غار حرا کا تعارف

غارِحراکاتعارف غارِحرا مکۂ مکرمہ کا نہایت ہی مبارک، باعظمت اور مقدس تاریخی مقام ہے، عاشقانِ رسول نہ صرف اس کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے ہیں بلکہ اس کی خوب برکتیں بھی حاصل کرتے ہیں۔ اللہ  کے رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اِعلانِ نبوت سے قبل اِسی غارِحرا میں ذِکروفِکر اور عِبادت میں مشغول رہا کرتے تھے۔ (سیرت مصطفیٰ، ص595، عاشقان رسول کی 130 حکایات،ص241) غارِحراکوخاص کرنے کی وجہ امام احمد بن محمد قَسْطَلَّانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عبادت کرنے کے لئے غارِ حرا كو اس لئے خاص فرمایا کہ اس غار کو دیگر غاروں پر اضافی فضیلت حاصل ہے کیونکہ اس میں لوگوں سے دوری، دِل جمعی کے ساتھ عبادت اور بَیْتُ اللہ شریف کی زیارت ہوتی تھی، گویا غارِ حرا میں آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کیلئےتین عبادتیں جمع ہوگئیں: تنہائی، عبادت اور بَیْتُ اللہ کی زیارت جبکہ دیگر غاروں میں یہ تین باتیں نہیں۔ (مواہب اللدنیہ،ج1،ص107)غارِحراکی لمبائی، چوڑائی و مسافت غارِحراچار گز لمبا اور دو گز چوڑا ہے، یہ غارجبلِ حرا میں قبلہ رُخ واقع ہے،اسے جبلِ نور بھی کہتے ہیں، یہ پہاڑمکہ مکرمہ سے تقریباً تین میل کےفاصلے پر ہے۔ (ارشادالساری،ج 1،ص105، عاشقان رسول کی 130 حکایات، ص241) لیکن اب مکۂ مکرمہ اتنا وسیع ہوگیا ہے کہ اس کی حدود اس جبلِ نور کو چھونے لگی ہیں۔ پہلی وحی کا نزول سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  پر پہلی وَحی اِسی غار میں اُتری، جو کہ تیسویں پارے کی سورۂ علق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ (عاشقان رسول کی 130حکایات، ص241) غارِحراکی بارگاہِ رِسالت میں التجا کفارِمکّہ کا ظلم وستم جب حد سے بڑھ گیا تو حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے رب تعالیٰ کے حکم سے ہجرت فرمائی اس وقت غارِحرا نے التجا کی کہ یارسول اللہ! آپ میرے یہاں تشریف لے آئیے۔ (مکاشفۃ القلوب،ص57) واقعۂ شقِّ صدر غارِحرامیں حضرت جبریل و میکائیل عَلَیْہِمَا السَّلَام نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سینہ مبارکہ کو چاک کرکے اسے دھویااور پھر کہا:( اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ )(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اوراس میں حکمت یہ تھی کہ آپ وحی کو مضبوط دل کے ساتھ طہارت کے نہایت کامل احوال میں حاصل کریں۔ (مواہب اللدنیہ،ج1،ص108ملخصاً) غارِحراکی افضلیت ’’غارِ حرا‘‘ غارِ ثَور سے افضل اس لئے ہے کہ غارِ ثور نے تین دن تک سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قدم چومے جبکہ غارِ حرا سلطانِ دوجہاں صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی صحبتِ با بَرَکت سے زیادہ عرصہ مشرَّف ہوا۔(عاشقان رسول کی 130 حکایات، ص 242) غارِحرا وجبلِ حرا کے فضائل وخصوصیات امام عبداللہ  بن محمد قُرَشی مَرْجانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے درج ذیل فضائل اور خصوصیات بیان فرمائے ہیں:٭غارِ حراکی طرف آنے والا جب پہاڑ پر چڑھتا ہے تو یہ اپنی فضیلت کے باعث آنے والے کے غم کو دور کردیتا ہے۔ ٭ جب ربّ تعالیٰ نے کوہِ طُورپر تجلی فرمائی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور ان ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا جبل حراہے۔٭اس میں ظہر کے وقت دُعا کرنے والے کی دُعا قبول ہوتی ہے اور آواز دی جاتی ہے کہ جو شخص ہم سے دُعا کرتا ہے ہم اس کی دُعا قبول کرتے ہیں۔ ٭حرا میں نورِالٰہی کا مرکز قائم ہے اور اللہکی قسم! اس کے اوپر ٹھہرنا بہت پسندیدہ ہے (موا ہب اللدنیہ،ج 1،ص108ملتقطاً)

خوب چُومے ہیں قدم ثَور و حِرا نے شاہ کے

مہکے مہکے پیارے پیارے دونوں غاروں کو سلام

(وسائلِ بخشش، ص609)


Share