غزوۂ خیبر

”خیبر“ ایک بڑے شہر کا نام ہے جو مدینۂ منوّرہ زاد ہَااللہ شرفاً وَّ تعظیماً سے (شمال مغرب میں) تقریباً169کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہ جگہ کھجور کے درختوں اور ہرے بھرے کھیتوں سے بھرپور تھی، یہاں بہت سے مضبوط قلعے بھی بنے ہوئے تھے۔ (سیرت حلبیہ،ج3،ص45) جنگ کا سبب: مدینے سے جِلا وطن کئے جانے والے یہودیوں نے خیبر کے یہودیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر کئی حملے کئے، طرح طرح سے سازشیں کیں جس کے نتیجے میں کئی یہودی مارے گئے، ان کے بڑے بڑے سردار قتل ہوئے لیکن یہودی اب بھی سکون سے نہیں بیٹھے بلکہ مدینۂ منورہ پر ایک اور حملے کا پلان بنانے لگے آخر کار قبیلۂ غَطْفان کو بھی اپنا ساتھ دینے پر راضی کرلیا۔(سیرت ابن ہشام،ج 2،ص281) ”غَطفان“ عرب کا ایک بہت ہی طاقتور اور جنگجُو قبیلہ(Tribe) تھا، لہٰذا ان دونوں کے ملنے سے زبردست فوج تیار ہوگئی۔ مسلمانوں کی پیش قدمی: پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 1600 صحابۂ کرام کی فوج لے کر خیبر کی طرف روانہ ہوئے اور غطفان ویہود کے درمیان وادیٔ رجیع میں قیام فرمایا تاکہ قبیلۂ غطفان والے، یہودیوں کی مدد کو نہ پہنچ سکیں۔(مواہب لدنیۃ،ج1،ص281-282 ملتقطا، دلائل النبوۃ للبیہقی،ج 4،ص197) یہودیوں کی جنگی تیاری: یہودیوں کے پاس تقریباً بیس ہزار فوج تھی۔ خیبر کے قلعوں میں سب سے مضبوط قلعہ ”قموص“ تھا، اس قلعے کا سردار مَرْحَب پہلوان تھا جو کہ عرب میں ایک ہزار سُواروں کے برابر مانا جاتا تھا۔ (سیرت مصطفی، ص383-384) قلعۂ ناعِم: سب سے پہلے قلعہ” ناعِم“ پر لڑائی ہوئی۔ اس لڑائی میں حضرت محمود بن مسلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ شہید ہوگئے، لیکن قلعہ آخرِ کار فتح ہوگیا۔(تفسیربغوی،ج 4،ص177) قلعۂ قَموص: خیبر کے دوسرے قلعے بھی آسانی سے فتح ہوئے لیکن قلعۂ قَموص میں بہت مشکل پیش آئی، ”مرحب“ پہلوان خود اس قلعہ کی حفاظت کے لئے موجود تھا، یہ قلعہ کئی دن تک فتح نہیں ہوسکا۔ علمِ غیبِ مصطفٰے: ایک دن پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”کل میں اس آدمی کو جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللّٰہ تعالٰی فتح دے گا، وہ اللّٰہ ورسول سے محبت کرتا ہے اور اللّٰہ ورسول اس سے محبت کرتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے یہ رات بڑی بے چینی میں گزاری کہ دیکھیں کل کس کو جھنڈا دیا جاتا ہے! صبح ہوئی تو پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ”علی کہاں ہیں؟“ لوگوں نے عرض کی: ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں بلوایا اور ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن لگا کر دعا فرمائی تو فوراً ہی انہیں ایسی شفا مل گئی گویا کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ پھر پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے دستِ مبارک سے انہیں جھنڈا عطا فرمایا اور قلعے کی طرف روانہ فرمایا۔ (بخاری،ج3،ص85، حدیث: 4210) شیرِ خدا کا حملہ: حضرت سیّدنا علی کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم کے مقابلے میں مرحب پہلوان تھا۔ دو حملوں کا ہی تبادلہ ہوا تھا کہ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم نے بڑھ کر اس زور سے وار کیا کہ تلوار مرحب کے سر کو کاٹتی ہوئی دانتوں تک اتر آئی اور اس وار کی گونج لشکر تک سنائی دی اور بالآخر شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجہَہُ الْکریم کے ہاتھوں قلعہ فتح ہوگیا۔ (سنن کبری للنسائی،ج5،ص109-110، حدیث:8403) یوں سن 7 ہجری محرم الحرام سے شروع ہونے والے اس معرکہ کا اختتام صفر  المظفر  میں ہوا۔(فتح الباری ،ج 8،ص395)

شہدائے خیبر: غزوۂ خیبر میں 93 یہودی مارے گئےجبکہ 15 مسلمانوں نے شہادت پائی جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

(1)حضرت سیِّدُنا رَبیعہ بن اَکْثَم (2)حضرت سیِّدُنا ثَقْف بن عَمرو بن سُمَیط(3)حضرت سیِّدُنا رِفاعہ بن مَسْروح (4) حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن ابو اُمَیّہ (5)حضرت سیِّدُنا محمود بن مَسْلَمَہ (6)حضرت سیِّدُنا ابو ضَیَّاح بن نعمان (7)حضرت سیِّدُنا حارِث بن حاطِب (8)حضرت سیِّدُنا عَدِی بن مُرّہ (9)حضرت سیِّدُنا اَوْس بن حبیب (10)حضرت سیِّدُنا اُنَیْف بن وائلہ (11)حضرت سیِّدُنا مسعود بن سَعْد (12)حضرت سیِّدُنا فضیل بن نعمان (13)حضرت سیِّدُنا عامِر بن اَکْوَع (14)حضرت سیِّدُنا عَمّارہ بن عُقْبہ (15)حضرت سیِّدُنا یَسار رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔(مغازی للواقدی،ج2،ص699)


Share