حضرت ادریس  علیہ السلام کی قرآنی صفات

نئے لکھاری

ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری2024 ء

حضرت ادریس علیہ السّلام کی قراٰنی صفات

*خرم شہزاد

حضرات انبیائے کرام علیہمُ السّلام کائنات کی عظیم ترین ہستیاں اور انسانوں میں ہیرے موتیوں کی طرح جگمگاتی شخصیات ہیں جنہیں خدا نے وحی کے نور سےر وشنی بخشی، حکمتوں کے چشمے ان کے دلوں میں جاری فرمائے اور سیرت و کردار کی وہ بلندیاں عطا فرمائیں جن کی تابانی(نور) سے مخلوق کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں، ان میں سے ایک حضرت ادریس علیہ السّلام ہیں جو حضرت آدم اور حضرت شیث علیہما السّلام کے بعد تشریف لائے۔ آپ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے آباء و اجداد میں سے ہیں۔

مختصر تعارف:حضرت ادریس علیہ السّلام کا اصل نام خنوخ یا اخنوح اور لقب ادریس ہے۔آپ علیہ السّلام پر 30 صحیفے نازل ہوئے، ان صحیفوں کا کثرت سے درس دینے کی وجہ سے آپ کا لقب ”ادریس“ ہوا۔ آپ علیہ السّلام حضرت نوح علیہ السّلام کے والد کے دادا ہیں۔(سیرت الانبیاء، ص148)

قراٰنِ پاک میں جہاں دیگر انبیائے کرام کے اوصاف بیان ہوئے ہیں وہیں حضرتِ ادریس علیہ السّلام کے اوصاف و کمالات بھی بیان ہوئے ہیں ان میں سے 5 ملاحظہ فرمائیں:

 (1، 2)آپ علیہ السّلام کو صدیق کہا گیا، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

(وَاذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ(۵۶))

ترجَمۂ کنز الایمان: اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو بےشک وہ صدیق تھا غیب کی خبریں دیتا۔(پ16، مریم: 56)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

 تمام انبیائے کرام علیہمُ السّلام سچے صدیق ہیں لیکن یہاں آپ علیہ السّلام کی صداقت و صدیقیت کو بطورِ خاص بیان کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ میں اس وصف کا ظہور بہت نمایاں تھا اور سچائی یقیناً اللہ پاک کو پسند ہے۔(سیرت الانبیاء، ص 152)

(3، 4)آپ علیہ السّلام صبر کرنے والے اور قُربِ الٰہی کے لائق بندوں میں سے تھے، چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

(وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِدْرِیْسَ وَذَا الْكِفْلِؕ-كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ(۸۵) وَاَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَاؕ-اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(۸۶) )

ترجَمۂ کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور ادریس ذوالکفل کو (یاد کرو) وہ سب صبر والے تھے اور انہیں ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا بےشک وہ ہمارے قربِ خاص کے سزاواروں میں ہیں۔(پ17، الانبیآء:85، 86)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

حضرت اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل سب عبادت کی مشقتوں اور آفات و بلیات کو برداشت کرنے پر کامل صبر کرنے والے تھے۔(دیکھئے: صراط الجنان،6/364)

(5)آپ علیہ السّلام کو آسمان پر اٹھالیا گیا، چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

(وَرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا(۵۷))

ترجَمۂ کنز الایمان : اور ہم نے اسے بلند مکان پر اٹھالیا۔ (پ16، مریم: 57)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

حضرت ادریس علیہ السّلام کو بلند مکان پر اٹھا لینے کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے آپ علیہ السّلام کے مرتبے کی بلندی مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ آپ علیہ السّلام کو آسمان پر اٹھالیا گیا ہے اور زیادہ صحیح یہی قول ہے کہ آپ علیہ السّلام کو آسمان پر اٹھالیا گیا ہے۔(صراط الجنان، 6/126)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: چار نبی زندہ ہیں کہ ان کو وعدۂ الٰہیہ (یعنی وفات) ابھی آیا ہی نہیں۔ حضرت خضر والیاس علیہما السّلام زمین پر ہیں اور حضرت ادریس و عیسیٰ علیہما السّلام آسمان پر۔(سیرت الانبیاء، ص 154ملتقطاً) جب حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو معراج ہوئی تو حضرت ادریس علیہ السّلام نے چوتھے آسمان پر حُضور کی تعظیم و اکرام و استقبال فرمایا۔(دیکھئے:سیرت الانبیاء، ص 157)

حضرت ادریس علیہ السّلام کے ان قراٰنی اوصاف سے آپ کی عظمت و رفعت واضح ہوتی ہے۔ اللہ پاک ہمیں نیک بندوں کی سیرت پڑھ کر اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*(درجۂ ثالثہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ غوثِ اعظم ساندہ، لاہور)


Share