جوائنٹ فیملی سسٹم اور بچوں کے جھگڑے/ نماز کی حاضری

ہمارے ہاں بہت سے گھرانوں میں مُشترکہ خاندانی نظام (Joint family system) رائج ہے ، جہاں اس نظام کے بہت سے فوائد ہیں وہیں کچھ ضِمنی اثرات (Side effects)بھی ہیں جو حقیقتاً تو معمولی حیثیت رکھتے ہیں لیکن بعض اوقات ہمارے ردِّ عمل کی وجہ سے بڑے اثرات کے حامل قرار پاتے ہیں ، اِنہیں میں سے ایک مسئلے’’بچّوں کےجھگڑے‘‘پر آج ہم گفتگو کریں گے۔

مُشترکہ خاندانی نظام میں رہتے ہوئے بعض اوقات ایسا بھی ہوتاہےکہ بچّےکبھی کھیل ہی کھیل میں تو کبھی واقعی لڑائی جھگڑے میں ایک دوسرے کو پِیٹ ڈالتے یا چوٹ پہنچا دیتے ہیں۔ ایسے میں والدین کو صبر و تحمُّل کے ساتھ ساتھ عقلمندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اس بات کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہئے کہ بچّوں کے آپس کے مسائل ہمیشہ کیلئے نہیں بلکہ بسا اوقات چند لمحوں کیلئے ہوتے ہیں ایسے میں والدین دخل اندازی نہ کریں تو وہی بچّے پھر سے اکٹھے کھیل رہے ہوں گے جبکہ اس کے بَرعکس رویّہ اپنانا خود اُن کے اور بچّوں کے لئے بھی نقصان دہ ہوگا کیونکہ آپ چیزوں کو جتنا بڑا بناتے جائیں گے وہ اتنی بڑی بنتی جائیں گی۔ چندباتوں پر عمل کرنا بہت مفید ہے:

(1)  گھر میں سبھی بچّوں کی تربیت اس اندازسے جائے کہ سبھی پیار محبت اور اتفاق کے ساتھ رہیں۔ بِالخصوص بڑے بچّوں کو یہ تربیت دینی چاہئے کہ وہ چھوٹے بہن بھائی اورکزنز (چچازاد ، تایازاد بہن بھائی وغیرہ)کا خیال رکھیں آپس میں کھیلتے ہوئےکسی ایک کو دوسرے کے ساتھ بُرا سلوک نہ کرنے دیں۔

(2)بچّوں کی آپسی مار پیٹ میں اگر صورتِ حال زیادہ خراب نہ ہوتو والدین کو نظر انداز (Ignore) کرنا چاہئے ، کیونکہ اس لڑائی پر آپ کی طرف سے دیا جانے والا ردِّ عمل ہی بچّوں کا اگلا لائحۂ عمل طے کرے گا وہ آپ سے سیکھتے ہیں آپ ہی اگر چھوٹی سی بات کو جنگ میں بدل دیں گے تو بچّے بھی اگلی بار وہی کریں گے کیونکہ دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ بچّے شروع شروع میں واقعی صلح کر لیتے ہیں لیکن والدین کے ایسے مستقل رویّہ کو دیکھ کر وہ بھی آپس میں نفرتیں پال لیتے ہیں۔

(3)والدین کو خود کے ساتھ ساتھ بچّوں کا بھی یہی ذہن بنانا چاہئے کہ ہم سب اکٹھے ہیں تو ایک ہی فیملی ہیں لہٰذا جیسے بھائی بھائی میں لڑائی کو بڑا مسئلہ نہیں بنایا جاتا ایسے ہی کزنز میں بھی یہی رویّہ رکھا جائے۔

(4) ضرورتاً بچّوں کے جھگڑے میں دخل اندازی کرنی ہی پڑ جائے تو والدین کو فریق بننے کے بجائے بڑے پَن کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور کسی بھی بچّے کو خصوصی اہمیت دیئے بغیر سب کی بات سُنی جائے اور حسبِ ضرورت تفہیم اور نرمی سے سمجھانے کا سلسلہ کیا جائے۔

(5)یقیناً اخلاقی تربیت کیلئے ڈانٹ ڈپٹ اسے کی جاتی ہے

جو اپنا ہو لہٰذا اپنے بھتیجے وغیرہ کوسمجھانے کیلئے ڈانٹنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر کسی فساد کا اندیشہ ہو تو اس سے بچا جائے ۔

(6)بعض اوقات بچّوں کی لڑائی کا سبب ہم خود بن رہے ہوتے ہیں کہ بچّوں کے درمیان ان کی ذہنی صلاحیت یا جنس (Gender) کی بنیادپر فرق رکھتے ہوئے کسی ایک کو چہیتا اور لاڈلا بنائے رکھتے ہیں اور دوسرے سے بے رُخی برتتے ہیں ، ایسے میں نظر انداز (Ignore)ہونے والا بچّہ ہمارے اس رویے کا بدلہ دوسرے بچّوں سے لیتا ہے۔ یونہی بعض اوقات کوئی ایک بچّہ ہمارا لاڈلا ہونے کا غلط فائدہ بھی اٹھاتا ہے لہٰذا بچّوں کو ابتداء ہی لڑائی سے بچانے کے لئے ہمیں اپنے رویّہ پر بھی نظرِ ثانی کرتے رہنا چاہئے۔

(7)والدین کو اس طرف بھی توجّہ دینی چاہئے کہ میڈیا وغیرہ نے بچّوں کی اکثریت کو بہت چالاک اور ہوشیار بنا دیا ہے ، وہ زمانے چلے گئے جب کہا جاتا تھا کہ “ بچّے من کے سچّے “ ،  لہٰذا صرف ان کے کہنے پر کوئی قدم نہ اٹھایا جائے بلکہ خود بھی دیکھ بھال لیا جائے کہ واقعی کچھ ہوا بھی ہے یا سارے بچّے مل کر کسی ایک کے خلاف مورچہ بنائے ہوئے ہیں اور کوئی جھوٹی کہانی گھڑ رہے ہیں!

خیال رہے کہ مشترکہ خاندانی نظام میں سبھی بچّوں کو اپنا سمجھنا چاہئے لیکن کہیں دوسرے بچّوں کی بے جا رعایت اور طرف داری کرتے ہوئے اپنے ہی بچّوں کو اپنا دشمن مت بنا لیجئے گا۔ یونہی اپنے بچّوں کی غلطی کے باوجود ان کی بے جا طرف داری ان کے بگڑنے کا سبب بن سکتی ہے ، لہٰذا ایسے معاملات میں ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنے کے بعد اِعْتدال اور میانہ روی کو سامنے رکھتے ہوئے ایسی صورتِ حال سے نپٹنا چاہئے ، کبھی نظرانداز ، کبھی صرف زبانی تفہیم تو کبھی حسبِ ضرورت شرعی حُدود و قیود میں رہتے ہوئےتھوڑا سخت رویّہ اپنانے سے اِنْ شَآءَ اللہ نتائج مثبت ملیں گے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*ماہنامہ  فیضانِ مدینہ ، کراچی

 


Share

Articles

Comments


Security Code