تذکرۂ سیّدنا طفیل بن عَمْرو دَوسی رضی اللہ تعالٰی عنہ

حضرت سیّدُنا  ذُوالنُّور  طُفیل بن عَمرودَوسیرضیَ اللہُ تعالٰی عنہُما یمن کے مشہورقبیلے’’دَوس‘‘کے سردار اور رئیس تھے۔فہم و فراست کے مالک اور اعلیٰ پائے کے شاعر تھے۔اسلام کیسے  قبول کیا؟:آپرضیَ اللہُ تعالٰی عنہاپنے قبولِ اسلام کا واقعہ خودبیان فرماتے ہیں کہ  شمعِ اسلام کے نور سے ابھی صرف مکّۂ مکرمہ  کی پہاڑیاں جگمگارہی تھیں کہ ایک دن میں کسی کام سے  مکّۂ مکرمہ آیا تو اہلِ قریش میرے پاس آئے اور رحمتِ عالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے: انہوں نے ہماری جماعت کو مُنتَشِر کردیا ہے،ان کی گفتگو سحر کی مانند ہے،اندازِ بیاں جادو کی مثل ہے جسے سننے کے بعد باپ بیٹے میں جدائی ہوجاتی ہے، بھائی بھائی سے دور ہو جاتا ہے، میاں بیوی ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں، جس مشکل سے ہم دوچار ہوچکے ہیں اُس سے اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو  بچاؤ،ان سے نہ کوئی بات کرنا اور نہ ان کی کوئی بات سننا۔ نور کے پیکر کانورانی کلام: آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:کفّارِمکّہ کی گفتگو سُن کر میں نےنبیِّ رحمت صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی بات نہ سننے کا  پکا ارادہ کرلیا چنانچہ جب بھی حرم ِکعبہ جاتا تو اپنے کانوں میں روئی رکھ لیتا تاکہ شفیعِ اُمّت صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی آوازمیرے کانوں میں داخل نہ ہونے پائے۔ ایک مرتبہ  کعبہ کے پاس پہنچا تونبیِّ کریم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نماز ادا کررہے تھے۔میں اور قریب ہوا تو ان کی دل کش آواز میرے دل کو اپنی طرف مائل کرنے لگی،میرے نہ چاہنے کے باوجود اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے ان کا کچھ کلام سناہی دیا۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ ان کا کلام تو واقعی بےحد حسین ہے، میں نے دل میں کہا:میں ذہین اور سمجھدار ہوں ، کسی کے کلام کی خوبیاں اور خامیاں مجھ سے چھپی نہیں رہ سکتیں،میں کفّارِ قریش کی بات کیوں مانوں اور اس حسین و جمیل، نور کے پیکر کا کلام کیوں نہ سنوں؟ اگر اچّھا ہوا تو قبول کرلوں گا ورنہ نظر انداز کر دوں گا۔ جب رسولِ مُکَرّم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم واپس ہوئے  تو میں بھی پیچھے پیچھے چلتا ہوا ان کے گھر تک پہنچ گیا  اور عرض گزار ہوا: میں اپنے کانوں میں روئی ڈال کر حرم ِکعبہ میں داخل ہواتھا تاکہ آپ کی آواز میرے کانوں میں نہ پڑے،مگر اللہعَزَّ وَجَلَّنے مجھے آپ کا کلام سنانے کا فیصلہ کررکھا تھا۔ میں نے آپ سے انتہائی حسین اور پاکیزہ کلام سنا ہے ۔ آپ وہی کلام مجھے پھر سنائیے اور بتائیے کہ آپ کس دین کی تعلیم ارشاد فرماتے ہیں؟ تاجدارِ رسالت صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے مجھےاسلام کی دعوت دی اورقراٰن پاک کی تلاوت کی،میں نے فوراً اسلام قبول کرلیا۔ پھر عرض کی: یارسول اللّٰہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم!میں اپنی قوم کا سردار ہوں ، واپس جاکر انہیں بھی دعوتِ اسلام دوں گا، تاکہ انہیں بھی ہدایت نصیب ہوجائے،آپ دعا کریں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے لئے کوئی ایسی نشانی ظاہر فرمادے۔ رسول اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے یوں دعا کی:اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لَّہٗ اٰیَۃً یعنی اے اللہ ! اس کے لئے کوئی نشانی قائم فرما دے ۔ نور چمکنے لگا: اس کے بعد میں اپنی قوم کی جانب چل دیا،  رات کے وقت گھر کے قریب پہاڑ پر پہنچا تو ایک نور میری آنکھوں کے درمیان چمکنے لگا، میں نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی:اے اللہ! اس نور کو میرے چہرے کے علاوہ کسی اور جگہ ظاہر فرمادےکہیں لوگ یہ نہ  سمجھ لیں کہ میرا چہرہ بگڑ گیا ہے۔ دعاکرتے ہی وہ نورمیرے چہرے سے چھڑی کے کنارے پر آگیا۔ (سیرۃ ابن ہشام،ص151 تا 152) اسی وجہ سےآپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کا لقب ’’ ذوالنُّور ‘‘ہے۔ (الاستیعاب،ج 2،ص312) آپ مزید فرماتے ہیں کہ میری قوم میری چھڑی کے نور کو اس طرح دیکھ رہی تھی جیسے فضا میں لٹکا ہو ا کوئی چراغ ہو۔  گھروالوں کو اسلام کی دولت نصیب ہوئی: صبح ہوئی تومیرے عمررسیدہ باپ نے  مجھ سے بات کرنا چاہی تو  میں نے کہا:میں مسلمان ہو چکا ہوں اوررسول اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّمکے دست ِاقدس پر اسلام قبول  کرچکا ہوں۔ انہوں نے کہا:اے لخت ِجگر! جو تیرا دین ہے اب میرا دین بھی وہی ہوگا۔میں نے انہیں اسلام کی پاکیزہ تعلیمات اور روشن اصولوں کے بارے میں بتایاتو انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ پھر میری بیوی بھی مسلمان ہوگئی۔ قوم کو اسلام کی دعوت: اس کے بعد میں نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت پیش کی تو اُس نے دعوتِ اسلام کو ٹھکرا دیا،یہ دیکھ کر میں بڑا دل برداشتہ ہوا اور جانِ عالَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوا:میری قوم سُدھرنے کا نام نہیں لے رہی لہٰذا آپ ان کے لئے ہلاکت کی دعا کردیں،لیکن سیّدِ دو عالَم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم نے ان کے لئے ہدایت کی دعا کی:یااللّٰہ!اہلِ دَوس کو ہدایت کی دولت عطا فرما۔ پھر مجھ سے فرمایا:اپنی قوم کی طرف لَوٹ جاؤ اور دینِ اسلام کا پیغام عام کرو اور ان کے ساتھ نرم رویّہ اختیار کرو۔ (سیرۃ ابن ہشام، ص152)میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!: حضرت طُفیل بن عَمرو دَوسی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُمانے پیارے آقاصلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے حکمت بھرے مدنی پھولوں پر عمل کرتے ہوئے دوبارہ اپنی قوم میں نیکی کی دعوت پیش کی تواپنوں اور بیگانوں کواس اندازسے متأثرکیا کہ وہ  ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسلام اور شاہِ خیرُالاَنام صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے شیدائی بن گئے۔ نیکی کی دعوت کی برکتیں:محرم الحرام 7 ہجری میں آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہاپنی قوم کے 70یا 80 گھرانوں کے ساتھ مدینہ شریف پہنچے لیکن پتا چلا  کہ پیارے آقاصلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم خیبر کے قلعہ کی جانب روانہ ہوچکے ہیں چنانچہ سب کو لے کر بارگاہِ رسالت صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم میں حاضر ہوئے اور شرفِ صحابیّت سے فیض یاب کروایا۔ یادرہے!اس قافلے میں حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ جیسی جلیلُ القدر ہستی بھی شامل تھی۔ اس کے بعد حضرت سیّدنا طُفیل بن عَمرو دَوسی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہُما نے  مدینۂ منوّرہ زاد ہَااللہ شرفاً وَّ تعظیماً  میں مستقل رہائش اختیار کرلی اور بعد میں آنے والی تمام جنگوں میں حصّہ لیا۔فتح ِ مکّہ کے بعد سن 8 ہجری میں آپ بارگاہِ رسالت صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم سے اجازت لے کر اپنے علاقے  ’’دَوس‘‘ تشریف لے گئے۔(طبقات ابن سعد،ج 1،ص265،ج 4،ص181 ملخصاً) کچھ دنوں کے بعداپنی قوم کے 400 سواروں کو لے کر غزوۂ طائف میں اسلامی فوج سے آن ملے۔ (سبل الہدیٰ والرشاد،ج 6،ص210) ایک خواب اور اس کی تعبیر: امیرُالمؤمنین حضرت سیّدنا ابوبکر صِدّیقرضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے دورِخلافت میں جب فتنۂ اِرْتِداد نے سراٹھایاتوآپ ان معرکوں میں بھی آگے آگے رہے اور دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے۔سن 12 ہجری ماہِ ربیع الاوّل میں جنگِ یمامہ میں شریک ہونے سے پہلے آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نے ایک خواب دیکھاپھر خود ہی اس کی تعبیر ارشاد فرمائی کہ میں اس جنگ میں پروانۂ شہادت لے کر اپنی منزلِ حقیقی کی جانب روانہ ہوجاؤں گا۔ اس کے بعد نئے حوصلہ اور اُمنگ کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے اورنبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذّاب کی فوجوں کو بکھیر کر رکھ دیا، آخرکار شہادت کا سہرا سر پر سجاکر شہداکی صف میں کھڑے ہوگئے۔(سیرۃ ابن ہشام،ص 153،تاریخ ابن عساکر،ج11،ص113ملخصاً)

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو، اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share