Book Name:Hazrat Salman Farsi Ki Duniya Se Be Raghbati
ہاتھوں کی انگلیاں اس پتھر کی دراڑ میں ڈال کر زور لگایا تو وہ پتھر نکل گیا اور اس کے نیچے سے نہایت صاف ، شفّاف میٹھے پانی کا چشمہ اُبَل پڑا۔ تمام لشکر نے پانی پیا۔
گرجا گھر کا راہب یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا ، چشمہ اُبلتا دیکھ کر وہ مولا مشکل کشا رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی خدمت میں حاضِر ہوا اور پوچھا : کیا آپ نبی ہیں؟ فرمایا : نہیں۔ پوچھا : آپ فرشتہ ہیں۔ فرمایا : نہیں۔ اس نے کہا : پھر آپ کون ہیں؟ فرمایا : میں اللہ پاک کے آخری نبی ، مُحَمَّد عربی صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا صحابی ہوں۔ اتنا سننا تھا کہ وہ راہِب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ حضرت مولا علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا : تم نے اتنی مدت تک اسلام کیوں قبول نہیں کیا تھا؟ بولا : ہماری کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ اس گرجا گھر کے قریب پانی کا ایک چشمہ پوشیدہ ہے ، اس چشمے کو وہی شخص ظاہِر کرے گا جو نبی ہو گا یا نبی کا صحابی۔ چنانچہ میں اور مجھ سے پہلے بہت سے راہِب اس گرجا گھر میں اسی انتظار میں ٹھہرے رہے ، آج آپ نے یہ چشمہ ظاہِر کر دیا تو میری مُراد پُوری ہوئی ، اس لئے میں نے دینِ اسلام قبول کر لیا۔ راہِب کا یہ بیان سُن کر شیرِ خدار رَضِیَ اللہُ عَنْہ اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تَر ہو گئی۔ پھر فرمایا : الحمد للہ! ان لوگوں کی کتابوں میں میرا ذِکْر ہے۔ ([1])
مرتَضٰی ، شیرِ خُدا ، مَرحَب کُشا ، خَیْبَر کُشا سَرْوَرا ، لشکر کُشَا ، مُشْکِل کُشا ، اِمداد کُنْ
وضاحت : اے مرتضیٰ! اے اللہ پاک کے شیر! اے مَرحَب (عرب کا نامور کافِر پہلوان ) کو پچھاڑنے والے! اے خیبر فتح کرنے والے! اے میرے سردار! اے تنِ تنہا دشمن کے لشکروں کو شکست دینے والے! اے مشکلات حل فرمانے والے! میری مدد فرمائیے!