روشن ستارے

حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ

*   عدنان احمد عطاری مدنی

ماہنامہ جمادی الاولیٰ 1442

ایک قدیم ُالاسلام عظیم صحابی  رضی اللہ عنہ  اپنے قبولِ اسلام کا واقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں : ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ مکہ سخت اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے نہ کوئی پہاڑ نظر آرہا ہے نہ ہموار جگہ یہاں تک کہ کسی مرد کو اپنی ہتھیلی بھی نظر نہیں آرہی پھر میں نے زَم زَم سے ایک نور نکلتے دیکھا جو چَراغ کی روشنی کی مثل تھا جیسے جیسے وہ نور بلند ہوا ، بڑا ہوتا اور پھیلتا گیا اس نور نے سب سے پہلے بَیتُ اللہ شریف کو منور کیا پھر وہ نور اور بڑا ہوتا گیا یہاں تک کہ میں نے پہاڑوں اور میدانوں کو بھی دیکھ لیا پھر وہ نور آسمان پر پھیل گیا اس کے بعد نیچے کی طرف آیا اور پورے مکے کو جگمگا دیا اس کے بعد نَجْد اور پھر مدینے کی طرف گیا اور وہاں کے نخلستانوں کو ایسا روشن کردیا کہ میں نے دَرَخْت کی کھجوریں بھی دیکھ لیں ، پھر میری آنکھ کھل گئی۔ پیارے حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اپنا خواب بیان کیا تو حبیبِ مُکَرَّم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم! میں وہی نور ہوں اور میں اللہ کا رسول ہوں ، یہ سُن کر میں حلقہ بگوشِ اسلام ہوگیا۔ ([i]) ایک روایت میں ہے کہ اسلام لانے کا سبب یہ تھا کہ خواب میں ان صحابی  رضی اللہ عنہ  کا کافر باپ انہیں آگ میں دھکیل رہا ہے جبکہ حبیبِ محترم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ان کو دونوں پہلوؤں سے پکڑ رکھا ہے کہ کہیں وہ آگ میں گِر نہ جائیں۔ ([ii])

پیارے اسلامی بھائیو! خواب کی بدولت دولتِ ایمان سے سرفراز ہونے والی یہ مُعزَّز و محترم اور عظیم ہستی حضرت سیّدُنا خالد بن سعید قُرَشی اُمَوی   رضی اللہ عنہ  کی ہے۔ ([iii]) دینِ اسلام کی خاطر تکالیف برداشت کیں : کافر باپ کو بیٹے کے قبولِ اسلام کا علم ہوا تو اس نے دینِ اسلام چھوڑنے کا کہا مگر آپ  رضی اللہ عنہ  نے انکار کردیا جس پر اس کافر نے آپ کو جھڑکا اور خوب ڈانٹا پھر اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی لاٹھی کو آپ  رضی اللہ عنہ  کے سَر پر مارنا شروع کردیا اور اس وقت تک مارتا رہا جب تک وہ ٹوٹ نہ گئی پھر کہنے لگا : میں تیری خوراک روک دوں گا ، اس پر آپ  رضی اللہ عنہ  نے کہا : اگر تُو نے خوراک روک بھی دی تَو (کیا ہوا؟) بے شک! اللہ مجھے رزق دیتا رہے گا جب تک میں زندہ ہوں۔ ([iv]) ایک روایت کے مطابق آپ نے یہ کلمات ادا کئے : میں دینِ محمد کو نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ اس دین پر ہی مروں گا([v]) پھر اس کافر باپ نے آپ کو قید میں ڈال دیا اور کسی سے ملنے نہ دیا ، نہ تو بھوک مٹانے کے لئے کھانا دیا اور نہ ہی پیاس بجھانے کے لئے پانی دیا ، مکہ کی گرمی میں تین دن تک آپ  رضی اللہ عنہ  نے پانی کا قطرہ بھی نہ چکھا اس حال میں بھی آپ صبر کرتے رہے۔ حَبَشہ کی جانب ہجرت : آخر کار موقع دیکھ کر وہاں سے بھاگ نکلے اور مکہ کے گِرد و نَواح میں چُھپ گئے کچھ مسلمانوں نے حبشہ کی جانب دوسری ہجرت کی تو آپ  رضی اللہ عنہ  نے بھی ان کے ساتھ حَبَشہ کی جانب ہجرت کرلی۔ ([vi]) مناقب و حلیہ : حضرت سیّدُنا خالد بن سعید  رضی اللہ عنہ  حسین و جمیل اور خوبرو تھے ، ([vii]) سابِقِین اَوّلِین میں سے تھے ، اسلام لانے والوں میں چوتھے یا پانچویں خوش نصیب تھے۔ ([viii]) آپ  رضی اللہ عنہ  بڑی شان و قدر والے اور مہاجرینِ حَبَشہ میں سے تھے ، ([ix]) آپ  رضی اللہ عنہ  مکے اور مدینے دونوں مقدّس جگہوں پر کاتبِ نبی کی سعادت سے بہرہ مند ہوتے رہے۔ ([x]) آپ وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھنے کی سعادت پائی۔ ([xi]) حضرت سیّدُنا ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  آپ کی بہت عزت کیا کرتے تھے۔ ([xii]) بارگاہِ حبیب میں حاضری : آپ  رضی اللہ عنہ  حبیبِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی عزت و تکریم کرتے تھے اور ساتھ ساتھ رہتے تھے ، آپ  رضی اللہ عنہ  نے مکہ کے گِرد و نَواح میں اللہ کے حبیب   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے ساتھ نماز ادا کی ہے کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپ  رضی اللہ عنہ  حبیبِ لبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے دروازہ مبارَکہ پر بیٹھ جاتے اور اجازت ملنے کا انتظار کرتے۔ انگوٹھی تحفے میں پیش کی : آپ  رضی اللہ عنہ  نے ایک انگوٹھی بارگاہِ محبوب میں تحفۃً پیش کی تھی اس پر مُحَمّدٌ رَّسُولُ اللہ کَندہ تھا وہ انگوٹھی مسلسل حبیبِ محتشم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے دستِ اقدس میں رہی پھر حضرت سیّدُنا صدیقِ اکبر  رضی اللہ عنہ  کے پاس سے ہوتی ہوئی حضرت سیّدُنا عمر فاروق اور حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی کے پاس پہنچی آخر کار حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ  سے اَرِیس نامی کنویں میں گرگئی۔ ([xiii]) بعدِ ہجرت خدماتِ جلیلہ : آپ  رضی اللہ عنہ  سر زمینِ حَبَشہ پر 10 سال یا اس سے بھی زیادہ کا عرصہ گزار کر  سِن 7 ہجری میں حبشہ سے واپس لوٹے اور جنگِ خیبر میں بارگاہ ِحبیب میں حاضر ہوئے([xiv]) آپ  رضی اللہ عنہ  عمرۂ قضا میں مدنی حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے ساتھ ساتھ تھے پھر  فتحِ مکہ ، جنگ ِحُنَین ، معرکۂ طائف اور غزوۂ تبوک میں شریک رہے۔ ([xv]) یمن پر عامل رہے : آپ  رضی اللہ عنہ  کو پیارے مکی مدنی حبیب  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے یمن کے علاقے صَنْعاء پر عامل مُقرّر  کیا  تھا۔ ([xvi]) جب آپ  رضی اللہ عنہ  کو روانہ فرمایا تو یہ نصیحت بھی ارشاد فرمائی : تم عرب کے جس  قبیلے کے پاس سے گزرو اور وہاں اذان سنو تو ان کے درپے نہ ہونا اور جہاں اذان نہ سنو تو انہیں اسلام کی دعوت پیش کرنا۔ ([xvii]) حبیبِ انور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی وفاتِ ظاہری تک آپ  رضی اللہ عنہ  یمن پر عامل رہے۔ ([xviii]) یمن سے واپس آکر حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کی بیعت کرنے کی سعادت پائی۔ ([xix]) سِن 13 ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  نے حضرت سیّدُنا خالد بن سعید  رضی اللہ عنہ  کو لشکرِ اسلام کا جھنڈا دیا اور انہیں ملکِ شام کے بالائی علاقوں کی طرف جہاد کرنے کا حکم فرمایا۔ ([xx]) واقعۂ شہادت : واقعۂ اَجنادِین حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کی وفات سے 24 دن قبل 13ہجری ماہِ جُمادَی الاُولیٰ میں رونما ہوا تھا ، ایک قول کے مطابق حضرت خالد بن سعید  رضی اللہ عنہ  کی شہادت اسی معرکہ میں ہوئی ، ([xxi]) اس جنگ میں آپ کے دونوں بھائی حضرت عَمْرو بن سعید اور حضرت ابان بن سعید   رضی اللہ عنہما  نے بھی شرفِ شہادت  پایا تھا([xxii]) بوقتِ شہادت حضرت خالد بن سعید  رضی اللہ عنہ  کی عمر مبارک تقریباً 50 سال تھی۔ ([xxiii]) بعدِ شہادت : آپ  رضی اللہ عنہ  کو جس شخص نے شہید کیا تھا بعد میں وہ مسلمان ہوگیا تھا اس کا بیان ہے کہ میں نے ان سے (بوقتِ شہادت) ایک نور دیکھا جو آسمان تک بلند ہوگیا تھا۔ ([xxiv])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*   مُدَرِّس مرکزی جامعۃالمدینہ ،  عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی



([i])تاریخ ابن عساکر ، 16 / 68ملخصاً

([ii])طبقات ابن سعد ، 4 / 71

([iii])سیراعلام النبلاء ، 3 / 163

([iv])طبقات ابن سعد ، 4 / 71

([v])طبقات ابن سعد ، 4 / 71

([vi])طبقات ابن سعد ، 4 / 71 ، الاعلام للزرکلی ، 2 / 296

([vii])سیراعلام النبلاء ، 3 / 163

([viii])جامع الاصول فی احادیث الرسول ، 12 / 475

([ix])سیر اعلام النبلاء ، 3 / 197

([x])الاعلام للزرکلی ، 2 / 296

([xi])سیر اعلام النبلاء ، 3 / 162

([xii])طبقات ابن سعد ، 4 / 73

([xiii])معرفۃ الصحابہ ، 2 / 191 ، طبقات ابن سعد ، 4 / 71

([xiv])سیر اعلام النبلاء ، 3 / 162 ، طبقات ابن سعد ، 4 / 72

([xv])اسد الغابہ ، 2 / 120

([xvi])سیر اعلام النبلاء ، 3 / 162

([xvii])معجم کبیر ، 4 / 194ملخصاً

([xviii])جامع الاصول فی احادیث الرسول ، 12 / 475

([xix])طبقات ابن سعد ، 4 / 73

([xx])الکامل فی التاریخ ، 2 / 208 ، 252

([xxi])اسد الغابہ ، 2 / 121 ، تاریخ ابن عساکر ، 16 / 66

([xxii])تاریخ ابن عساکر ، 16 / 84

([xxiii])جامع الاصول فی احادیث الرسول ، 12 / 476

([xxiv])سیراعلام النبلاء ، 3 / 163


Share