Book Name:Khuwaja Ghareeb Nawaz

دو چادروں کاتھا جس میں کئی جوڑ لگے ہوتے ، گویا لباس سے بھی سُنَّتِ مُصْطَفٰے سے بے پناہ مَحَبَّت کی جَھلک دکھائی دیتی تھی ، جوڑ لگانے میں بھی اس قدر سادگی اختیار کرتے کہ جس رنگ کا کپڑا مل جاتا اسی کو پہن لیتے۔ ([1])

راز نہ کھولتے

حضرت خواجہ قُطْبُ الدّین  بَـخْتْیار کاکِی  رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   اپنے پیرو مُرشد حضرت خواجہ غریب نواز    رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : میں کئی سال تک خواجہ غریب نواز   رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   کی خدمتِ اقدس میں حاضر رہا ، لیکن کبھی آپ کی زبانِ اقدس سے کسی کا راز ظاہر ہوتے نہیں  دیکھا ، آپ کبھی کسی مُسلمان کاراز نہ کھولتے ۔ ([2])

قاتل کو معاف فرما دیا

                             حضرت خواجہ غریب نواز   رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   بہت نرم طبیعت ہونے کے ساتھ ساتھ معافی سے کام لینے والے بزرگ تھے ، اگر کوئی آپ سے بُرا سلوک کر تا تب بھی آپ غُصّے میں نہ آتے بلکہ بولنے والے سے ایسااچھاسلوک (Behave)کرتے کہ یوں لگتا جیسے آپ نے اس کی باتیں سُنی ہی نہ ہوں۔ ایک بار آپ جب لاہور سے اجمیر شریف جاتے ہوئے دہلی میں رُکے ہوئے تھےتو ایک غیر مسلم شخص آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کو قتل کرنے کے ارادے سے آپ کے پاس آیا۔ آپ کو معلوم ہوگیا کہ اس کا کیا ارادہ ہے۔ پتہ چل جانے کے باوجود بھی آپ اس سے بڑی مَحَبَّت سے ملے اور اسے اپنے پاس بٹھا کر فرمایا : جس ارادے سے آئے ہو اسے پورا کرو۔ یہ بات سُن کر وہ شخص حیران ہوگیا۔ اُسی وقت آپ کے قدموں میں گِر گیا اور معافی کا طالب ہوا۔ حضر تخواجہ غریب نواز   رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   نے اسے معاف کر دیا۔ وہ شخص آپ کے مَحَبَّت بھرے انداز سے ایسا متأثر ہوا کہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔

                             حضرت خواجہ غریب نواز   رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ   نے اس کے لیے دعائے خیر بھی فرمائی۔ جس کا یہ اثر ہوا کہ اس نے پینتالیس (45)بار حج کی سعادت پائی اور آخری عمر میں خانَۂ کعبہ کے خادموں میں شامل ہوگیا۔

(حضرت خواجہ غریب نواز حیات وتعلیمات ، ص۴۰ملخصاً)

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                                           صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

اےخواجۂ اجمیر سے مَحَبَّت کا دم بھرنے والو! غور کیجئے! حضرت خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کیسےاچھےاخلاق کے مالک تھے۔ قتل کا ارادہ رکھنے والے کے ساتھ بھی انتہائی مَحَبَّت بھرا برتاؤ کیا۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم بُراسُلوک



[1]     مرآۃ الاسرار ، ص۵۹۵ملخصاً

[2]     حضرت خواجہ غریب نواز حیات وتعلیمات ، ص۴۱ملخصاً