بھلا کریں، خون نہ نچوڑیں

تاجروں کے لئے

بَھلا کریں ، خون نہ نچوڑیں

 * مولانا سیّد عمران اختر عطّاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ اگست 2023

ایثار ، ہمدردی اور نفع رسانی  یعنی لوگوں کو فائدہ پہنچانا  وغیرہ اخلاقیات کی وہ اعلیٰ  صورتیں ہیں کہ  جن پر اسلام نے زور دیا ہے۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے لوگوں کو نفع پہنچانے اور دوسروں کا بھلا چاہنے کی ترغیب دلائی ہے ، چنانچہ فرمایا :  اَحَبُّ النَّاسِ اِلَى اللهِ تَعَالٰى اَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ یعنی لوگوں میں سے اللہ کے نزدیک پسندیدہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو نفع پہنچائیں۔  [1]

ایک اور  حدیثِ پاک میں ہے : اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُدین تو  خیرخواہی  ( یعنی دوسروں کا بھلا چاہنے کا نام )  ہے۔ “[2]

مگر افسوس ! آج کل اکثریت  ( Majority )  خرید و فروخت ، لین دین اور مالی معاملات میں اسلام کی ان خوبصورت تعلیمات پر توجہ نہیں دیتی ، ان معاملات میں بھلاچاہنے کی جگہ برا چاہنے اور فائدہ پہنچانے کے بجائے مصنوعی نفع خوری سے کام لیا جاتا ہے۔ جبکہ ہماری اسلامی تعلیمات اور ہمارے بزرگوں کا انداز یہ بالکل نہ تھا۔

قراٰن و حدیث میں اچھے ، دیندار اور اللہ کی یاد  میں مصروف رہنے والے  تاجروں کی تعریف کی گئی ہے اور ان کے مرتبے کو بیان کیا گیا ہے ، جیساکہ اللہ  پاک نے فرمایا :  ( رِجَالٌۙ-لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ  ) وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یاد ( سے ) ۔  [3]  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : ” سچے امانت دار تاجر “ نبیوں ، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوں گے۔[4] یہاں سچے اور امانت دار تاجروں سے مراد وہ ہیں جو  ( دیگر معاملات کے ساتھ )  خرید و فروخت کے احکام سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات میں بھی سچائی اور امانت داری کا دامن تھامے رہیں۔[5]

پہلے کے مسلمان اللہ ورسول کے ان ارشادات پر جی جان سے عمل کیا کرتے اور تجارت و روزگار   میں  ایک دوسرے کے فائدے  کا خیال رکھتے تھے۔  بیوپاری ( بیچنے والا )  خریدار کا اور خریدار بیوپاری کا خیال رکھتا تھا ، جیساکہ حضرت یونس بن عبید بصری رحمۃُ اللہ علیہ کا واقعہ ہے کہ ان کی دکان سے ایک شخص نے ان کےملازم سے اپنی مرضی سے ایک جُبّہ 400 درہم کا خریدا حالانکہ اس کی قیمت 200درہم تھی۔  حضرت یونس بن عبید بصری رحمۃُ اللہ علیہ  کومعلوم ہوا  تو انہوں نے  200 درہم اسے واپس دلوا دئیے۔[6]

یہ تو خریدار کا خیال رکھنے کے بارے میں تاجر کا واقعہ تھا اسی طرح خریدا ربھی بیچنے والے کا بہت  خیال رکھتے تھے ، چنانچہ  ایک واقعہ ہے کہ  حضرت جریر رضی اللہ عنہ کا غلام ان کے کہنے پر ایک گھوڑے کا سودا تین سو درہم میں طے کرکے گھوڑے اور مالک کو ان کے پاس لایا تاکہ وہ رقم ادا کردیں حضرت جریر نے گھوڑا دیکھ کر مالک سے کہا :  تمہارا گھوڑا تین سو درہم سے تو بہت بہتر ہے ، کیا تم چارسو درہم میں فروخت کرو گے ؟ اس نے کہا : جیسے آپ کی مرضی ، پھر آپ بار بار یہی بات کرتے  ہوئے سو ، سو درہم بڑھا کر اسے گھوڑا بیچنے کی آفر  کرتے رہے ،  بالآخر آپ نے تین سو کے بجائے آٹھ سو درہم دے کر گھوڑا خرید لیا۔ جب لوگوں نے  آپ کے اس عمل کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا : بے شک میں نے تمام مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی کرنےپر رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بیعت کی ہے۔[7]

بدقسمتی سے آج کے مسلمان ان خوبصورت جذبوں سے محروم ہوتے جارہے ہیں ، گاہک اور تاجر میں سے ہر ایک نفع خوری کے جذبات لئے ہوئے نظر آتا ہے ، ہر ایک کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح مجھے فائدہ ہوجائے اگرچہ سامنے والے کو نقصان ہوجائے۔نفع خوری کی سوچ ذہن میں ایسی رَچ بَس گئی ہے کہ اس کے لئے  سود ، رشوت ، ملاوٹ ، ناپ تول اور اعداد و شمار کی ہیرا پھیری ، چرب زبانی ، دھوکا دہی ، بازاروں میں اشیاء کی نقلی و مصنوعی قلت  اور طرح طرح کے نت نئے طریقے  اختیار کئے جاتے ہیں۔ ایک تعداد تو ایسے  تاجروں کی بھی ہے کہ جو زلزلہ ،  سیلاب یا دیگر طوفانی اور آفات کے حالات میں ٹینٹ اور دیگر ضرورت کی چیزیں بہت مہنگی کردیتے ہیں۔ بعض دفعہ تو لگتا ہے کہ یہ لوگ زلزلہ و سیلاب وغیرہ کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ  کب لوگوں کی ضرورت بڑھے اور یہ تاجر لوگ اپنی چیز وں کی  منہ مانگی  قیمت وصول کریں۔ وبائی امراض  ( Epidemics )  میں اس وبا سے متعلق حفاظتی چیزوں بلکہ دواؤں تک کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے ، یونہی بقر عید کے موقع پر قربانی کے جانوروں   اور رمضان میں افطار کے لئے پھلوں کی قیمتیں بھی گویا آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔

اس کے چند برے اثرات یہ ہیں کہ * معاشرے میں بےحسی بڑھ رہی ہے * ہمددری کا خاتمہ ہورہا ہے * لوگوں کی مجبوریوں سے کھیلا جارہا ہے * اسلامی بھائی چارا ختم ہو رہا ہے * سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی معاشرے میں اس قسم کے بےحس لوگوں کا اضافہ ہورہا ہے۔

یقیناً اگر ہم اسلام کی تعلیمات پر خود بھی عمل کریں اور اسے دوسرے مسلمانوں تک پہنچاکر انہیں بھی ان پر عمل کی ترغیب دیں تو ہمارے معاشرے میں امن و سکون ، بھائی چارے ، اتحاد و محبت اور بہتر معیشت  کے حسین نظارے دیکھنے کو ملیں گے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 * فارغ التحصیل جامعۃُ المدینہ ، ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



[1] معجم کبیر ، 12 / 346 ، حدیث : 13646

[2] مسلم ، ص 51 ، حدیث : 196

[3] پ 18 ، النور : 37

[4] ترمذی ، 3 / 5 ، حدیث : 1213

[5] تیسیرللمناوی ، 1 / 459

[6] احیاء العلوم ، 2 / 102

[7] الکواکب الدراری ، 1 / 219 ، تحت الحدیث : 58


Share

Articles

Comments


Security Code