Book Name:Ahal Jannat-o-Ahal Jahannum Ka Mukalama

میری رحمت سے جنت میں لے جاؤ!

اس وقت ان کے منہ سے نکلے گا : “ الٰہی! میرے عمل سے۔ “ یعنی میں نے عمل ہی ایسے کئے ہیں کہ میں اپنے اعمال ہی کی وجہ سے جنت کا مستحق ہوں۔ حکمِ الٰہی ہو گا : اسے واپس لاؤ! میزان پر کھڑا کرو! اب اس کی 5 سو سال کی عبادات ایک پلڑے میں رکھی جائیں گی اور دُنیا میں 5 سَو سال تک اسے جو نعمتیں عطا ہوئیں ان میں سے صِرْف ایک نعمت “ آنکھ “ کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو صِرْف آنکھ کا وزن 5 سَو سال کی عبادات سے بڑھ جائے گا ، اب حکم ہو گا : میرے بندے کو میرے عدل سے جہنّم میں لے جاؤ!

اب وہ گھبرا کر عرض کریں گے : نہیں اے رَبّ! بلکہ تیری رحمت سے۔ ارشاد ہو گا : اِذْھَبُوْا بِعَبْدِی اِلٰی جَنَّتِیْ بِرَحْمَتِی میرے بندے کو میری رحمت سے جنّت میں لے جاؤ! ([1])

اللہُ اَکْبَر!اے عاشقانِ رسول! اپنی نمازوں پر ناز کرنے والوں کے لئے ، اپنے روزوں پر مان کرنے والوں کے لئے ، اپنے حج اور عمروں پر اترانے والوں کے لئے ، صدقہ وخیرات وغیرہ پر خود پسندی کا شکار ہونے والوں کے لئے ، اپنی عبادات کے پیشِ نظر دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے اورمعاذ اللہ! دوسروں کو طعنے دینے والوں کے لئے حدیثِ پاک میں بیان کی گئی اس سچی حکایت میں کیسی عبرت ہے! بَس! اللہ پاک ہم سے حساب نہ لے ، روزِ قیامت ہمارے اعمال کی جانچ پرکھ نہ کی جائے ، اگر خدانخواستہ ہمارے اعمال کا حساب لے لیا گیا تو سخت ندامت وشرمندگی کاسامنا ہو سکتا ہے ، لہٰذا ہمیشہ یہی دُعاکرنی چاہیئے کہ اللہ پاک بس اپنے کرم سے ، اپنی رحمت وفضل سے ، ہم گنہگاروں پر احسان کرتے ہوئے ، اپنے پیارے


 

 



[1]...مستدرک علی الصحیحین ، کتاب التوبۃ ، حکایۃ عابد ، جلد : 5 ، صفحہ : 356 ، حدیث : 7712 ۔