پڑوسی کا مرغا

جامعۃُ المدینہ کے چوتھے دَرَجے (کلاس)میں فِقْہ (شَرْعی مسائل) کا پیریڈ جاری تھا، سبق ختم ہوا تو طَلَبہ نے ”اُستاذ صاحب“ سے درخواست کی کہ اگلا پیریڈ شُروع ہونے میں  چند منٹ باقی ہیں، لہٰذا کچھ سبق ”کتابِ زندگی“ کا بھی پڑھا دیجئے۔ اُستاذ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں بولنا شروع کیا: ایک پروفیسر جو کئی کتابیں بھی لکھ چکا تھا، اس کا پڑوسی ایک مُرغا خرید لایا جو وقت   بے وقت کُکڑوں کُوں کرتا رہتا۔ وہ پروفیسر اس مُرغے کے شوروغُل سے تنگ ہونے لگا۔ کچھ ہی دنوں میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ مُرغے کی آواز سُنتے ہی اس کی سوچیں درہم برہم ہوجاتیں جس کی وجہ سے اس کے مطالعہ (Study) اور تحریری کاموں میں بھی خلل پڑنے لگا۔ پڑوسی سے فریاد کی تو اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ جانور ہے مجھ سے پوچھ کر تھوڑی بولتا ہے میں اسے کیسے روکوں! پروفیسر وہاں سے مایوس ہوکر واپَس آگیا۔ اب حالت یہ تھی کہ مُرغا نہ بھی بولتا تو بھی اس کے کانوں میں ”کُکڑوں کُوں“ کی آوازیں گونجتی رہتیں۔ ایک صبح پروفیسر کے ذِہْن میں مرغے کے شور سے جان چُھڑانے کی عجیب وغریب ترکیب آئی۔ اس نے اپنے ملازم کو رقم دی کہ ابھی جاکر پڑوس والوں سے منہ مانگی قیمت میں مُرغا خرید لاؤ اور ذَبْح کرکے دوپہر کے لئے پکالو۔ دوسری طرف پروفیسر نے اپنےایک دوست کو فون پر کھانے کی دعوت بھی دے ڈالی۔ مُرغے کا بندوبست  کرنے کے بعد وہ خود کو فریش محسوس کرنے لگا۔

دوپہر کے کھانے میں ابھی دیر تھی چنانچہ وہ اپنے لکھنے پڑھنے کے کام میں لگ گیا، آج مُرغے کی ٹینشن نہیں تھی اس لئے اس نے کئی دنوں کے بعد سکون سے تحریری کام کیا اور تھوڑے سے وقت میں بہت سے صفحات لکھ لئے۔ ایک بجے اس کا دوست بھی آپہنچا، پروفیسر نے اسے مرغے سے جان چُھڑانے کے پلان کے بارے میں بتایا تو وہ بھی حیران ہوکر مُسکرا دیا۔ ملازم نے کھانا لگا دیا تو دونوں دوست کھانے لئے  بیٹھ گئے اور ابھی پہلا لقمہ ہی لیا تھا کہ آواز آئی ”کُکڑوں کُوں“! دونوں نے غور کیا تو آواز پڑوس سے آرہی تھی۔ پروفیسر نے گھبرا کر اپنے ملازم کو آواز دی، وہ بھاگا آیا تو اس سے پوچھا کہ کیا یہ سالن پڑوس والے مُرغ کا نہیں ہے؟ ملازم کہنے لگا: مُعافی چاہتا ہوں جناب! میں پڑوسیوں سے مُرغا خریدنے گیا تھا لیکن انہوں نےبیچنے سے انکار کردیا، میں نے منہ مانگی قیمت کی  آفربھی کی تھی مگر وہ نہیں مانے۔ میں نے سوچا کہ آپ کا مُرغا کھانے کا نہ جانے کتنا جی چاہ رہا ہوگا اور پھر آپ اپنے دوست کو دعوت بھی دے چکے تھے، اس لئے مجبوراً میں نے بازار سے موٹا تازہ مُرغا خریدا اور اس کا گوشت بنوا لایا، اسی کا سالن بنا کر آپ کو پیش کیا ہے۔ یہ سُن کر پروفیسرنے اپنا سر پکڑ لیا۔

اس کے دوست نے اُسے سمجھایا: دیکھو! تم آج صبح سے فریش تھے حالانکہ مرغا اپنی جگہ پر موجود تھا! یہ اس لئے ممکن ہوا کہ تم نے اپنے ذِہْن سے مُرغے کے بوجھ کو اُتار پھینکا تھا، تمہاری اندرونی کیفیت تبدیل ہوتے ہی  تمہیں سکون ملا اور تم نے کئی صفحات لکھ ڈالے اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس دوران بھی مُرغا بولا ہوگا لیکن تمہیں محسوس نہیں ہوا کیونکہ تم اسے اپنے گمان میں ذَبْح کروا چکے تھے۔ اس تجربے سے بہت فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے اگر پڑوسی اپنے گھر سے مُرغا نہیں نکالتا تو کم از کم تم اپنے ذِہْن سے تو نکال دو، پھر یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ آج ہم ایک مُرغا ذبح کرڈالیں لیکن کل پورے محلے میں 10 مُرغے شور مچا رہے ہوں پھر ہم انہیں کیونکر خاموش کرواسکیں گے! ایک لمحے کے لئے مان لیا کہ وہ 10 مُرغے بھی ہم لڑ بِھڑ کر نکلوا دیں گے لیکن اگر پرسوں کسی نے تیتر پال لئے تو کیا کریں گے! کیونکہ اس کی تو پہچان ہی بولنا اور شور مچانا ہے! تو پھر کیوں نہ ہم خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں! جیسے ایک نازک مزاج بادشاہ شہر کے دورے پر نکلا تو زمین پر چلنے میں اسے تکلیف محسوس ہوئی، اس نے فرمانِ شاہی جاری کیا کہ آئندہ جب میں دورے پر نکلوں تو شہر کے تمام راستوں میں عالیشان مخملی قالین بچھا دئیے جائیں، درباری یہ سُن کر پریشان ہوگئے کہ ایسا کیونکرہوسکے گا! آخِر کار ایک وزیر نے ہمّت کرکے جان کی اَمان لی اور عرض کی: بادشاہ سلامت! اگر سارے شہر میں قالین بچھانے کے بجائے آپ اپنے پاؤں میں شاندار اور اعلیٰ قسم کے نرم نرم  جوتے پہن لیا کریں تو کسی بھی وقت کسی بھی شہر کے دورے پر نکل سکتے ہیں، بادشاہ کو اس کی تجویز پسند آئی اور اس نے خصوصی جوتے بنانے کا حکم دے دیا۔ تو میرے دوست! سارے شہر کو اپنے مزاج میں ڈھالنے کی کوشش کرنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے مزاج کو حالات کے مطابق ڈھال لیں ۔

استاذ صاحب جب یہ فرضی حکایت سُنا چکے تو ایک طالبِ علم نے کھڑے ہوکر عرض کی کہ یہ ارشاد فرمائیے کہ ہم اس واقعے سے ملنے والے سبق کو اپنی زندگی میں عملی طور پرکیسے نافذ کرسکتے ہیں؟ استاذ صاحب نے پہلے تو اسے اتنا اچّھا سوال کرنے پر شاباش دی پھر جواب دیا کہ ہمارا بھی بہت سی ایسی چیزوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے جنہیں ہم پسند نہیں کرتے یا وہ ہماری زندگی کی روٹین کو ڈسٹرب کردیتی ہیں لیکن ہم دوسروں کو اس کام سے روک نہیں پاتے مثلاً (1)ٹریفک کو ہی لے لیجئے، لوگ دوسری طرف کا سگنل توڑ کر اچانک آپ کی بائیک یا گاڑی کے سامنے آجاتے ہیں جو حادثے کا سبب بن سکتا ہے اب یہاں ہم سگنل توڑنے والے تمام افراد کو ایک جگہ جمع کرکے سمجھانے سے تو رہے،پھر یہاں ایک نے سگنل توڑا ہے تواگلے اشارے پر کوئی اور یہی حرکت کررہا ہوگا، تو کیوں نہ ہم اپنی احتیاط میں اضافہ کرلیں کہ سگنل کھلنے کے باوجود دیکھ لیں کہ کہیں کوئی دوسری طرف کا سگنل توڑ کر آگے تو نہیں بڑھ رہا اور ہم اپنی گاڑی کی رفتار بھی کم رکھیں، اسی طرح بعض جگہ لوگ ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہیں جو جان لیوا ایکسیڈنٹ کا سبب بن سکتی ہے، اگر ہم احتیاطاً اس پر بھی نظر رکھیں کہ کوئی ون وے توڑ کر ہمارے لئے خطرہ تو نہیں بن رہا!(2) اسی طرح جن گھروں میں بچے ہوتے ہیں جو روتے بھی ہیں، شور بھی مچاتے ہیں آپس میں کھیلتے کُودتے بھی ہیں تو وہ اپنے بچوں کو گونگا کرنے کے بجائے ان کا شور سننے کے عادی ہوجاتے ہیں پھر وہ ٹینشن میں نہیں آتے(3)اسی طرح بہت زیادہ گرمی یا سردی میں بھی انسان پریشان تو ہوتا ہے لیکن وہ یہ بات سمجھتا ہے کہ میں اس موسم کو بدل نہیں سکتا لہٰذا وہ اپنے سارے معمولاتِ زندگی کاروبار، مُلازمت،کھانا پینا، سوناجاگنا جاری رکھتا ہے اور گرمی یا سردی کو اپنے سَر پر سوار نہیں کرتا(4) اسی طرح جس کے پاس ذاتی سواری بائیک وغیرہ نہیں ہوتی وہ بسوں ویگنوں میں کھڑے ہوکربھی اپنے آفس یا دکان تک پہنچتے ہیں حالانکہ درجنوں مسافروں کے بیچوں بیچ کھڑے ہوکر سفر کرنا آسان کام نہیں لیکن وہ اس کے عادی ہوجاتے ہیں کہ سب کے پاس ذاتی سواری خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے۔ (5)یونہی کچھ لوگ کچرے کی ٹوکری گھر کے باہر رکھ دیتے ہیں، گھر کا فرش دھو کر پانی باہر گلی میں چھوڑ دیتے ہیں، رات کے وقت گھر میں ہتھوڑے سے کیل ٹھونکنا شروع کردیتے ہیں،سوراخ کرنے کے لئے ڈرل مشین چلانے لگتے ہیں اور پڑوسیوں کی نیند برباد کردیتے ہیں(6) اسی طرح بعض لوگ موٹر سائیکل گلی میں غلط پارک کرکے راستہ تنگ کردیتے ہیں، گلی سے گزرتے وقت بلاوجہ ہارن بجاتےہیں، دکاندار اپنے کاؤنٹر اور سامان باہر سجا دیتے ہیں جس کی وجہ سے آنے جانے والے تنگ ہوتے ہیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ باتیں دوسروں کوپریشان کرنے والی ہیں،ایسا کرنے والوں کو سمجھانا چاہئے لیکن وہی سمجھائے جسے شریعت کے مطابق سمجھانا آتا ہو پھر اگر یہ باز آجائیں تو ان کی مہربانی! دوسری صورت میں اپنی کیفیات پر ہی قابو پانا ضروری ہے، ورنہ بہت سارے ”مُرغے“ ہمارے ذِہن پربھی سوار ہوجائیں گے اور ہم کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کرسکیں گے۔ اللہ پاک ہمیں عافِیَت وآسانی نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭مدرس مرکزی جامعۃ المدینہ ،عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی


Share