حضرت سیدنا شعیب علیہ السّلام  (چوتھی اور آخری قسط)

انبیائےکرام کے واقعات

حضرت سیدناشعیب علیہ السّلام (چوتھی اور آخری قسط)

*مولانا ابوعبید عطاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2024ء

حضرت موسیٰ حضرت شعیب کے گھر میں تشریف لائے: حضرت شعیب علیہ السَّلام ضعیف ہوچکے تھے لہٰذا آپ کی بیٹیاں بکریوں کو چَرانے خود جایا کرتی تھیں اور واپسی میں ایک کنویں کے پاس آتیں، کنویں کے پاس جب تک مرد رہتے قریب نہ جاتیں، وہ لوگ کنویں سے پانی نکالتے پھر ایک حوض میں ڈالتے اور جانوروں کو پلادیتے تھے، جب وہ لوگ چلے جاتے تو حضرت شعیب علیہ السَّلام کی بیٹیاں آگے بڑھتیں، چونکہ ان میں کنویں سے پانی کھینچنے کی طاقت نہ تھی لہٰذا اپنی بکریوں کو حوض کا بچا کُھچاپانی پلادیتی تھیں، حضرت موسیٰ علیہ السَّلام جب مصر سے مدین تشریف لائے تو کنویں کے قریب ان دونوں کو الگ تھلگ کھڑے دیکھا، وجہ پوچھنے پر حضرت موسیٰ  علیہ السَّلام نے قریب ہی ایک دوسرے کنویں سے بہت بھاری پتھر ہٹایا اور اس میں سے پانی نکال کر ان دونوں کی بکریوں کو سیراب کردیا جب یہ دونوں جلدی گھر پہنچیں اور حضرت شعیب نے جلدی آنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے ساری بات بتادی،آپ علیہ السَّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کو گھر لانے کا ارشاد فرمایا چنانچہ ایک بیٹی صاحبہ گئیں اور حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کو گھر لے آئیں۔([1])

حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے حضرت شعیب کے ساتھ کھانا کھایا:  حضرت موسیٰ علیہ السَّلام ابھی تک منصبِ نبوت و رسالت سے سرفراز نہ ہوئے تھے، جب حضرت شعیب علیہ السَّلام کے پاس پہنچے تو کھانا حاضر تھا، حضرت شعیب نے کہا: بیٹھئے کھانا کھائیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السَّلام  نے ان کی یہ بات منظور نہ کی اور کہا: میں الله تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں۔ حضرت شعیب علیہ السَّلام نے کہا: کھانا نہ کھانے کی کیا وجہ ہے، کیا آپ کو بھوک نہیں ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے کہا: مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ کھانا میرے اُس عمل کا بدلہ نہ ہو جائے جو میں نے آپ کے جانوروں کو پانی پلا کر انجام دیا ہے، کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں کہ نیک عمل پر بدلہ لینا قبول نہیں کرتے۔ حضرت شعیب علیہ السَّلام نے کہا: اے جوان! ایسا نہیں ہے، یہ کھانا آپ کے عمل کے بدلےمیں نہیں بلکہ میری اور میرے آباؤ واَجداد کی عادت ہے کہ ہم مہمان نوازی کرتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہیں۔ یہ سُن کر حضرت موسیٰ علیہ السَّلام  بیٹھ گئے اور حضرت شعیب کے ساتھ کھانا تناول فرمایا۔([2])

حضرت شعیب علیہ السَّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کو اپنے یہاں ٹھہرالیا:  حضرت شعیب علیہ السَّلام کو ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو بکریوں کی صحیح دیکھ بھال کرسکے، لیکن آپ کا دل کسی سے مطمئن نہیں ہوتا تھا، جب آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کو دیکھا اور اپنی بیٹیوں سے سنا کہ حضرت موسیٰ علیہ السَّلام امانت دار اور طاقت وَر بھی ہیں،([3]) تو آپ نے حضرت موسیٰ سےکہا:میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ اس مہر پرتمہارا نکاح کردوں کہ تم آٹھ سال تک میری ملازمت کرو پھر اگر تم دس سال پورے کردو تو یہ اضافہ تمہاری طرف سے مہربانی ہو گی اور تم پر واجب نہ ہو گا اور میں تم پر کوئی اضافی مشقت نہیں ڈالنا چاہتا۔ اِنْ شَآءَ الله عنقریب تم مجھے نیکوں میں سے پاؤ گے تو میری طرف سے معاملے میں اچھائی اور عہد کو پورا کرنا ہی ہو گا۔([4])

حضرت شعیب علیہ السَّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کو عصا مبارک دیا: جب معاہدہ ہوگیا تو آپ نے اپنی بیٹی سے فرمایا: ایک عصا لے آؤ، تاکہ میں انہیں دے دوں کہ اس سے کاموں میں مدد رہے گی، بیٹی صاحبہ ایک عصا لے آئیں، یہ عصا وہی تھا جو حضرت آدم علیہ السَّلام اپنے ساتھ جنت سے لائے تھے اور اب حضرت شعیب علیہ السَّلام کے پا س امانتاً رکھاہوا تھا، آپ نے وہ بابرکت عصا واپس لوٹادیااور حکم دیا: دوسرا لے آؤ، بیٹی صاحبہ اندر گئیں اور جس دوسرے عصا کو اٹھاتیں تو وہ ہاتھ سے گر جاتا، آخر کار وہی جنتی عصا لے کر والد صاحب حضرت شعیب کے پاس گئیں، حضرت شعیب نے پھر لوٹا دیا، ایسا کئی بار ہوا اور آخرکار حضرت شعیب نے وہی عصا حضرت موسیٰ کو دے دیا۔([5])

عصا اچھل کر حضرت موسیٰ کے پاس آجاتا: ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: حضرت شعیب علیہ السَّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السَّلام سے کہا: اندر جائیے اور کوئی سا ایک عصا لے لیجئے تاکہ اس سے درندوں کو دور بھگاسکیں اور بکریوں کے کھانے کےلئے درختوں سے پتے جھاڑ سکیں، حضرت موسیٰ اندر گئے اور ایک عصا لیا اور باہر آگئے، حضرت شعیب نے عصا دیکھا تو کہا : اسے واپس رکھ دیجئے اور دوسرا اٹھالیجئے، حضرت موسیٰ اندر تشریف لےگئے اور اسے رکھ دیا اور دوسرا تھامنے آگے بڑھے تو وہی عصا اچھل کر آپ کے ہاتھ میں آگیا،آپ نے بار بار اسے رکھا اور دوسرے کو اٹھانا چاہا مگر ہر بار وہ اچھل کر آپ کےہاتھ میں آجاتا، آخر کار وہی عصا لے کر باہر تشریف لائے، حضرت شعیب نے وہی عصا ہاتھ میں دیکھاتو کہا: کیا میں نے دوسرا عصا لینےکا نہیں کہا تھا؟ حضرت موسیٰ نے سارا ماجرہ بیان کردیا کہ یہ عصا اچھل کر میرے ہاتھ میں آجاتا ہے، ساری بات سُن کر حضرت شعیب علیہ السَّلام سمجھ گئے کہ حضرت موسیٰ بڑی شان والے ہیں اور اللہ بھی یہی چاہتا ہے کہ یہ عصا حضرت موسیٰ کے پاس رہے، لہٰذا آپ نے وہ عصا حضرت موسیٰ کو دے دیا۔([6])

حضرت شعیب کی حضرت موسیٰ کو نصیحت: پھرآپ نے حضرت موسیٰ سے کہا: یہ عصا جنتی ہے، یہ حضرت آدم علیہ السَّلام سے حضرت شیث علیہ السَّلام پھر حضرت نوح علیہ السَّلام، حضرت ھود علیہ السَّلام، حضرت صالح علیہ السَّلام،حضرت ابراہیم علیہ السَّلام، حضرت اسماعیل علیہ السَّلام، حضرت اسحٰق علیہ السَّلام اور پھر حضرت یعقوب علیہ السَّلام تک پہنچا ہے، آپ اسے ہرگز اپنے سے جدا نہ کرنا۔([7])

حضرت موسیٰ نے سانپ کو قتل کردیا: پھر حضرت شعیب علیہ السَّلام نے کہا: میری قوم میں حاسدین ہیں، جب وہ دیکھیں گے کہ آپ نے میری بکریوں کی دیکھ بھال کرکے مجھے بے نیاز کردیا ہے تو وہ آپ کے معاملے میں مجھ سے حسد کریں گے(اور بہانے سے) آپ کو فلاں وادی کی طرف بھیج دیں گے کہ وہاں اچھی چراگاہ ہے، اگر وہ آپ کو وہاں بھیجیں تو مت جائیے گا کہ وہاں ایک بہت بڑا سانپ ہے جو بکریوں کو کھا جائے گا، مجھے ڈر ہے کہ آپ کو اور میری بکریوں کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ چالیس دن گزر گئے تو حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے سوچا: اس سانپ کو قتل کرنا تو بہت اچھا کام ہے، پھر بکریوں کو لے کر اسی وادی کی طرف چلے گئے قریب پہنچے تو وہی سانپ بکریوں کی طرف لپکا، حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے اسے قتل کردیا پھر واپس آکر حضرت شعیب علیہ السَّلام کو خبر دی تو وہ بے حد خوش ہوئے، شہر والوں کو معلوم ہوا تو وہ بھی بہت خوش ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کی بہت عزت کرنے لگےاس طرح حضرت موسیٰ حضرت شعیب کے پاس بکریوں کوچَرانے اور پانی پلانے کا کام کرتے رہے یہاں تک کہ معاہدےکی مدت پوری ہوگئی اور بکریوں کی تعداد 400 تک پہنچ گئی۔([8])

حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کی حضرت شعیب کے پاس سے واپسی: حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے جب حضرت شعیب علیہ السَّلام سے جدا ہونے کا ارادہ کیا تو اپنی زوجہ سے فرمایا:آپ اپنے والد صاحب سے کچھ بکریاں مانگ لیجئے تاکہ (راستےمیں) خوراک آسانی سے مل جائے،([9]) حضرت شعیب نے حضرت موسیٰ سے کہا: اے موسیٰ! میرا مال اللہ کی طرف سے ہے جس پر آپ چاہیں ہاتھ رکھ دیں، حضرت موسیٰ نے کہا: تھوڑا سا مال مجھے پسند ہے جس کے سہارے اپنی زندگی کے ایام گزاردوں، پھر آپ نے ایک جانور اپنی زوجہ کی سواری کیلئے لیا،جبکہ دوسرا اپنا زادِ راہ رکھنے کے لئے لے لیا، حضرت شعیب نے کہا : کچھ اور نہیں چاہتے؟ حضرت موسیٰ نے فرمایا: یہ بہت ہے۔([10])

حضرت شعیب علیہ السَّلام کا معجزہ: پھر حضرت شعیب نے حضرت موسیٰ کو کچھ بکریاں عطا کیں اور کہا: میری یہ (کالی یا سفید) بکریاں آپ کےلئے ہیں جو بچہ پیدا کرتی ہیں تو بچہ کا رنگ ماں کے برخلاف (کالا یا سفید) ہوتا ہے۔([11])

بیٹی صاحبہ کو نصیحت: جب حضرت موسیٰ واپس جانے لگے تو حضرت شعیب رونے لگے اور کہنے لگے: میری عمر بہت زیادہ ہوگئی ہے، کمزوری بھی ہے اور مجھ سے حسد کرنے والے بھی بہت زیادہ ہیں، آپ کو بھی روکنا مجھے اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ پھر حضرت شعیب نے اپنی بیٹی کو وصیت کی:اپنے شوہر (حضرت موسیٰ ) کی کبھی مخالفت نہ کرنا۔([12])

حکایت: منقول ہے کہ اللہ کریم نے حضرتِ سیِّدُنا شعیب علیہ السَّلام کی طرف وحی فرمائی: اے شعیب! میرے لئے اپنی گردن عاجزی سے جھکالے اور اپنے دل میں خشوع پیدا کر، اپنی آنکھوں سے آنسو بہا اور مجھ سے دعا کر کہ میں تیرے قریب ہوں۔([13])

حضرت شعیب علیہ السَّلام کی شریعت: ایک قول کے مطابق حضرت شعیب علیہ السَّلام کو بھی صحائف عطا ہوئے تھے،([14]) ایک روایت میں یہ کلمات ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السَّلام ان صحائف کو پڑھا کرتے تھے جو اللہ کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السَّلام پر نازل فرمائے تھے۔([15])

صحائفِ شعیب علیہ السَّلام میں شانِ محمدی: حضرت شعیب علیہ السَّلام کو جو صحائف عطا ہوئے تھے ان میں پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان یوں بیان کی گئی تھی: میرا بندہ بڑی باوقار شان والا ہےمیر ی وحی اس پر نازل ہوگی تو وہ مخلوق میں میرا عدل ظاہر کردے گا، وہ قہقہہ مار کر نہیں ہنسے گا وہ اندھی آنکھوں اور بہرے کانوں کو کھول دے گا، وہ پردہ پڑے دلوں کو زندہ کرےگا اور میں اسے جو کچھ بھی دوں گا وہ کسی اور کو نہیں دوں گا، ایک اور مقام پر حضرت شعیب علیہ السَّلام کے صحائف میں شانِ محبوبی کا بیان کچھ اس انداز میں ہے: وہ اللہ کی ایسی حمد کرے گا جو کسی نے نہ کی ہوگی وہ اللہ کا نور ہے جسے بجھایا نہیں جاسکتا، اس کے کاندھے پر اس کی مہر (ختم نبوت) ہوگی۔([16])

وفاتِ مبارکہ: حضرت سیدنا شعیب علیہ السَّلام کی عمر 140 سال کی ہوئی تو آپ کا وصال ہوگیا،([17]) مشہور قول کے مطابق آپ کی قبر مبارک فلسطین کی بستی حطّین میں ہے۔ حطین شام کے ساحلی علاقے پر واقع ایک بستی ہے، قبر مبارک پر ایک گنبد بھی بناہوا ہے لوگ دور دراز سے سفر کرکے یہاں آتے ہیں قبر مبارک کی زیارت کرتے ہیں اور برکتیں پاتے ہیں۔([18])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغُ التحصیل جامعۃُ المدینہ، شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])سیرت الانبیاء، ص545تا 547ملخصاً

([2])تفسیر خازن،3/430، القصص:25

([3])لطائف الاشارات للقشیری،2/435

([4])صراط الجنان، 7/273

([5])عرائس البیان للثعلبی،ص240

([6])عرائس البیان للثعلبی، ص240-لطائف الاشارات للقشیری، 2/435

([7])نہایۃ الارب، 33/160

([8])نہایۃ الارب، 13/161

([9])معجم کبیر،17/134

([10])تاریخ ابن عساکر،61/42

([11])غریب الحدیث لابن الجوزی، 2/260

([12])نہایۃ الارب، 13/161

([13])روض الفائق، ص:70

([14])سیرت حلبیہ، 1/314

([15])تاریخ ابن عساکر، 23/78

([16])سیرت حلبیہ، 1/314 ملتقطا

([17])المنتظم فی تاریخ الملوک والامم،1/326

([18])تہذیب الاسماء، 1/234،رقم:254۔


Share

Articles

Comments


Security Code