Book Name:Milad Mananay Walo Kay Waqiyat

نُزول ہوتاہے۔ ([1])

     * سرکار کی آمد مرحبا * سردار کی آمد مرحبا  * آمنہ کے پھول کی آمد  مرحبا           * رسولِ مقبول کی آمد مرحبا* پیارے کی آمد مر حبا* اچھے کی آمد مرحبا*   سچے کی آمد مرحبا     * سوہنے کی آمد مرحبا * موہنے کی آمد  مرحبا * مُختار کی آمد مرحبا

مرحبا یا مصطفی                   مرحبا یا مصطفی         مرحبا یا مصطفی         مرحبا یا مصطفی

پیارے  اسلامی بھائیو!آئیے !اب ماہِ ربیع ُالاول میں  میلاد منانے والے عاشقان ِ رسول کے  نرالے انداز بھی سُنیے کہ  لوگ اپنے جذبَۂ عشق ومَحَبَّت میں سرشار ہوکر کیسے اہتمام کے ساتھ اس ماہِ میلاد کو مناتے آئے ہیں ۔ چنانچہ

بادشاہ کا شوق ِمِیلاد

اربل کے بادشاہ ابُوسعىد مظفر  رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ  ہرسال ربىعُ الاول مىں مىلاد شرىف بڑے اہتمام سے مناتے ، بہت بڑى محفل کا اِنْعقاد کرتے  ۔ ان مَحافل میں شرکت کرنے والے کا بیان ہے کہ  اس نے محفلِ مىلاد مىں بُھنى ہوئى بکرىوں کے پانچ ہزار سر دیکھے ، 10 ہزار مُرغیاں ، فرنى کے اىک لاکھ پیالے اور حلوے کے 30 ہزار طشت دىکھے ، بہت سے عُلما اور صُوفىامحفلِ مىلاد مىں شرکت کرتے تھے ، بادشاہ(ابُو سعىد مظفر  رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ )انہىں قیمتی لباس پہناتے ، انعامات سے نوازتے ، وہ ہر سال محفلِ مىلاد پر3 لاکھ دِىنار خرچ کرتے تھے ، مہمانوں کے لىے مہمان خانہ ہوتا تھا ، وہ ہر سال اس گھر مىں سالانہ اىک لاکھ دِىنار صَرف کرتے تھے ، 30 ہزار دِىنارخرچ کرکے حَرَمَىْن شَرِىْفَىْن کے راستے دُرُست کرواتے ، ىہ


 

 



[1]...ما ثبت بالسنۃِ صفحہ : 155ملتقطاً۔