بڑوں کی بڑی بات (Greatness of great Personalities)

کتابِ زندگی

بڑوں کی بڑی بات

( Greatness of great Personalities )

*مولاناابورجب محمد آصف عطّاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر 2022ء

سخت سردی کا موسم تھا ،  اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ نمازِ مغرب کے بعد رُوٹین کے مطابق دروازے سے لوگوں کو رخصت کر رہے تھے کہ اپنے خدمت گار جناب ذکاء اللہ خان کو دیکھ کر فرمایا: آپ کے پاس گرم چادر نہیں ہے ؟  وہ خاموش رہے تو اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ نے اس وقت جو گرم چادر اوڑھ رکھی تھی وہ انہیں دے کر فرمایا:اسے اوڑھ لیجئے ،  ذکاء اللہ خان نے بطورِ ادب حکم پر عمل کرتے ہوئے وہ چادر اوڑھ لی۔اس واقعہ کے دو تین روز بعد اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کے لئے رُوئی لگی نئی گرم چادر تیار ہوکر آگئی ،  اُسے اوڑھتے ہوئے ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ ایک رات مسجد میں کوئی مسافر آیا جس نے اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ سے عرض کی کہ میرے پاس اوڑھنے کے لئے کچھ نہیں ہے ، آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے ایثار کرتے ہوئے وہ نئی چادر بھی اُس مسافر کو عطا فرمادی۔[1]

محترم قارئین ! عظمت و رفعت کی بُلندیوں تک پہنچنے والی شخصیات  ( Personalities ) کے کارنامے تو عظیم اور تاریخی ہوتے ہی ہیں لیکن ان کا کردار  ( Character ) بھی ایسا عظیمُ الشان ہوتا ہے جو عام انسانوں کو حیران کر دیتا ہے کیونکہ یہ شخصیات چھوٹی چھوٹی سمجھی جانے والی ایسی باتوں کا خیال بھی رکھتی ہیں جن کی طرف عام طور پر لوگوں کی توجہ نہیں ہوتی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:  ” انسان محض بڑی بڑی باتوں کو سمجھ لینے سے ہی بڑا نہیں بنتا بلکہ اس کی عظمت اس وقت کامل ہوتی ہے جب وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی سمجھنے لگتا ہے۔ “  بزرگانِ دین جو ہمارے حقیقی رہنما  ( Real Leaders ) ہیں ان کی زندگیوں میں آپ اس طرح کی کئی چیزوں کا مشاہدہ کریں گے۔ صَفَرُ المظفر کا مہینا امامِ اہلِ سنّت ،  اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کے وِصال اور عُرس کا مہینا ہے ،  اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کے کریڈٹ پر قراٰن و حدیث ،  فقہ و اصولِ فقہ سمیت بہت سارے شعبوں  ( Departments )  میں انفرادی طور پر اتنی ماہرانہ خدمات  ( Expert Services )  ہیں کہ آج کمپیوٹر کے دورِ جدید میں ان خدمات کو محض دہرانے کیلئے بھی بہت بڑے ادارے کی ضرورت پڑے گی۔ ان اوصاف اور خدمات کی جھلکیاں  ( Highlights )  آپ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے بالخصوص صفرُ المظفر اور شوّالُ المکرم کے شماروں اور 100سالہ عرس کے موقع پر شائع ہونے والے خاص نمبر  ” فیضانِ امامِ اہلِ سنّت “  میں دیکھ سکتے ہیں۔ میں نے اپنے اس مضمون میں حیاتِ اعلیٰ حضرت کے انہی پہلوؤں کو بیان کرنے کا ارادہ کیا جن کا ذکر اوپر گزرا کہ  ” بڑوں کی بڑی بات ہوتی ہے۔ “  لیکن جب میں نے ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے مولانا نواز عطّاری مدنی کے تعاون سے اعلیٰ حضرت کی روشن سیرت سے اس طرح کے واقعات  ( Stories )  جمع کرنے شروع کئے تو بہت کم وقت میں 50 سے زائد واقعات سامنے آگئے اور ہر واقعہ اعلیٰ حضرت کے بڑے پَن کی گواہی دے رہا تھا ،  دوسری طرف میرے پاس ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے صفحات محدود  (Limited )  تھے ،  لہٰذا فیصلہ کیا کہ کم از کم 7 واقعات اپنے انداز میں اس مضمون میں نقل کر دوں تاکہ عقیدتِ اعلیٰ حضرت رکھنے والوں کے دل خوش اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں ،  چنانچہ:

 ( 1 ) سیّد زادے سے خدمت نہ کروائی جائے:ایک کم عمر صاحبزادے گھریلو کاموں میں مدد کے لئے ملازم ہوئے ،  بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سیّد زادے ہیں ، اس لئے اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ نے اپنے گھر والوں کو تاکید فرما دی کہ ان سے کوئی کام نہ لیا جائے کہ آلِ رسول ہیں ، کھانا وغیرہ اور جس شے کی ضرورت ہو حاضر کر دی جائے اور جو تنخواہ طے ہوئی تھی وہ بطور نذرانہ پیش ہوتی رہے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد وہ صاحبزادے خود ہی تشریف لے گئے۔[2]

 ( واقعی ! قدر والے جانتے ہیں قدر سادات کی )

 ( 2 ) ہاتھ نبض پر نہیں دل پر ہوتا تھا: امامِ اہلِ سنّت ،  اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن عوام میں تشریف فرما تھے ،  ایک صاحب نے دریافت کیا کہ اسمِ اعظم کیا ہے ؟  ارشاد فرمایا: ہر شخص کیلئے اسمِ عظم جُد اجُدا ہے۔ اس کے بعد حاضرین کی طرف دیکھنا شروع کیا اور ہر ایک سے بلا تکلف فرماتے جاتے تھے ، یہ تمہارے لئے اسمِ اعظم ہے ،  تمہارے لئے اسمِ اعظم یہ ہے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ اس مجمع  ( Crowd )  میں صرف سیّد قناعت علی شاہ صاحب کے لئے اسمِ اعظم نہیں فرما پائے تھے کہ عصر کی اذان ہو گئی اور سب وہاں سے اُٹھ گئے۔ شاہ صاحب افسردہ تھے اور بار بار یہ اُمید لگاتے تھے کہ شاید اب اعلیٰ حضرت فرمائیں ، شاید اب فرمائیں۔ یہاں تک کہ مغر ب کی اذا ن ہوئی ،  تکبیر کہی گئی ،  اعلیٰ حضرت  ” حَیَّ عَلَی الفَلَاح “  پر وہا ں سے اُٹھے اور مُصَلّے پر سیدھا قدم رکھا ،  اس وقت تو قناعت علی شاہ صاحب بالکل ہی مایوس ہو گئے اور دل میں خیال آیا کہ آج یہ پہلی مثال نظر آرہی ہے کہ میں رہا جاتا ہوں۔ اعلیٰ حضرت نے اس بات کو محسوس کرلیا اور تکبیرِ تحریمہ سے پہلے ان کی جانب رُخ کر کے فرمایا: سیّد صاحب !  آپ کے لئے اسمِ اعظم  ” یَاخَالِقُ یَااللہ “  ہے۔[3]

قارئین !  یہ بات ایک اچھے رہنما  ( Leader ) کے اوصاف میں سے ہے کہ اپنے فالوورز کو مایوس نہ ہونے دے ،  کاش !  ہم دوسروں کے لئے بھی اتنے حساس ( Sensitive )  ہوجائیں جتنا خود کے لئے ہوتے ہیں۔

  ( 3 ) بارگاہِ رسالت میں حاضری دینے والوں کی عزت افزائی: جب کوئی صاحِب حجِ بَیت اللہ شریف کر کے خدمت میں حاضر ہوتے تو عاشقِ صادق ،  اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی طرف سے پہلا سوال یہی ہوتا کہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضری دی ؟  اگر جواب ہاں میں ملتا تو فوراً ان کے قدم چوم لیتے۔ ایک بار ایک حاجی صاحِب حاضر ہوئے ،  عادت کے مطابق پوچھا: سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضری ہوئی ؟  انہوں نے روتے ہوئے عرض کی: ہاں حضور !  مگر صرف دو دن قیام رہا ،  آپ نے قدم بوسی فرمائی اور ارشاد فرمایا:وہاں کی تو سانسیں بھی بہت ہیں ،  آپ نے تو بِحَمْدِاللہ دو دن قیام کیا۔[4]

وہاں اک سانس مل جائے یہی ہے زیست کا حاصل                                                                          وہ قسمت کا دھنی ہے جو گیا دَم بھر مدینے میں

 ( 4 ) قورمے کا شوربہ پینے کے لئے میزبان سے اجازت مانگی: اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ جبل پور  ( ہند )  میں ایک تاجر حاجی اکبر خان کے یہاں دعوت میں گئے تو قورمہ پسند آیا ،  اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ نے میزبان سے پوچھا:  ” خان صاحب !  یہ قورمہ میں پی سکتا ہوں ؟ “ خان صاحب نے ہاتھ جو ڑ کر عرض کی: حضور !  اجازت کی کیا حاجت ہے اور حاضر کر دوں گا۔ فرمایا: شوربہ تَرکاری ،  روٹی چاول کے ساتھ کھانے کے لئے دسترخوان پر رکھا جاتا ہے پینے کیلئے نہیں ،   ( مہمان کا اس کو ) پیناصاحبِ خانہ  ( میزبان )  کا مقصد نہیں ہوتا اس لئے اجاز ت کی ضرورت ہے۔[5]

قارئین ! صاحبِ تقویٰ اگر صاحبِ فتویٰ بھی ہو تو خود پر اسی طرح حکمِ شرعی نافذ کرتا ہے کہ کہیں ریڈ لائن پر پاؤں نہ آجائے اور شریعت کی خلاف ورزی ہوجائے۔

وہ جس کے زہد و تقویٰ کو سراہا شان والوں نے                                                                                             کہا یوں پیشواؤں نے ہمارے پیشوا تم ہو

  ( 5 ) طالبِ علم کو صدمے سے بچایا: علمِ دین کے ایک طالبِ علم مقبول احمد خان نے کہیں سے تعویذ لیا ،  جسے خاص وقت  ” شرفِ آفتاب “  میں سونے کی باریک پتری پر نقش کروانا تھا ،  اس نے سونے کا انتظام کرلیا ،  نقش کرنے والے بھی مل گئے لیکن شرفِ آفتاب کب ہوگا یہ معلوم نہیں تھا اور یہ وقت سال میں ایک ہی بار آتا تھا۔ اس نے اہلِ علم سے معلومات کیں تو پتا چلا کہ امامِ اہلِ سنّت ،  اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ اس فن میں ماہر  ( Expert )  ہیں۔ چنانچہ اس طالبِ علم نے  ” ٹونک “  سے اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی خدمت میں خط بھیجا۔ خدا کی شان جس دن یہ خط بریلی شریف پہنچا ،  اس کے دوسرے ہی دن شرفِ آفتاب تھا۔ اگر اعلیٰ حضرت عام ڈاک کے ذریعے جواب بھیجتے تو وہ خط وقت گزرنے کے بعد بریلی سے ٹونک پہنچتا ،  اس وقت طالبِ علم کو جو صدمہ ہوتا اس کا اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے ،  پھر اسے شرفِ آفتاب کے لئے ایک سال مزید انتظار کرنا پڑتا۔ لیکن ایک طالبِ علم کی اس تکلیف و صدمہ کا خیال فرماتے ہوئے اپنے خرچ پر تار ( ایک طرح کی کورئیر سروس )  کے ذریعے جواب دیا کہ کل نو بجے سے  ( شرفِ آفتاب )  شروع ہوگا اور ایک رات دن رہے گا۔ ٹھیک وقت پر طالبِ علم کو  ” تار “  مل گیا اور اس نے وقتِ مقررہ پر تعویذ کا نقش تیار کروا لیا۔اس طالبِ علم کے یہ احساسات ہیں کہ تعویذ کی انگوٹھی ہر وقت میرے ہاتھ میں رہتی ہے ،  جس وقت اس انگوٹھی کو دیکھتا ہوں اعلیٰ حضرت کی اس شفقت اور احسان کو یاد کرتا ہوں کہ ایک طالبِ علم کی ضرورت کا اُنہوں نے کس درجہ خیال رکھا ورنہ اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ معمولی غیر شناسا  ( اجنبی )  آدمی جوابی لفافہ بھی بھیج دے تب بھی اس کو جواب دینے کی زحمت برداشت نہیں کی جاتی نہ کہ اپنے پاس سے  ( خرچہ کرکے )  تار دینا اور یہ خیال کرنا وقت گزر جانے کے بعد اگر جواب دیا گیا تو کس کام کا ؟  واقعی یہ بڑوں کی بڑی بات ہے۔[6]

تمہیں پھیلا رہے ہو علم حق اکناف عالم میں                                                                                                                      امامِ اہلِ سنّت نائبِ غوثُ الوریٰ تم ہو

( 6 ) چغل خور کا وار ناکام بنا دیا:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کے چھوٹے بھائی مولانا محمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ نے اپنی اَہلیہ کو سونے کے کنگن بنوا کر دیئے ،  کسی چُغلخور نے امامِ اہلِ سنّت رحمۃُ اللہ علیہ سے شکایتاً اس بات کا ذکر کیا ،  تو آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے اس  ” چغل خور محبتوں کے چور “  کا وار نا کام کرتے ہوئے فرمایا:

اگر ننّھے میاں  ( مولانا محمد رضا خان )  نے یہ کَڑے اپنے مال سے بنوائے ہیں تو مجھے خوشی ہے کہ اللہ  کریم نے ان کو اتنا مال عطا فرمایا اور اگر میرے مال سے بنوائے ہیں تو مجھے خوشی ہے کہ ننھے میاں نے میرے مال کو اپنا مال سمجھا۔[7]قارئین !  کیا ہی خوب انداز ہے اور کیا ستھرا کردار ہے ،  واقعی امامِ اہلِ سنّت نے بڑا بھائی ہونے کا حق ادا فرمایا کہ اپنے بھائی کے بارے میں محبت بھرے جذبات کا اظہار کیا جبکہ دوسری طرف ہم موجودہ معاشرتی حالات پر غور کریں تو ہر دوسرے گھر میں چغل خوری نے فساد کروائے ہیں اور بھائی بھائی کا تو کیا اولاد اور ماں باپ بھی باہم دشمن بنے ہوئے ہیں۔

 ( 7 ) گھریلو ملازمین کو نکالا نہ جاتا:اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کے بھانجے مولانا حسنین رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کی دی ہوئی معلومات کے مطابق اعلیٰ حضرت کے گھر کے ملازم اگر کام کاج کے قابل نہ رہتے تب بھی نکالے نہ جاتے بلکہ خود گئے یا یہیں مرض الموت میں مبتلا ہوئے اگر گھر والے اُنہیں لے گئے تو ان کی وفات پر تنخواہ روزِ رحلت ( یعنی یومِ وفات )  تک کی ادا کی گئی اور جو کچھ امداد ہوسکی وہ کی گئی ،  کسی  ( ملازم )  کا نکالا جانا مجھے یاد نہیں۔[8]

قارئین !  میں جو واقعات یہاں نقل نہ کرسکا وہ کہیں زیادہ ہیں ،  انہیں بعد میں کسی عنوان کے تحت بیان کرنے کی نیت ہے ۔ اللہ پاک ہمیں فیضانِ اعلیٰ حضرت سے مالامال فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*  اسلامک اسکالر ،  رکنِ مجلس المدینۃ العلمیہ  ( اسلامک ریسرچ سینٹر ) ، کراچی


[1] حیاتِ اعلیٰ حضرت ،  ص 130 ،  131 ملخصاً

[2] حیاتِ اعلیٰ حضرت ،  ص179 ملخصاً

[3] حیاتِ اعلیٰ حضرت ،  ص266 ،  267 ملخصاً

[4] حیاتِ اعلیٰ حضرت ،  ص193 ملخصاً

[5] اکرام امام احمد رضا ،  ص96 ،  97 ملخصاً

[6] حیاتِ اعلیٰ حضرت ،  ص114تا116 ملخصاً

[7] امام احمد رضا خان کی نعتیہ شاعری ،  ص 37 ملخصاً

[8] سیرتِ اعلیٰ حضرت ،  ص146 ملخصاً


Share