برف سے وضو کرنا کیسا؟

(1)سولِ کریم کو نُوْرُ اللہ کہنا کیسا؟

سوال:کیا نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اللہ کا نُوْر کہہ سکتے ہیں؟

جواب:بالکل کہہ سکتے ہیں،قراٰنِ کریم میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: (قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۵)تَرجَمۂ کنزُ الایمان:بے شک تمہارے پاس   اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔(پ6، المآئدہ:15)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) کئی مُفسّرین([1])نے اس آیت میں نور سے مراد پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات لی ہے تو یوں اللہ پاک نے اپنے محبوب کو نور کہا، آئیے ہم بھی مل کرکہتے ہیں:اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانُوْرَ اللہ۔(مدنی مذاکرہ، 3ربیع الآخر1439ھ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!          صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

(2)سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا اندازِ گفتگو

سوال:نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اندازِ گفتگو کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیے؟

جواب:پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ہر ادا لاجواب ہے، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی گفتگو کا انداز چیخنے چلانے والا نہیں بلکہ ایسا میٹھا اور پیارا ہوتا تھا کہ بات سب کی سمجھ میں آجائے،آواز نہ اتنی دھیمی کہ سامنے والا سُن نہ سکے، نہ اتنی اونچی کہ ناگوار گزرے، بعض اوقات اپنی بات کو تین بار دہراتے تھے تاکہ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں اور بولنے کی رفتار ایسی تھی کہ اگر کوئی آپ کے الفاظ گننا چاہے تو گن لے۔(مدنی مذاکرہ،13رجبُ المرجب1440ھ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!          صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

(3)برف سے وضو کرنا کیسا؟

سوال:کیا برف باری سے جمع ہونے والی برف سے وضو کرسکتے ہیں؟

جواب:اس برف سے وضو اسی صورت میں ہوگا جب یہ پِگھل کر پانی بن جائے کیونکہ وضو میں جن اعضاء کا دھونا فرض ہے ان اعضاء کے ہر ہر حصّے پر پانی کے کم اَز کم دو قطرے بہ جانا ضروری ہے۔(محیط البرہانی،ج1،ص129، ردالمحتار علیٰ در مختار،ج 1،ص217ماخوذاً)(مدنی مذاکرہ،9ربیع الآخَر 1439ھ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!          صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

(4)نعت پڑھنے والے صَحابۂ کرام

سوال:کیا حضرت حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ کےعلاوہ دوسرے صَحابہ بھی سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نعتیں پڑھتے تھے؟

جواب:نعت کے معنیٰ ہیں ”نبی کی تعریف“، تو یوں ہر صحابی بلکہ ہر مسلمان ہی نعت خواں ہے کیونکہ سب ہی نبی کی تعریف کرتے ہیں،البتہ اشعار کی صورت میں نعت پڑھنے والے کو عرف میں نعت خواں کہتے ہیں۔ امام ابنِ سیِّدُ النّاس رحمۃ اللہ علیہ (وفات 732ھ) نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پاکیزہ شان میں اشعار کی صورت میں نعت کہنے والے تقریباً دو سو (200)صحابۂ کرام   علیہمُ الرِّضوان کے ناموں اور ان کے اشعار پر ایک مستقل کتاب بنام”مِنَحُ الْمِدَح(یعنی بارگاہِ رسالت میں تعریفوں کے نذرانے) تحریر فرمائی ہے۔ چند صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان  کے نام یہ ہیں: حضرت ابوبکر صِدِّیق، حضرت عمر فاروق، حضرت علیُّ المرتضیٰ، حضرت امیر حمزہ، حضرت عباس، حضرت حسّان بن ثابِت، حضرت عبدالرّحمٰن بن عَوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زید بن حارِثَہ، حضرت عبدُ اللہ بن رَوَاحَہ، حضرت کَعب بن زُہیر، حضرت کَعب بن مالِک، حضرت دِحیہ کَلبی، حضرت فاطمۃُ الزّھراء، حضرت اُمِّ اَیمَن، حضرت صفیہ بنتِ عبدالمطلب   رضی اللہ عنہم اَجْمعین ۔(مدنی مذاکرہ،3ربیع الاوّل 1440ھ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!          صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

(5)آبِ زَم زَم کھڑے ہوکر پینے کی وجہ

سوال:آبِ زَم زَم کھڑے ہوکر کیوں پیتے ہیں؟

جواب:پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آبِ زَم زَم کھڑے ہوکر نوش فرمایا (یعنی پیا)۔(بخاری،ج 1،ص546، حدیث:1637)

آبِ زَم زَم کھڑے ہوکر پینا سنّت ہے اور اسے کھڑے ہوکر پینے میں حکمت یہ ہے کہ کھڑے ہوکر جب پانی پیا جاتا ہے وہ فوراً تمام اعضاء کی طرف سرایت کرجاتا ہے اور آبِ زَم زَم سے بھی مقصود برکت حاصل کرنا ہے لہٰذا اس کا تمام اعضاء میں پہنچ جانا فائدہ مند ہے۔(بہارِ شریعت،ج 3،ص384ملخصاً-مدنی مذاکرہ، یکم رجب المرجب1440ھ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!          صلَّی اللہُ علٰی محمَّد

(6)حُضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی اطاعت ربِّ کریم کی اطاعت ہے

سوال:کیا حُضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت عین اطاعتِ الٰہی ہے؟

جواب:جی ہاں! خود اللہ کریم قراٰنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: (مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-)

تَرجَمۂ کنزُ الایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بےشک اُس نے اللہ کا حکم مانا ۔(پ5، النسآء: 80)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

نماز کے دوران بھی اگر نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بلائیں تو جواب دینا ہوگا اور یہ بھی قراٰنِ کریم سے ثابت ہے:

(یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-)

تَرجَمۂ کنزُ العِرفان:اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے۔(پ9، الانفال:24) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)اور اس سے نماز بھی نہیں ٹوٹے گی۔ (مرقاۃ المفاتیح،ج4،ص624،تحت الحدیث:2118،مراٰۃ المناجیح،ج 3،ص224) حدیثِ پاک میں بھی نماز میں بلانے کا ذکر موجود ہے۔([2])(مدنی مذاکرہ، 3ربیع الاوّل 1440ھ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!          صلَّی اللہُ علٰی محمَّد



       1  امام ابوجعفر محمد بن جَرير طَبری (وفات:310ھ)، امام ابومحمد حسین بغوی (وفات: 510ھ)، امام فخرُالدّین رازی (وفات:606ھ)، امام ناصرُالدّین عبداللہ بن عمر بَیضاوی (وفات: 685ھ)، علّامہ ابوالبرکات عبد اللہ نَسفی (وفات: 710ھ)، علّامہ ابوالحسن علی بن محمد خازِن (وفات: 741ھ)، امام جلالُ الدّین سُیُوطی شافعی (وفات:911ھ)   رحمۃ اللہ علیہم اَجْمعین وغیرہ مفسرین نے فرمایا کہ اس آیتِ مبارکہ میں موجود لفظ ”نور“ سے مراد نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ بابرکات ہے۔ حدیثِ پاک میں نور والے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:اے جابِر! بے شک اللہ پاک نے تمام مخلوق سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا۔(الجزء المفقود من الجزء الاوّل من المصنف لعبدالرزاق، ص63، رقم:18، المواھب اللدنیہ،ج 1،ص36)

2     بخاری شریف میں ہے:حضرت ابوسعید بن مُعَلَّی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجدِ نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے رسُولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بلایا، لیکن میں آپ کے بلانے پر حاضر نہ ہوا۔(نماز سے فارغ ہونے کے بعد) میں نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کی: یَارسولَ اللہ  میں نماز پڑھ رہا تھا۔ سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا اللہ پاک نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ (اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ) اللہ اور رسول کے بلانےپر حاضر ہو جاؤ جب وہ تمہیں بلائیں۔(بخاری،ج 2،ص163، حدیث: 4474)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)


Share