’تدریب الراوی‘‘، ص ۵۰.[20] ’’مقدمہ شرح الفیہ‘‘، ص۵.[21] ’’مقدمہ شرح الفیہ‘‘، ص۹.