روشن ستارے

حضرت عَمْرو بن جَمُوح رضی اللہُ عنہ

* عدنان احمد عطاری

مدینہ اسلام کی نورانی کِرنوں سے منور ہوچکا تھا ، یہاں کی پاکیزہ فضائیں ایمان کی خوشبو دار ہوا سے معطر ہوچکی تھیں ایسے میں رحمتِ عالَم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے قبیلۂ بنو سلمہ سے پوچھا : تمہارا سردار کون ہے؟ انہوں نے عرض کی : جد بن قیس ، مگر ہم اسے بخیل پاتے ہیں ، سرکارِ دو جہاں  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : کون سی بیماری بخل سے بڑھ کر ہے ، بلکہ تمہارے سردار تو صاحبِ خیر صاحبِ عزت عَمْرو بن جَمُوح ہیں۔ [1]

زبانِ رسالت سے صاحبِ عزت و صاحبِ خیر کا لقب پانے والے ، بارگاہِ رسالت میں اونچا مقام پانے والے صحابیِ رسول حضرت عَمْرو بن جَمُوح کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ انصار میں سب سے آخر میں اسلام لائے تھے۔ [2] اللہ پاک کی رحمت سے جب آپ نے اسلام قبول کرلیا اور ربِّ کریم کی معرفت پالی تو گمراہی کے گڑھے سے خود کو بچائے جانے پر اللہ پاک کا شکر بجا لاتے ہوئے چند اشعار بھی کہے تھے۔ [3]

حلیہ و عادات : آپ طویلُ القامت تھے ، [4] اپنی داڑھی کو زَرد خِضاب سے رنگتے تھے ، [5] آپ کی ٹانگ میں شدید لَنگ تھا ، [6]

فضائل و مناقب : حضرت عمرو بن جموح  رضی اللہ عنہ  کا شمار بنو سلمہ کے معززین اور سرداروں میں ہوتا ہے[7] آپ بہت مالدار صحابی تھے۔ [8] ایک مرتبہ آپ  رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں حاضر ہوکر سوال کیا : میرا مال بہت زیادہ ہے ، میں کیا چیز صدقہ کروں اور کس پر صدقہ کروں؟ سوال کے جواب میں سُورۂ بَقَرَہ کی آیت215 نازل ہوئی ، تَرجمۂ کنز الایمان : تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لیے ہے اور جو بھلائی کرو بےشک اللہ اسے جانتا ہے۔ [9] ، [10]

2فرامینِ مصطفےٰ : (1)قسم اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!تم میں وہ لوگ بھی ہیں جو کسی بات پر اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ کریم اس قسم کو ضرور پورا کردے ، ان میں عمرو بن جموح بھی ہیں۔ [11] (2)عمرو بن جموح کیا خوب مَرد ہیں۔ [12]

شوقِ جہاد : آپ  رضی اللہ عنہ  کے شیر جیسے چار بہادر بیٹے تھے جو نبیِّ اکر م  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ہمراہی میں شرفِ جہاد سے فیض یاب ہوئے[13] جب 2 ہجری میں غزوۂ بدر کے لئے اعلان ہوا تو آپ نے جذبۂ جہاد سے سرشار ہوکر مجاہدین میں شامل ہونا چاہا لیکن آپ کی معذوری آڑے آگئی اور آپ کے بیٹوں نے رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے حکم سے آپ کو جہاد میں شریک ہونے سے روک دیا۔ پھر جب 3 ہجری میں معرکۂ احد کے لئے روانگی ہونے لگی تو آپ نے اپنے بیٹوں سے فرمایا : تم مجھے میدانِ اُحُد میں جانے سے مت روکو۔ بیٹوں نے کہا : بارگاہِ الٰہی میں آپ کا عذر مقبول ہے ، یہ سُن کر آپ نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی : یارسولَ اللہ! میرے بیٹے مجھے آپ کے ساتھ جہاد میں نکلنے سے روک رہے ہیں ، اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ اپنے اس لنگڑے پَن کے ساتھ جنّت میں چلوں گا۔ مصطفےٰ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمانِ لطیف ہوا : اللہ رحیم نے تمہارے عذر کو قبول کیا ، تم پر جہاد نہیں ، پھر آپ کے بیٹوں سے فرمایا : انہیں جہاد سے روکنا تم پر لازم نہیں ہے ، شاید اللہ کریم انہیں شہادت عطا فرما دے۔ [14] ایک روایت میں ہے کہ یوں عرض کی : یارسولَ اللہ! آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں راہِ خدا میں لڑوں یہاں تک کہ شہید ہوجاؤں تو کیا آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ میں جنّت میں اسی ٹانگ کے ساتھ چل رہا ہوں؟ ارشادِ محبوب ہوا : ہاں! [15]

میدانِ جنگ : حضرت سیّدُنا ابو طلحہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں : میدانِ اُحد میں مسلمان منتشر ہونے کے بعد واپس آئے تو پہلے آنے والوں میں حضرت عمرو بن جموح بھی تھے ، میں ان کی ٹانگ کے لَنگ کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ یہ کہہ رہے تھے : اللہ کی قسم! میں جنّت کا مشتاق (خواہش مند) ہوں ، پھر مجھے ان کے بیٹے حضرت خلاد اپنے والد کے پیچھے دوڑتے نظر آئے یہاں تک کہ دونوں نے شہادت کا بلند مرتبہ پالیا۔ اس جنگ میں آپ کی زوجہ کے بھائی حضرت عبداللہ بن عمرو بھی شہید ہوئے تھے۔ [16] غزوۂ اُحد 3 ہجری 15 شوّالُ المکرم بروز ہفتہ کو پیش آیا تھا۔ [17]

دُعا قبول ہوئی : اونٹ پر تینوں مقدس لاشیں رکھے جانے کے بعد حضرت عمرو بن جموح کی زوجہ حضرت ہند  رضی اللہ عنہا نے اونٹ کو مدینے کی طرف ہانکا تو وہ بیٹھ گیا ، اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جو بوجھ اس پر ہے اس کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ، زوجہ محترمہ حضرت ہند  رضی اللہ عنہا نے عرض کی : بعض اوقات اس پر دو اونٹ کا بوجھ لادا گیا تو اس نے ایسا نہیں کیا ، مجھے کچھ اور بات لگتی ہے ، زوجہ محترمہ نے دوبارہ اونٹ کو ہانکا تو وہ کھڑا ہوکر بیٹھ گیا ، پھر میدانِ احد کی جانب چلایا تو وہ تیزی سے چلنے لگا۔ زوجہ محترمہ حضرت ہند بارگاہِ رسالت میں عرض گزار ہوئیں تو ارشادِ مصطفےٰ ہوا : بے شک! اونٹ حکم کا پابند ہے ، کیا انہوں نے کچھ کہا تھا؟ عرض کی : جب عمرو بن جموح احد کی طرف جانے لگے تھے تو قبلہ رُو ہوکر یہ دعا کی تھی : اے اللہ! مجھے میرے اہل کی طرف واپس نہ لوٹانا اور مجھے شہادت سے سرفراز فرمانا ، ارشاد فرمایا : اسی وجہ سے اونٹ آگے نہیں بڑھ رہا۔ [18]

جو مانگنے کا طریقہ ہے اس طرح مانگو

درِ کریم سے بندے کو کیا نہیں ملتا

تدفین : خدا کی شانِ کریمی دیکھئے کہ حضرت عمرو بن جموح  رضی اللہ عنہ کی نہ صرف جہاد کی خواہش بلکہ تاجِ شہادت سر پر سجالینے کی تمنا بھی پوری فرمائی اور ساتھ ہی بڑی شان و عظمت والے میدانِ اُحُد کو ان کی آخری آرام گاہ بھی بنادیا۔ چنانچہ حبیبِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جانب سے فرمانِ ذیشان ہوا : شہیدوں کو ان کی شہادت گاہ پر واپس لے جاؤ۔ [19] پھر بارگاہِ رسالت سے حضرت عمرو بن جموح اور حضرت عبداللہ بن عمرو کو ایک قبر میں دفنانے کا حکم جاری ہوا۔ [20]

قبر کھولی گئی تو! 46 سال بعد میدانِ اُحد میں بعض شہدا کی قبروں میں نمی آگئی ، جب ان دونوں مقدس ہستیوں کی قبر کشائی ہوئی تو ان دونوں معزز ہستیوں پر دو چادریں تھیں جس سے ان کے منہ ڈھکے ہوئے تھے اور قدموں پر کچھ گھاس رکھی تھی اور ان دونوں مبارک ہستیوں کے جسم مبارک میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی یوں معلوم ہورہا تھا کہ کل وفات پائی ہے ایک قول کے مطابق حضرت عمرو بن جموح  رضی اللہ عنہ  کا ہاتھ زخم سے ہٹایا گیا تو ہاتھ زخم پر اسی طرح لوٹ آیا جیسے پہلے تھا۔ اور وہاں شہدا کی قبروں سے مشک کی خوشبوکی مثل لپٹیں آرہی تھیں۔ [21]

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* سینیئر استاذ مرکزی ، جامعۃالمدینہ فیضانِ مدینہ ، کراچی



[1] شعب الایمان ، 7 / 431

[2] اسد الغابہ ، 4 / 221

[3] روض الانف ، 2 / 278 ، دلائل النبوۃ لابی نعیم ، ص185ملخصاً

[4] طبقات ابن سعد ، 3 / 424

[5] شعب الایمان ، 5 / 214

[6] سیرت حلبیہ ، 2 / 328

[7] دلائل النبوۃ لابی نعیم ، ص185

[8] تفسیر نسفی ، پ2 ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : 214 ، ص111

[9] پ2 ، البقرۃ : 215

[10] الجامع لاحکام القران للقرطبی ، 2 / 29 ، پ2 ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : 215

[11] سبل الھدیٰ والرشاد ، 4 / 214

[12] مصنف ابن ابی شیبہ ، 17 / 37 ، رقم : 32607

[13] سیرت حلبیہ ، 2 / 328 ، سیر السلف الصالحین ، ص263

[14] سیر السلف الصالحین ، ص263 ، اسد الغابہ ، 4 / 221 ملخصاً

[15] سیر السلف الصالحین ، ص264

[16] مغازی للواقدی ، ص264 ، 265

[17] سیرت ابن ہشام ، ص340

[18] سبل الھدیٰ والرشاد ، 4 / 214 ، مغازی للواقدی ، ص 265 ملخصاً

[19] ترمذی ، 3 / 276 ، حدیث : 1723

[20] مغازی للواقدی ، ص 266 ملخصاً

[21] سیرت حلبیہ ، 2 / 339 ، 340 ،  فتح الباری ، 4 / 188 ، تحت حدیث : 1351 ملخصاً۔


Share