70قاریوں کی شہادت

روشن ستارے

70قاریوں کی شہادت

*مولانا عدنان احمد عطاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر2022ء

ماہِ صفر سن 4ہجری میں دو واقعات ایسے رُونما ہوئے جن میں متعدَّد صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم شہید ہوئے اور ان کی شہادت نے رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو شدید غمگین کردیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جتنا ناراض  ( صحابہ کو شہید کرنے والے )  ان کافروں پر ہوئے ، اتنا ناراض کسی اور پر ہوئے ہوں۔ نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک ماہ تک نماز  ( فجر )  میں ان کافروں کی ہلاکت کے لئے دعا کرتے رہے۔[1]  ان دونوں واقعات میں سے ایک کو واقعۂ رَجِیع جبکہ دوسرے کو بئرِ مَعُونہ کے نام سے یاد رکھا گیا ہے ، آئیے! واقعہ بئرِ معونہ کو پڑھئے۔

تعداد : واقعہ بئرِ معونہ میں موجود اَصحابِ رسول کی تعداد 70 تھی۔[2]  اس مقدس جماعت کے پاکیزہ افراد میں چار مہاجر اور بقیہ انصار صحابہ تھے۔[3]  چند کے نام یہ ہیں : حارِث بن صِمَّہ ، حَرام بن مِلحان ، عُرْوہ بن اَسماء سُلمی ، نافِع بن بُدَیْل ، عامر بن فُہَیرہجو حضرت ابو بکر صدیق کے آزاد کردہ غلام تھے   رضی اللہ عنہم ۔[4]

معمولات : جب شام کے سائے پھیلتے تو یہ مقدس حضرات مدینۂ پاک کے ایک جانب چلے آتے کثرت سے تلاوتِ قراٰنِ مجید میں مشغول اور نماز میں مصروف رہتے تھے بکثرت تلاوت کرنےکی وجہ سے انہیں قُرَّاء کہا گیا ہے۔[5]  یہ پاک لوگ راتوں کو قراٰن کی تلاوت کرتے اور قراٰن سیکھا کرتے تھے ، صبح ہوتی تو پانی لے کر آتے اور ( نمازیوں کے لئے )  مسجد میں رکھ دیتے ، لکڑیاں جمع کرکے انہیں بیچتے اور اس رقم سے اَصحابِ صُفَّہ اور فُقَرا کے لئے کھانا خرید لیتے تھے۔[6]

روانگی : ابو براء عامر بن مالک  ( جو کہ مشرک تھا ) ایک مرتبہ بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں حاضر ہوا اور دو گھوڑے اور دو اونٹ تحفے میں پیش کئے ، نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : میں مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا ، پھر نبیِّ رحمت نے اسے اسلام لانے کی دعوت دی تو اس نے نہ تو اسلام قبول کیا اور نہ اسلام کا انکار کیا ، کہنے لگا : میرا خیال ہے کہ آپ کا یہ طریقہ اچھا ہے ، میرے پیچھے میری پوری قوم ہے اگر آپ اپنے کچھ ساتھیوں کو میرے ساتھ بھیج دیں تو مجھے امید ہے کہ وہ آپ کی دعوت کو قبول کر لیں گے اور آپ کے طریقۂ کار پر چل پڑیں گے ، پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : مجھے اہلِ نجد کی جانب سے اپنے ساتھیوں کے لئے  ( نقصان کا )  اندیشہ ہے۔ مشرک عامر نے کہا : آپ ان کے نقصان کا اندیشہ نہ کیجئے میں اس بات کی پناہ دیتا ہوں کہ اہل نجد میں سے کوئی انہیں نقصان نہ پہنچائے گا۔[7]  چنانچہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت مُنذر بن عَمرو کی ہمراہی میں اپنے جلیلُ القدر صحابہ روانہ کردیئے ،[8] آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک خط بنو عامر اور نجد کے رئیسوں کے نام روانہ کیا اور راستہ کی راہ نمائی کے لئے مُطَّلِب سُلمی کو اس وفد کے ہمراہ کردیا۔[9]  یہ مقدس حضرات چلتے ہوئے مَعُونہ نامی کنویں کے پاس جا کر اُترے ، یہ کنواں بنو عامر اور بنو سلیم کے علاقے حرہ کے درمیان واقع ہے۔ جب سب وہاں اُتر گئے تو انہوں نے حَرام بن مِلحان کو پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مکتوبِ گرامی دے کر کافر سردار عامر بن طفیل کی طرف روانہ کیا۔[10]

حکمتِ عملی : حضرت حَرام بن مِلحان اپنے ساتھ دو ساتھیوں کو لے کر چل پڑے ان میں سے ایک کے پاؤں میں لنگڑاہٹ تھی ، آپ نے دونوں سے فرمایا : جب تک میں واپس لوٹ کر نہ آجاؤں تم دونوں مجھ سے قریب رہنا اگر ان لوگوں نے مجھے امان دے دی تو تمہیں بھی امان مل جائے گی ، اگر انہوں نے مجھے قتل کردیا تو تم دونوں بقیہ اصحاب کے پاس چلے جانا۔[11]  سیّدُنا حَرام بن مِلحان جب کافر عامر بن طفیل کے پاس پہنچے تو اس نے مکتوب گرامی کو پڑھنا بھی گوارا نہ کیا۔[12]

پہلی شہادت : بخاری شریف کی روایت کے مطابق حضرت حرام بن ملحان ان کافروں کو پیامِ اَقدس پہنچا کر ان لوگوں سے باتیں فرما رہے تھے کہ انہوں نے ایک شخص کو اشارہ کیا تو اس شخص نے پیچھے سے آکر کمرے کے کونے سے ایک نیزہ نکالا اور آپ کے پہلو میں گھونپ کر شہید کردیا ، نیزہ اس زور سے مارا تھا کہ دوسری جانب سے باہر نکل آیا ، آپ کے منہ سے یہ کلمات نکلے : اللہ اَکبر! ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا۔[13]  حضرت حرام بن مِلحان کے ایک ساتھی دیگر صحابہ تک پہنچنے نہ پائے تھے کہ مشرکین نے انہیں جالیا اور شہید کردیا اور وہ صحابی جن کے پاؤں میں لنگڑاہٹ تھی وہ ایک پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ گئےلہٰذا کافروں کے ہاتھ نہ آئے۔[14]  پھر  ( بقیہ صحابہ کو قتل کرنے کے ارادے سے )  عامر بن طفیل نے بنو عامر سے مدد مانگی مگر انہوں نے یہ کہہ کر مدد کرنے سے انکار کردیا کہ ابو براء نے انہیں امان دی ہے ہم اس کی امان ہرگز نہیں توڑیں گے پھر اس نے بنو سلیم کے قبیلہ رِعْل ، ذَکْوَان اور عُصَیّہ سے مدد مانگی تو ان قبائل نے اس کی مدد کرنے کی حامی بھرلی ، آخر کار یہ سب کفار جمع ہو کر نکلے اور صحابہ کی اس مختصر جماعت پر حملہ کردیا اور ان کے خیموں کا گھیراؤ کرلیا مسلمانوں نے جونہی ان کفار کو دیکھا تو اپنی تلواریں سونت لیں اور ان سے مقابلہ کیا یہاں تک کہ مَردانہ وار لڑتے ہوئے ہر مجاہد راہِ خدا میں ایک ایک کرکے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے لگا ،[15]  اس وفد کے تمام صحابہ نے شہادت کا جام نوش کیا لیکن سالارِ قافلہ حضرت مُنْذِر بن عَمرو رضی اللہ عنہ ابھی تک مقابلہ کررہے تھے ، کفار نے حضرت منذر سے کہا : اگر تم چاہو تو ہم تمہیں امن دے دیں گے مگر حضرت منذر نے ان کا امن قبول نہ کیا اور ان سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔[16]

آخری لمحات کی دعا : نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس واقعہ کی خبر یوں ارشاد فرمائی : مشرکین سے مقابلہ کرتے ہوئے تمہارے بھائی شہید ہوگئے ہیں ، انہوں نے شہید ہوتے ہوئے یہ دعا کی : اے ہمارے رب! ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم اﷲ پاک سے راضی ہوئے اور اﷲ پاک ہم سے راضی ہوا ، پھر حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : میں ان کاپیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں کہ وہ اللہ سے اور اﷲ ان سے راضی ہے۔[17]  حضرت عَمرو بن اُمیہ ضَمری اور حضرت مُنذر بن محمد بھی اس قافلے میں تھے اور قافلے والوں نے اپنی شہادت سے پہلے ان دونوں کو  ( قریبی علاقے میں )  اونٹ چَرانے کے لئے بھیج دیا تھا ،[18]  جبکہ ایک روایت کے مطابق تین اصحاب ایک گم شدہ اونٹنی کی تلاش میں نکلے تھے۔[19]  قافلے سے دور جانے والے ان حضرات کو اس بات کا علم بھی نہ ہو ا کہ اس مقدس جماعت پر کیا مصیبت ٹوٹ پڑی ہے جب دیکھا کہ آسمان پر بڑے پرندے چکر کاٹ رہے ہیں اور ان کی چونچوں سے خون کے قطرے گر رہے ہیں تو سمجھ گئے کہ ہمارے ساتھی شہید ہو چکے ہیں ،[20]پھر دونوں حضرات کچھ قریب آئے تو دیکھا کہ صحابۂ کرام کا یہ مختصر قافلہ خون میں ڈوبا ہوا ہے اور دشمن اپنے گھوڑوں پر وہاں موجود ہے ، انصاری صحابی مُنْذِر بن محمد نے حضرت عَمرو بن اُمیہ سے پوچھا : آپ اس معاملے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : ہمیں رسولِ کریم کو اس روح فرسا واقعہ کی خبر دینی چاہئے ، اس پر حضرت مُنذِر بن محمد نے کہا : اس جگہ مُنذِر بن عَمرو نے شہادت پائی ہے اور مجھے اس جگہ سے دور ہٹنا پسند نہیں۔[21] ایک روایت میں وہ انصاری صحابی حضرت حارث بن صِمَّہ تھے چنانچہ یہ دونوں سپاہی دشمنوں پر ٹوٹ پڑے حضرت حارث نے دو کافروں کو جہنم واصل کیا لیکن دشمنوں کی تعداد زیادہ تھی آخر کار دونوں جانباز سپاہی زندہ گرفتار ہوگئے ، کافروں نے حضرت حارث سے پوچھا : تم کیا چاہتے ہو کہ ہم تمہارے ساتھ کیسا سلوک کریں؟ حضرت حارث رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس طرح

حضرت مُنذِر اور حَرام بن مِلحان خون میں ڈوبے ہیں مجھے بھی اسی طرح خون میں نہلادو ، کفار نے آپ کو چھوڑا تو آپ پھر کفار پر ٹوٹ پڑے دو کافروں کو جہنم کی راہ دکھلائی اور لڑتے لڑتے خود بھی جامِ شہادت نوش کرگئے ، کفار نے تاک تاک کر آپ کے جسم پر نیزے مارنے شروع کردیئے ،[22]  پھر کافروں کے سردار نے قید ہونے والے دوسرے صحابی حضرت عَمرو بن اُمیہ سے پوچھا : کیا تم اپنے ساتھیوں کو پہچانتے ہو؟ آپ نے فرمایا : ہاں! سردار نے شُہَدا کے درمیان چکر لگایا اور آپ سے ایک ایک شہید کے باپ دادا کا نام معلوم کرنے لگا پھر آخر میں اس نے پوچھا : کیا ان میں کوئی تمہارا ساتھی غائب ہے؟ آپ نے جواب ارشاد فرمایا : حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام مجھے نظر نہیں آرہے ان کا نام عامر بن فُہَیرہ ہے ، اس نے پوچھا : تمہارے درمیان ان کا کیا مرتبہ تھا؟ آپ نے فرمایا : وہ ہم میں سب سے افضل تھے ، ان کا شمار ان حضرات میں ہوتا ہے جو ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر شروع شروع میں ایمان لے آئے تھے۔ سردار عامر بن طفیل نے بنو کلاب کے ایک شخص جبّار بن سُلمی کی جانب اشارہ کرکے کہا : اس نے تمہارے ایک ساتھی کو نیزہ مارا تھا پھر نیزہ جسم سے کھینچ کر نکالا تو تمہارا ساتھی آسمان کی طرف اٹھتا چلا گیا یہاں تک کہ نظروں سے اوجھل ہوگیا ، آپ نے یہ سُن کر فرمایا : وہ عامر بن فہیرہ ہیں۔[23]  کافر سردار نے کہا : میری والدہ پر ایک غلام آزاد کرنا تھا لہٰذا تم اس کی طرف سے آزاد ہو ، پھر اس نے آپ کے سر کے آگے کے بال کاٹ دئیے۔[24]حضرت عَمرو بن اُمیہ وہاں سے نکلے اور بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر پورا واقعہ بیان کردیا۔[25]

زندہ کون بچے : تفصیلی مطالعہ کرنے پر تین صحابہ کا ذکر ملتا ہے کہ وہ اس واقعہ میں زندہ بچ گئے تھے  ( 1 ) حضرت کَعب بن زید بدری جن کو کافروں نے مُردہ سمجھ کر چھوڑ دیا تھا حالانکہ آپ میں ابھی زندگی کی رَمَق باقی تھی بعد میں آپ کو شُہدا کے درمیان سے زخمی حالت میں اٹھاکر لایا گیا ، اللہ کریم کی رحمت سے آپ کو نئی زندگی ملی یہاں تک کہ غزوۂ خندق ماہِ ذُوالقعدہ سن 5 ہجری میں آپ نے تمغۂ شہادت پایا[26]   ( 2 ) حضرت عَمرو بن اُمیہ ضَمری بدری جنہوں نے بارگاہِ رسالت میں اس واقعہ کی خبر پہنچائی ، آپ نے طویل زندگی پاکر سن 55 ہجری مدینے میں وفات پائی[27]   ( 3 ) تیسرے وہ صحابی جو حضرت حَرام بن مِلحان کے ساتھ روانہ ہوئے تھے ان کے پاؤں میں لنگڑاہٹ تھی اور انہوں نے پہاڑ کی چوٹی پرجا کر اپنی جان بچائی۔ یاد رہے کہ حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کی شہادت ان کے قاتل حضرت جبار بن سلمی کے اسلام لانے کا سبب بن گئی تھی۔[28]

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*  سینیئر استاذ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ ، کراچی



[1] مرقاۃ المفاتیح ، 3/359 ، تحت حدیث : 1289

[2] روض الانف ، 3/379

[3] تاریخ الخمیس ، 1/452

[4] روض الانف ، 3/380

[5] مغازی للواقدی ، ص347 ، عمدۃ القاری ، 10/396 ، تحت الحدیث : 3064

[6] مسلم ، ص812 ، حدیث : 4917

[7] مغازی للواقدی ، ص346

[8] روض الانف ، 3/380

[9] تاریخ الخمیس ، 1/451

[10] روض الانف ، 3/379

[11] دلائل النبوۃ للبیہقی ، 3/346

[12] سیرت ابن ہشام ، ص 376

[13] بخاری ، 3/48 ، حدیث : 4091 ، تفسیر بغوی ، 1/292 ، ال عمرٰن ، تحت الآیۃ : 169

[14] عمدۃ القاری ، 12/130 ، تحت الحدیث : 4091 ، دلائل النبوۃ للبیہقی ، 3/347

[15] سیرت ابن ہشام ، ص376

[16] مغازی للواقدی ، ص : 348

[17] مسلم ، ص812 ، حدیث : 4917 ، مستدرک ، 2/133 ، حدیث : 2581

[18] سیرت ابن ہشام ، ص376

[19] تفسیر بغوی ، 2/15 ، المائدۃ ، پ6 ، تحت الآیۃ : 11

[20] تفسیر بغوی ، 2/15 ، المائدۃ ، پ6 ، تحت الآیۃ : 11

[21] سیرت ابن ہشام ، ص376

[22] تاریخ ابن عساکر ، 26/104 ، 103

[23] دلائل النبوۃ لابی نعیم ، ص306 ، دلائل النبوۃ للبیہقی ، 3/353

[24] تاریخ ابن عساکر ، 26/104

[25] سیرت ابن ہشام ، ص376ملخصاً

[26] روض الانف ، 3/381

[27] اعلام للزرکلی ، 5/73

[28] الاصابہ ، 1/559۔


Share