Book Name:Ghous e Pak Ki Nasihatain

روشنی نہ لی ، غیر مسلموں کے طریقوں پر ہی چلتے رہے تو یاد رکھئے!

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے جہاں والو   تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                                           صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

 ( 3 ): زِندگی کو غنیمت جانو...!

10 شوال المکرم ، 545ہجری ، اتوار کا دِن تھا ، صبح کے وقت حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے اپنے مدرسے میں بیان فرمایا اور اس بیان کی ابتداء آپ نے ایک حدیثِ پاک سے کی ، فرمایا : اللہ پاک کے نبی ، رسولِ ہاشِمی صَلّی اللہ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے : مَنْ فُتِحَ لَہٗ بَابٌ مِّنْ خَیْرٍ جس کے لئے بھلائی کا دروازہ کھول دیا جائے ، فَلْیَنْتَہِزْہُ تو اسے چاہئے کہ لپک کر بھلائی کے اس دروازے میں داخِل ہو جائے فَاِنَّہٗ لَا یَدْرِیْ مَتیٰ یُغْلَقُ عَلَیْہِ کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ یہ دروازہ اس کے لئے کب بند کر دیا جائے گا۔ ( [1] )  

یہ حدیثِ پاک بیان کرنے کے بعد حُضُور غوثِ پاک ، شیخ عبد القادِر جیلانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا : اے لوگو...! لپک پڑو...! جب تک زِندگی کا دروازہ کھلا ہوا ہے ، اپنی سانسوں کو غنیمت جانو ، عنقریب یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا۔ جب تک تم میں طاقت و ہمت ہے ، نیک اَعْمال کو غنیمت جانو! جب تک توبہ کا دروازہ کھلا ہواہے ، اسے غنیمت جانو!   دُعا کا دروازہ کھلا ہوا ہے ، دُعا مانگنے کو غنیمت جانو! نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے کا دروازہ کھلا ہے ، اسے غنیمت جانو!

اے لوگو! تم نے جو نقصان کر لیا ، اسے پُوراکرو! جو  ( گناہوں کی نجاست )  دامن پرلگا


 

 



[1]...زُہد لابن مبارک ، صفحہ : 76 ، حدیث : 117  ۔