حضرت شدّاد بن اَوس رضی اللہُ عنہ

روشن ستارے

حضرت شَدّاد بن اَوس  رضی اللہ عنہ

*مولانا عدنان احمد عطاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ مارچ2023ء

 2 نوجوان مَرد حج کے ارادے سے نکلے ، راستے میں انہیں کچھ خیمے نظر آئے جن کے درمیان میں ایک اون کا بنا ہوا خیمہ تھا ، دونوں نے اس خیمے کے دروازےکے پاس پہنچ کر کہا : السلام علیکم ، اندر سے سلام کا جواب دیا گیا ، پھر ایک بزرگ باہر نکلے ، بزرگ کو دیکھ کر ان دونوں نوجوانوں پر ایسا رعب و دبدبہ طاری ہوا کہ کسی بادشاہ کو دیکھ کر بھی نہ ہوتا ، بزرگ نے پوچھا : تم دونوں کو کیا چاہئے ؟ دونوں نے جواب دیا : ہم بیتُ اللہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ، یہ سنتے ہی وہ بزرگ کہنے لگے : میرا دل بھی مجھ سے یہی بات کہہ رہا ہے ، اب میں اس سفر میں تمہارے ساتھ رہوں گا ، پھر ان بزرگ نے  آواز دی تو کسی خیمے سے ایک نوجوان باہر نکلا ، پھر اس نے سب کو جمع کیا ، اس کے بعد ان بزرگ نے خطبہ دیا اور کہا : مجھے اللہ پاک کے گھر کی یاد آرہی تھی اب مجھے زائرینِ کعبہ مل چکے ہیں ، یہ سنتے ہی لوگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے پھر ان بزرگ نے ستو منگواکر اس سے اپنے مہمانوں کی دعوت کی ، پھر ان کے ساتھ حج کے لئے تشریف لے گئے۔[1]

پیارے اسلامی بھائیو ! رعب و دبدبہ والے یہ مہمان نواز بزرگ عظیم صحابیِ رسول حضرت سیدنا شدَّاد بن اَوس رضی اللہ عنہ تھے۔

کنیت وفضائل آپ کی کنیت ابو یعلیٰ ہے[2] آپ مشہور صحابی حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں  [3] آپ کا شمار عالم صحابہ میں ہوتا ہےجبکہ بردباری کا عنصر طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔  [4]حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کریم کسی کو علم دیتا ہے مگر حلم نہیں دیتا اور کسی کو حلم دیتا ہے مگر علم نہیں دیتا ، لیکن حضرت شدّاد کا شمار ان میں ہوتا ہے جنہیں اللہ کریم نے علم اور حلم دونوں عطا فرمائے ہیں۔[5]

تقویٰ انصار صحابہ میں 3 حضرات کا زہد و تقویٰ بہت مشہور ہے ، حضرت ابو درداء ، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت شدّاد بن اَوس   رضی اللہ عنہم ۔[6] آپ کی زندگی کے ایام تقویٰ پرہیز گاری اور خوفِ خدا میں ڈوبے ہوئے نظر آتے ہیں ، آپ بہت زیادہ عبادت کیا کرتے تھے[7]جبکہ گفتگومیں بےحد محتاط رہتے اور زبان سے کوئی کلمہ فضول نہ نکلنے دیتے ، ایک مرتبہ سفر میں اپنے غلام سے فرمایا : توشہ دان لے کر آؤ ہم اس میں سے دو چیزوں کو ملاکر کچھ ( کھانا ) تیار کرتے ہیں ، ایک ساتھی نے کہا : میں جب سے آپ کے ساتھ ہوں آپ کے منہ سے کوئی فضول لفظ نہیں سنا اور میرا خیال ہے کہ آپ کی اس بات میں کچھ فضول لفظ ہیں ، آپ نے فرمایا : تم نے سچ کہا ، جب سے میں نے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بیعت کی ہے سوائے اس جملے کے سوچ سمجھ کر ہی زبان سے کلمات نکالے ہیں ، تم مجھ سے جدا نہ ہونا ، پھر آپ ذکرِ الٰہی میں مشغول ہوگئے۔[8]

شوقِ عبادت آپ جب اپنے بستر پر جاتے تو اس طرح کروٹیں بدلتے جیسے کڑاھی میں دانہ اُلٹ پُلٹ ہوتا ہے ، آخر کار یہ کہتے : اے اللہ ! جہنم کی یاد نے مجھ سے نیند روک دی ہے۔ پھراٹھ کر نماز پڑھنے لگتے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی۔[9]

اقوالِ مبارکہ آپ کے کلمات فصاحت و بلاغت اور حکمت سے بھر پور ہوتے تھے  [10] ایک مرتبہ فرمایا : مومن پر دنیا اور آخرت کا کوئی خوف موت سے بڑھ کر نہیں ، یہ خوف آروں سے چیرنے ، قینچیوں سے کاٹنے اور ہانڈیوں میں ابالنے سے بھی زیادہ سخت ہے ، اگر کوئی میت قبر سے نکل کر دنیا والوں کو موت کی سختیاں بتا دے تو وہ نہ زندگی سے نفع اٹھا سکیں گے اور نہ نیند سے لطف اٹھا پائیں گے۔[11]ایک بار دورانِ خطبہ یہ کلمات ادا کئے : اے لوگو ! دنیا ایک موجودہ سامان ہے اس سے نیک وبد سب کھاتے ہیں ، اور بےشک ! آخرت بعد میں آنے والی ہے ، اللہ قادر مطلق اس میں فیصلہ فرما دےگا ، ساری کی ساری بھلائی جنت میں ہے اور سارے کا سارا فساد جہنم میں ہے۔[12]ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک بیمار شخص کی عیادت کی تو اس سے پوچھا : دن کیسا گزرا ؟ اس نے کہا : نعمت میں گزرا ، آپ نے فرمایا : تجھے گناہوں کے کفّارے اور غلطیوں کے مٹائے جانے کی خوشخبری ہو۔[13]

دعا کرتے رہنا ایک بار کسی سے فرمایا : پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہم سے فرمایا : جب لوگ سونا چاندی جمع کر رہے ہوں تو تم ان کلمات کوجمع ( یعنی زبان پر بار بار ) رکھنا : اے اللہ ! میں تجھ سے دین پر ثابت قدمی اور ہدایت پر پختگی کا طلب گار ہوں ، شکرِ نعمت ، حسنِ عبادت ، قلبِ سلیم اور سچی زبان کا سوالی ہوں ، ہر اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جسے تو جانتا ہے ، ہر خیر کا طالب ہوں جو تیرے علم میں ہے ، ہر اس گناہ سے بخشش چاہتا ہوں جسے تو جانتا ہے ، بےشک تو غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔[14]

خصوصی توجہ ملی آپ فرماتے ہیں : ہم بارگاہِ نبوی میں حاضر تھے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : کیا تمہارے ساتھ کوئی اجنبی شخص ( یعنی اہلِ کتاب ) بھی ہے ؟ ہم نے عرض کی : نہیں ، پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دروازہ بند کرنے کا حکم دیا ، پھر فرمایا : اپنے ہاتھ اٹھا لواور لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہو ، ہم نے تھوڑی دیرتک ہاتھ اٹھا ئے تھے کہ پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے ہاتھ نیچے کئے اور اَلحمدُ لِلّٰہ کہہ کر بارگاہ ِ الٰہی میں دعا کی ، پھر ہم سے فرمایا : خوشخبری ہو ! اللہ کریم نے تمہاری مغفرت فرما دی ہے۔[15]

پیشوا بننے کی خبر ملی نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی وفاتِ ظاہری کے وقت حضرت شدّاد کھڑے ہوئے پھر بیٹھ گئے ، پھر کھڑے ہوئے اور بیٹھ گئے ، نبیِّ رحمت نے پوچھا : کس چیز نے تمہیں بےچین کیا ہے ؟ عرض کی : یارسولَ اللہ ! مجھ پر زمین تنگ ہوگئی ہے ، ارشاد فرمایا : غور سے سنو ! اللہ نے چاہا تو عنقریب شام اور بیت المقدس فتح ہوگا اورتم اور تمہاری اولاد وہاں قائد وپیشوا ہوگی ( زبانِ رسالت سے جو غیبی خبر ارشاد ہوئی تھی ویساہی ہو کر رہا )۔[16]حضرت سیدناعمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ کو ( شام کے شہر ) حمص کی گورنری کا اعزاز حاصل ہوا ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ ملکی معاملات سے علیحدہ ہوگئے اور عبادت و ریاضت میں مصروف ہوگئے۔[17] آپ کے 4 بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔[18]

وفات آپ نے فلسطین میں رہائش رکھی اور یہیں سن 58ھمیں 95 سال کی طویل عمر پاکر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔[19]قبر مبارک بیت المقدس میں ” بابُ الرحمہ “ کے باہر موجود ہے۔[20] بَوقت وفات آپ نے یہ وصیت کی : تم پر مجھے جن باتوں کا خوف ہے ان میں سب سے زیادہ خوف ریاکاری اور خفیہ شہوت کا ہے۔[21]

روایات آپ سے 50 احادیث مروی ہیں۔[22]

نعلینِ مبارکہ آپ کے پاس حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نعلین مبارکہ کا ایک جوڑا تھا جو آپ کےبعد آپ کے بیٹے محمد بن شدّاد کے پاس رہا ، 130 ھ میں حضرت شدّاد بن اَوس رضی اللہ عنہ کی بیٹی اپنے بھائی کے پاس آئیں اورکہا : آپ کی کوئی اولاد باقی نہ رہی اور میری اولاد باقی ہے اور یہ نعلینِ مبارکہ نہایت قابلِ احترام اور بابرکت ہیں ، میں چاہتی ہوں کہ اس کی برکتیں میری اولاد بھی پائے ، اس طرح ایک نعلِ مبارک حضرت شدّاد کی بیٹی کے پاس رہی پھر ان کی اولاد نے اس نعلِ مبارک کی برکتیں پائیں۔[23]

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* سینیئر استاذ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ ، کراچی



[1] سیر اعلام النبلاء ، 4/98

[2] الاعلام للزرکلی ، 3/158

[3] طبقات ابن سعد ، 7/281

[4] تہذیب الاسماء ، 1/231

[5] الاستیعاب ، 2/251

[6] سیر اعلام النبلاء ، 4/97

[7] تہذیب الاسماء ، 1/231

[8] موسوعہ ابن ابی الدنیا ، 7/248

[9] تاریخ ابن عساکر ، 22/415

[10] الاعلام للزرکلی ، 3/158

[11] احیاء العلوم ، 5/209

[12] سیر اعلام النبلاء ، 4/99

[13] التر غیب والترہیب ، 4/148 ، رقم 53ملخصاً

[14] ترمذی ، 5/259 ، حدیث : 3418- مصنف ابن ابی شیبہ ، 15/187 ، حدیث : 29971

[15] مسند احمد ، 6/78 ، حدیث : 17121

[16] فضائل بیت المقدس للمقدسی ، ص68

[17] الاعلام للزرکلی ، 3/158

[18] سیر اعلام النبلاء ، 4/96

[19] طبقات ابن سعد ، 7/281

[20] الاصابہ ، 3/259-تہذیب الاسماء ،  1/231

[21] الزہد لابن المبارک ، ص393

[22] تہذیب الاسماء ، 1/231

[23] سیر اعلام النبلاء ، 4/96ملخصاً


Share